امریکہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف پاکستانی فوج کی کاروائی سے مطمئن ہے

امریکہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف پاکستانی فوج کی کاروائی سے مطمئن ہے

                          واشنگٹن(اظہرزمان،بیوروچیف)پاکستانی فوج نے ضرب عضب کے دوران پاکستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے ٹھکانوںکوختم کرنے کے لئے فوجی کارروائی ہے امریکہ اس پر پوری طرح مطمئن ہے۔تاہم اسلام آباد میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے چوبیس گھنٹے کے قیام کے دوران امریکہ اور پاکستان کے درمیان وزارتی سطح پر ہونے والے ”سٹریٹجک ڈائیلاگ©“ کے اجلاس میں حقانی نیٹ ورک کے علاوہ لشکر طیبہ، افغان طالبان اوردیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن کا بھرپور جائزہ لیا جائے گا۔ امریکی حکومت کا یہ موقف واشنگٹن میں وزارت خارجہ کی اس بیک گراﺅنڈبریفنگ میں سامنے آیا جو جان کیری کے اسلام آباد پہنچنے کے فوراً بعد جاری کی گئی۔

بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ امریکہ بارڈر کے دونوں طرف دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے کے حق میں ہے جس کے لئے افغانستان اورپاکستان کی سکیورٹی فورسز کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر پوری ہم آہنگی سے کام کرنا چاہیے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چونکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں سول کے ساتھ فوجی سطح پر تعاون کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے اس لئے اس ڈائیلاگ میں امریکی جنرل آسٹن اور پاکستانی جنرل راحیل شریف کی شرکت کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ پاکستانی آرمی چیف کی امریکہ آمد پر اوراسلام میں سٹریٹجک ڈائیلاگ میں ایک مرتبہ پھر اس خطے میں موجود ہ تمام دہشت گردوں کی بلا امتیاز بیخ کنی کے کام کا جائزہ لیا جائے گا چاہے وہ تحریک طالبان پاکستان ہو،القاعدہ ہو، حقانی نیٹ ورک ہو یا لشکر طیبہ ہو۔

امریکی وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی صرف بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات بہتر بنانے کے لئے کوشاںنہیںہے۔پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط کو مضبوط بنانا بھی اس کو اولین ترجیحات میں شامل ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری جو لوگر اور برمین کے ہمراہ پاکستان کے لئے اقتصادی امداد کی قانون سازی کے معماروںمیںشامل ہیں وہ یقینا اسلام آباد میں اجلاس کے دوان اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لیںگے۔اس وقت امریکہ اورپاکستان کے درمیان تجارت کی سطح پہلے ہی پانچ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر بن چکا ہے۔ اس تجارت کو مزید فروغ دینے کی گنجائش موجود ہے جو ڈائیلاگ کی تھیم میں شامل ہے جس پر اقتصادی اورمالیاتی ورکنگ گروپ میں غورکیا جائے گا۔

کیری لوگر بل کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس کی مدت حال ہی میں ختم ہو گئی ہے لیکن امریکہ پاکستان کی سویلین امداد کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے۔امریکی حکومت علاقائی استحکام،اقتصادی ترقی ،توانائی ، تعلیم اور صحت کے شعبوںمیں تعاون کادائرہ وسیع کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کی بنیاد کیری لوگر بل کے ذریعے رکھی گئی تھی جس کے تحت 2009ءسے اب تک پاکستان کو چار ارب ڈالر اقتصادی امدادفراہم کی گئی ہے۔ اس امداد سے پاکستان کو چودہ سو اضافی میگا واٹ بجلی اور ایک ہزار کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر کے لئے فنڈ فراہم ہوا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کی بیس یونیورسٹیوں کے درمیان شراکت کے لئے بھی امداد دی گئی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ نے کیری لوگر بل پیکج کے بارے میں غلط فہمی دورکرتے ہوئے کہاکہ 2009ءکے اگست میں یہ منظور ہوا جس کے تحت سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر پاکستان کو پانچ سال کے لئے ملنے تھے اور کل امداد اسی حساب سے ساڑھے سات ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ در اصل ایک وعدہ تھا جس پر سالانہ عمل درآمد اسی صورت ممکن تھا جب کانگریس شرائط کے مطابق اسے سالانہ بنیاد پر منظور کرے ۔تکنیکی اعتبارسے پانچ سالہ مدت ختم ہو چکی ہے لیکن پائپ لائن میں امداد ی حجم موجود ہے۔ امریکی سفیر نے حال ہی میں پاکستان کو پانچ سو ملین سے زائد امداد دینے کا جو اشارہ کیا تھاوہ یہی پائپ لائن میں موجود رقم ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اس پیکج کے خاتمے کے باوجود سوملین امداد جاری رہے گی۔

امریکی وزارت خارجہ نے مزید واضح کیا کہ اکتوبر 2013ءسے شروع ہو کر ستمبر2014ءتک ختم ہونے والے مالی سال کے لئے پاکستان کو سرٹیفیکیٹ دینے کی بجائے استثنیٰ دیا گیا تھا۔تاہم ابھی تک پاکستان کو اس مالی سال کی امداد نہیں ملی۔

مزید : صفحہ اول