کشمیر میں سی آر پی ایف اہلکار نفسیاتی امراض کا شکار ہوگئے

کشمیر میں سی آر پی ایف اہلکار نفسیاتی امراض کا شکار ہوگئے

سرینگر(کے پی آئی)جموں و کشمیر سمیت اور ہندوستان کی شورش زدہ ریاستوں میں تعینات سنٹرل ریزرو پولیس فورس سی آر پی ایف اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر ذہنی تناو کا سامنا ہے جس کی وجہ سے پچھلے 8 برس سے30 ہزار297 اہلکار فورس چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ اس بات کا خلاصہ سی آر پی ایف پر تیار کردہ ایک تجزیاتی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق تین لاکھ نفری پر مشتمل سی پی آر ایف میں متعدد اہلکاروں کو شادی شدہ اور گھریلو زندگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

جب کہ ان کے بچے بھی بہتر تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے ۔ رپورٹ میں اس جانب بھی اشارہ ہوا ہے کہ ان اہلکاروں کو انتہائی ناگفتہ بہہ حالات میں زندگی گزارنا پڑ رہے جس کی وجہ سے ان کی صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق اس فورس کا 80-85فیصد حصہ ہمیشہ شورش زدہ علاقوں میں ڈیوٹی پر لگا رہتا ہے ۔ 37فی صد نفری 10ریاستوں میں پھیلے نکسلیوں سے لڑ رہے ہیں جب کہ 28فی صد جموں وکشمیر میں شورش کے مقابلے پر ڈٹے ہیں 16فیصد کو شمال مشرقی ریاستوں میں در اندازی کے تدارک پر تعینات کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ سخت ترین حالات سے نپٹ رہے یہ اہلکار اپنے جاندانوں کی شادی غمی اور دیگر موقعوں پر ساتھ نہیں رہ پاتے جس کی وجہ سے ان میں اکیلے پن کا احساس پیدا ہو جا تا ہے اور ان کی شادی شدہ زندگی میں خلل پڑنے لگتے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں کوا پنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے صحیح رشتہ تلاش کرنے میں بھی دقتیں پیش آتی ہے ۔ ان کے بچوں کو والدین کی روک ٹوک بھی میسر نہیں رہتی اور اس کے کچھ معمالات میں منفی نتائج بھی سامنے آتے ہیں ۔ اس وجہ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ فورسز اہلکار اپنے بچوں کی شادی کبھی فوج یا نیم فوجی جوانوں سے نہیں کر واتے۔ اس تجزیاتی رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 85فی صد اہلکاروں کو اپنے کنبے ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ صرف 42فی صد سی آر پی ایف اہلکاروں کے بچے میٹرک سے آگے پڑھ پاتے ہیں۔ صرف 11.33فی صد بچے گریجویشن تک پڑھتے ہیں اور اس سے آگے پوسٹ گریجویش 3.54 فی صد بچے ہی کرتے ہیں۔ ان سب مسائل سے ان اہلکاروں کو شدید ذہنی دباو کا سامنا ہوتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے 8 برس سے30 ہزار297 اہلکار فورس چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ۔ رپورٹ میں سی آر پی ایف افسران کی طرف سے جوانوں کے مسائل کے تدارک کیلئے اقدامات نہ کئے جانے کو بھی اس حالات زار کیلئے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اہلکاروں کو ایک برس میں 2ماہ کی رخصت کا حق حاصل ہوتا ہے تاہم ان کے علاقوں میں درپیش حالات کی وجہ سے وہ یہ چھٹیاں مکمل طور سے کر ہی نہیں پاتے ۔

مزید : عالمی منظر