سڑکوں پر خوفناک حادثے

سڑکوں پر خوفناک حادثے

ہفتے اور اتوارکی درمیانی شب کراچی سے شکار پور جانے والی بس کو نیشنل ہائی وے ، سپر ہائی وے لنک روڈ پر ہولناک حادثہ پیش آیا۔ مسافر بس میمن گوٹھ کے قریب مخالف سمت سے آنے والے آئل ٹینکر سے ٹکرا گئی، بس کا دروازہ نہیں کھل سکا اور اسی دوران بس میں موجود سی این جی سلنڈربھی پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی اوراس تصادم میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد (تادم تحریر) 67 ہو چکی تھی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بس میں صرف 48 سیٹیں تھیں یعنی گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر اس بس میں سوار تھے۔حادثے کے بعد فائر بریگیڈ کا عملہ وقت پر نہیں پہنچا، امدادی کارروائی تاخیر سے شروع ہوئی، جس کی وجہ سے آگ مزید شدت اختیار کر گئی۔ ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بس سے باہر بھی نہ نکل سکے اور اندر ہی جھلس گئے۔ حسب معمول اس حادثے کا ملبہ سڑک کی خراب حالت پر ڈال دیا گیا، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ممتاز جاکھرانی کا کہنا تھا کہ لنک روڈ کی خراب حالت کی وجہ سے بھی حادثات پیش آتے ہیں، بس والے کی غلطی نہیں تھی اسے ٹینکر نے مخالف سمت سے ٹکر مار ی، جبکہ ایس ایس پی ملیر کے مطابق حادثہ دونوں ڈرائیوروں کی لاپروائی کے باعث ہوا۔ شبہ ہے کہ بس میں موجود سی این جی سلنڈر ناقص تھا۔

یہ کوئی پہلا بڑا حادثہ تو نہیں ہے، چند ماہ قبل خیر پور کے قریب نیشنل ہائی وے ہی پر ایک انتہائی افسوسناک بس حادثہ ہو چکا ہے، اس میں بھی 60 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔اس وقت بھی سڑک کی حالت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا اور اب بھی یہی کہانی دہرائی جا رہی ہے ، اس حادثے کی رپورٹ میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر بیٹھے تھے، اس بس میں بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔اِسی نیشنل ہائی وے پراپریل2014 میں سڑک کی خراب حالت کے باعث بس ٹرالر سے ٹکرا گئی تھی اور 41 لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے علاوہ چھوٹے موٹے حادثات تو معمول کی بات ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2013ء میں 8,885 ٹریفک حادثے ہوئے، جن میں 4,672 افراد جاں بحق ہوئے ، صرف کراچی میں 2013 ء میں 644 لوگ حادثوں کا شکار ہوئے اور 7641 زخمی ہوئے اور یہ تعداد دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد سے زیادہ ہے۔

المیہ تو یہ ہے کہ پہلے حادثے کی یاد ابھی ذہن سے معدوم ہوتی نہیں کہ دوسرا حادثہ پیش آجاتا ہے،حادثوں پر حادثے ہوتے ہیں، لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں، متعلقہ محکمے صرف وقت پر ’کارروائی‘ دکھاتے ہیں اور پھر لمبی چپ سادھ لیتے ہیں، اپنے کان اور آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ حکومتی ارکان افسوس اور صدمے کا اظہار کرتے ہیں، لوگوں کی مدد کا اعلان بھی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ آئندہ ایسے حادثوں کی روک تھام کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے جاتے۔بس کمپنیوں کو کسی قسم کے قواعد و ضوابط کا پابند نہیں کیا جاتا۔بسوں میں جگہ کم ہوتی ہے لیکن اپنے منافع کے لئے وہ گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کر لیتے ہیں اورلوگ بھی اپنی جان کی پروا کئے بغیر ان بسوں میں سوار ہو جاتے ہیں۔ بسوں کی حالت بھی ’نازک‘ ہی ہوتی ہے، ان میں آگ لگنے کی صورت میں کوئی ایمرجنسی انتظام نہیں کیا جاتا، بسوں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اور فٹنس سرٹیفکیٹ کی تو ہمارے ملک میں سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔دنیا بھر میں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے پبلک ٹرنسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہمارے ملک میں تو بسوں اور ویگنوں کو دیکھ کر ہی خوف آنے لگتاہے۔ ڈرائیوروں کی کسی قسم کی کوئی تربیت نہیں کی جاتی، وہ موقع سے فوراًفرار ہو جاتے ہیں، سزا تو دور کی بات کوئی انہیں پکڑنے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی بعد ازاں کسی پر کوئی پابندی عائد کی جاتی ہے۔اول تو مقدمے درج نہیں ہوتے اور اگر درج ہو بھی جائیں تو سالہا سال چلتے رہتے ہیں۔ڈرائیور بس، ٹرک، رکشے اور گاڑیاں ایسے چلاتے ہیں جیسے یہ سڑک ان کی جاگیر ہے، ان کے علاوہ یہاں کوئی اور ہے ہی نہیں،پس وہ دہشت گردوں یا ڈاکوؤں کی طرح سڑکوں پر قابض ہو جاتے ہیں اورکھلے عام لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔ان کی جلد بازی ہی حادثوں کا سبب بنتی ہے۔بہت سے ڈرائیور لائسنس حاصل کئے بغیر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیتے ہیں۔

آج تک تمام سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حقوق اور مفادات کے لئے احتجاج کرتی آئی ہیں، لیکن کبھی کسی نے اس مسئلے کو کسی بھی پلیٹ فارم پر اٹھانے کی کوشش نہیں کی، کوئی مارچ سڑکوں اور ٹریفک کے قوانین کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی تو کیا جانا چاہئے۔ عام شہریوں کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے،موثر طریقے سے اپنے حقوق کی جنگ لڑنی چاہئے۔سڑکوں کو بہتر بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے سرے سے قانون سازی یا قوانین میں فوری ترامیم کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کے لئے سڑک پر آنے سے پہلے فٹنس سرٹیفیکیٹ کا حصول لازمی بنانا چاہئے، بغیر لائسنس کسی کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے، لائسنس کا اجراء بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونا چاہئے اور ڈرائیوروں کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ٹریفک حادثات دہشت گردی سے چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، اگر دہشت گردوں کو عبرت کا نشان بنانے کے لئے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد ہو سکتا ہے تو ٹریفک حادثوں میں ذمہ داران کے خلاف بھی سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔

مزید : اداریہ