سیکیورٹی انتظامات کے نام پر نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ

سیکیورٹی انتظامات کے نام پر نجی سکولوں کی فیسوں میں اضافہ

 لاہور(ذکاء اللہ ملک) نجی سکولوں نے محکمہ تعلیم کے احکامات ہوا میں اڑا دیے، سیکیورٹی اقدامات کو یقینی بنانے کیلئے بچوں کے والدین سے سیکیورٹی فیس کے نام پر پیسے بٹورنا شروع کر دیئے،محکمہ سکولز ایجوکیشن خاموش تماشائی بن گیا،والدین پریشان۔ گزشتہ روز نجی سکولوں میں بچوں کی حاضری معمول سے کم رہی جبکہ بچوں کے والدین نے نجی سکولوں میں سیکیورٹی کے انتظامات کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ سکولز ایجوکیشن کی طرف سے صوبائی دارالحکومت کے تمام نجی سکولوں کو اپنی سیکیورٹی موثر بنانے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جبکہ محکمہ تعلیم نے سیکیورٹی کی ذمہ داری سکولز مالکان پر ڈالتے ہوئے تمام حفاظتی اقدامات سکولز انتظامیہ کو کرنے کی واضح ہدایات جاری کر رکھی ہیں مگر شہر میں قائم نجی سکولوں نے سیکیورٹی کے نام پر بچوں کی فیسوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے باعث بچوں کے والدین میں تشویش پائی جاتی ہے۔شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے نجی سکولز ہیں جہاں ابھی تک سیکیورٹی انتظامات کا کوئی نام و نشان نہیں جبکہ نجی اکیڈمیوں کی کثیر تعداد میں بھی سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں اٹھارہی جس کے باعث والدین میں خوف وہراس پایا جاتا ہے اطلاعات کے مطابق نجی سکولز انتظامیہ نے ماہ جنوری کی فیسوں میں سیکیورٹی کے نام پر اضافی فیسوں کا مطالبہ بھی شروع کر دیا ہے اس حوالے سے آل پاکستان نجی سکولز فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ایک سکول عمارت میں حکومت کی طرف سے سیکیورٹی انتظامات کے تمام لوازمات پر 10لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے جو کہ 80فیصد سکولز مالکان ان خراجات کو برداشت نہیں کر سکتے،سی سی ٹی وی کیمروں،واک تھرو گیٹ،میٹل ڈیٹیکٹر،دیواروں کی اونچائی سمیت سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی سکولز مالکان کے بس کی بات نہیں۔ دوسری طرف مارکیٹوں میں سیکیورٹی آلات کی قیمتوں میں اضافہ بھی کر دیاگیا ہے،گلی محلوں میں قائم سکولوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ یہ اخراجات برداشت کر سکیں ،والدین کے مالی تعاون سے سیکیورٹی انتظامات مکمل کر سکتے ہیں۔آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر ادیب جاودانی کا کہنا ہے کہ ایلیٹ سکولوں میں پڑھنے والے امیر طبقے کے بچوں کو سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے جبکہ غرباء کے بچوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے،چھوٹے سکولوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1