پیرس میں مظاہرہ عالمی راہنماﺅں کی شرکت، ہمارے لئے سبق!

پیرس میں مظاہرہ عالمی راہنماﺅں کی شرکت، ہمارے لئے سبق!
پیرس میں مظاہرہ عالمی راہنماﺅں کی شرکت، ہمارے لئے سبق!

  

 تجزیہ :چوہدری خادم حسین

پیرس میں لاکھوں افرادنے مل کر دہشت گردوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اظہار یکجہتی کے لئے یورپ اور دوسرے ممالک کے چالیس سربراہوں نے بھی شرکت کی ان میں ترکی کے وزیر اعظم بھی شامل ہیںیہ احتجاج پیرس کے ہفت روزہ پر دہشت گردی کی واردات کے خلاف ہوا۔ یہ جریدہ ناشائستہ اور توہین آمیز کارٹون چھاپ کر دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں کے دل توڑ چکاہے۔ تاہم اس طرح حملہ کر کے درجن سے زیادہ افراد کو قتل کرنے کو دہشت گردی ہی قرار دیا گیا کہ توہین آمیز خاکوں کا بدلہ لینے کا یہ طریقہ مناسب نہیں۔ خبرنگار بتاتے ہیں کہ احتجاج میں عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کے سربراہان حکومت نے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر دہشت گردی کی مذمت کی اس میں فلسطین کے صدر محمود عباس بھی شامل ہیں۔ فلسطین اس وقت یہودیوں کی دہشت گردی کا شکار ہے۔ ان ممالک نے پیرس کے واقعہ کی تو مذمت کی ہے لیکن کسی نے فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کا ذکر نہیں کیا۔ بلا شبہ پیرس میں میگزین پر اس طرح حملہ مناسب قرار نہیں دیا گیا۔ مسلمان ممالک اس کی توضیح بھی پیش کرتے ہیں۔ تاہم مسلمان یہ توقع کرتے ہیں یہی دنیا جو پیرس میں جمع ہوئی وہ فلسطین اور کشمیر (مقبوضہ) کے عوام پر ہونے والے مظام کا بھی نوٹس لیں گے یہ بھی تو دہشت گردی ہے جو ریاست کی سطح پر ہو رہی ہے اس ریاستی دہشت گردی کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟

ہم پاکستانیوں کو اس مارچ یا احتجاج سے سبق حاصل کرنا چاہئے، کہ مسئلہ فرانس تک محدود نہیں رہا دنیا بھر نے مذمت کی اور چالیس سربراہوں کی شرکت نے یورپ کے اتفاق رائے کو بھی ثابت کر دیا ایک ہم ہیں کہ قومی یکجہتی کے مظاہرے کو ابھی پورا ایک ماہ بھی نہیں ہوا کہ کیڑے نکالنا شروع کر دیئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں تو عمران خان نے 18 جنوری کے جلسے کو ڈیڈ لائن قرار دے کر جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر دیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ بات نہ مانی گئی تو وہ سڑکوں پر ہوں گے، اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کہتے ہیں کہ جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو دھرنا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے لئے دو روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں وہ اس سے قبل بھارت میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت اور بھارتی راہنماﺅں سے تفصیلی ملاقاتوں کے بعد آئے ہیں اور یہاں بھی پاکستانی قائدین عسکری قیادت اور دیگر حضرات سے ملاقاتیں کریں گے۔ بھارت میں تو انہوں نے دیگر امور کے علاوہ صدر اوباما کے دورہ بھارت کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔ اب پاکستان میں وہ جو بھی بات کریں گے پس منظر میں دورہ بھارت ہوگا اور یہ بھی کہ باراک اوباما بھی اسی ماہ بھارت آ رہے ہیں۔ جان کیری کو دوسرے امریکیوں کی نسبت پاکستان کے لئے بہتر خیال کیا جاتا ہے لیکن وہ اپنی ریاست کے مفاد کو پہلی ترجیح پر رکھیں گے اور یقیناً یہاں دہشت گردی کے حوالے سے بھی گفت و شنید ہوگی۔ ہمارے لئے پیرس کے احتجاج مارچ کو آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونا چاہئے۔

پیر کو تعلیمی ادارے کھل گئے اس مقصد کے لئے جو منصوبے بنائے گئے ان پر کماحقہ عمل نہیں ہوا۔ تاہم آرمی سکول پشاور سے لے کر ملک کے باقی شہروں کے تعلیمی ادارے کھل گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے بڑی تشہیر کی گئی اس سے عوام اور بچوں کے ذہنوں میں خدشات پیدا ہوئے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اچھا کیا کہ آرمی سکول کے طلباءکو خود خوش آمدید کہا اور یوں بے ساختہ اظہار یکجہتی کیا گیا ۔

حکومت اور حکومتی جماعت کی طرف سے دہشت گردی ہی کی بات کی جا رہی ہے اور سیاسی میدان میں مفاہمت کو بڑھایا نہیں جا رہا بلکہ اس میں کمی محسوس کی گئی ہے کہ پوری کی پوری حکومتی مشینری دہشت گردی کے خلاف مصروف عمل ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کا رخ بھی ادھر موڑ دیا گیا ہے۔ متحدہ کے احتجاج سے طے کر کے فضل الرحمن، عمران خان اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی شکایات اور تحفظات پر عملی پیش رفت کی بجائے بیانات پر اکتفا کیا جا رہا ہے حالانکہ حالات کا تقاضا قومی مفاہمت اور وحدت ہی ہے۔

اس سلسلے میں آصف علی زرداری بہت واضح ہےں ان کو اپنی پارٹی کے اندر سے بہت زیادہ دباﺅ کا سامنا ہے وہ پھر کہتے ہیں کہ مفاہمت کی ضرورت موجود ہے اور پیپلزپارٹی نے قربانی دے کر اسے قائم رکھا ہوا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ یہ موسم اور دور جلسوں کے لئے موزوں نہیں حکومت حالات پر توجہ کیوں نہیں دیتی۔

مزید : تجزیہ