اقتصادی رابط کمیٹی کے بعض فیصلے کاروبارکیلئے نقصان دہ ہیں: عبدالباسط

اقتصادی رابط کمیٹی کے بعض فیصلے کاروبارکیلئے نقصان دہ ہیں: عبدالباسط

لاہور(کامرس رپورٹر)پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عبدالباسط نے اقتصادی رابط کمیٹی کے بعض فیصلوں کو کاروبار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ عبدالباسط کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافوں کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت کے مثبت اقدام بھی بے ثمر بن جانے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق بجلی کے نرخوں میں دو روپے یونٹ سے زیادہ اضافہ ، ٹیکنیکل لاسز صارفین سے وصول کرنے کا فیصلہ اور مسترد کردہ رینٹل پاور پلانٹس کو کام کرنے کی اجازت سے بجلی کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگے گی۔ صنعتی مصنوعات کی پیداواری لاگت اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ پاکستانی برآمدات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں فروخت مشکل اور ملکی برآمدات محدود ہوجائیں گی۔

 انہوں نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کے ثبوت ملنے پر سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پلانٹس مسترد کردئیے تھے۔ موجودہ حکمران رینٹل پاور پلانٹس پر سخت تنقید کرتے رہے کیونکہ ان سے حاصل ہونے والی بجلی بہت مہنگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مسترد کردہ منصوبوں پر وقت اور سرمایہ برباد کرنے کے بجائے فائدہ مند منصوبے شروع کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض دوست ملک کے اشتراک و تعاون سے موجودہ حکومت نے آتے ہی بجلی کے کچھ منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ انہیں فوری طور پر مکمل کرایا جائے۔ انہوں نے پھر موقف دہرایا کہ سستی بجلی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ کالاباغ ڈیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے حالیہ دنوں میں جہاں ضروری سمجھا تمام سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی پیدا کرلی جو خوش آئند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ توانائی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے لہذا کالاباغ ڈیم پر ہم آہنگی پیدا کرکے جنگی بنیادوں پر کام شروع کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل مصنوعات پر پانچ سے پندرہ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے سے مقامی مارکیٹ میں سٹیل مصنوعات قوت خرید سے باہر ہوجائیں گی اور انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہوگی۔ انہوں نے وزیر خزانہ پر زور دیا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور ریگولیٹری ڈیوٹی سے متعلقہ فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے۔

مزید : کامرس