صحرائے تھر کا مقدمہ

صحرائے تھر کا مقدمہ
 صحرائے تھر کا مقدمہ

  

ہر آنے والا دن تھر کے باسیوں کے لئے مسائل اور مصیبتوں کو ساتھ لے کر آتا ہے ،19ہزار کلومیٹر پر محیط تھر کی کل آبادی 16 لاکھ بتائی جاتی ہے ،تھرپار کر میں موجود تحصیلیں ،مٹھی ،اسلام کوٹ،ڈیپلو،چھاچھرو،ڈاہلی،ننگرپارکرکے اندر تقریباً23 سو گوٹھ ہیں ،جن میں قدرتی آفات،خشک سالی،قحط ،نمونیا،ڈائریا،پیٹ اور دیگر امراض سے بچوں کی اموات کا ہونا معمول سا بن گیا ہے ،جس کی بنیادی وجہ غذائی قلت اور صحت کا فقدان ہے۔ یہاں پینے کے لئے صاف پانی کا حصول بہت مشکل بنادیا گیا ہے ، اگر صحت کی بات کی جائے تویہاں کل 4تحصیل ہسپتال ہیں ،10صحت کے مراکز، 135کے لگ بھگ ڈسپنسریاں موجود ہیں ،یہ سب سرکاری اعداد و شمار ہیں مجھے جہاں جہاں صحت کے مراکز ڈسپنسریوں اور تحصیل ہسپتالوں میں جانے کا اتفاق ہوا تو یہ تمام کے تمام نہ ہونے کے برابریابند دکھائی دیئے جو ڈسپنسریاں کام کررہی ہیں ان میں عملے اور ڈاکٹر کی عدم ستیابی ،ادویات اور ایمبولینسوں کا نہ ہونا دکھائی دیا۔ ان سب کے لئے298 ڈاکٹروں کی پوسٹیں موجود ہیں، مگر سب خالی ؟۔۔۔ ہسپتال کے چاروں طرف پرائیویٹ کلینک ہیں، ان کو چلانے والے ڈاکٹر سرکار سے تنخواہیں لیتے ہیں ، مگرصرف اپنے پرائیویٹ کلینک پر ہی بیٹھنا پسند کرتے ہیں ،آج کل پھر سے آئے روز بچوں کی غذائی قلت اور نمونیا سے جاں بحق ہونے کی خبریں میڈیا میں گردش کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ۔

گزشتہ تین سالوں اور رواں سال میں اب تک تقریباًسولہ سو کے قریب بچے غذائی قلت سے ہلاک ہوچکے ہیں ،آپ مٹھی ہسپتال کا ہی جائزہ لے لیجئے اس میں بچو ں کا انتہائی نگہداشت وارڈ ٹرینڈاور تیکنیکی عملے سے مکمل محروم ہے یہاں عام دنوں میں صرف دو یا تین آدمی ہی کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے، ان میں اضافہ صرف وی آئی پی موومنٹ کے وقت خود بہ خود ہوجاتاہے، مگر اس کے باوجود سب اچھا کی رپورٹیں۔۔۔معدنی دولت کے ذخائر سے مالامال ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے تھر کی صورت حال پر سنجیدہ نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے،اس کی کچھ کوششیں پرویز مشرف دورمیں بھی ہوئیں، مگر پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومت میں تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے کی منصوبہ بندی تقریبا 9 سال قبل کی تھی ،اس سے منسلک تین منصوبے تھے جن کی لاگت کے لئے12ارب 92کروڑ کی رقم مختص کی گئی تھی ،مگر کچھ حاصل وصول نہ ہونے کے باوجود نوسال بعدسندھ حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کی لاگت کو بڑھا دیا گیا, یعنی ان منصوبوں کو 42ارب تک پہنچادیاگیا،اس میں پہلے منصوبے کے تحت میر پورخاص کے شہر سے ایل بی اوڈی سیم نالے سے ایک نیا سیم نالانکال کر اسے ضلع عمرکوٹ کے علاقے نبی سر تک لانا تھا،اس کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے آراوپلانٹ کے ذریعے42کلومیٹر لمبی پائپ لائن کے ذریعے تھر میں کوئلے کے ذخائر تک پہچانا تھا اسی طرز کے دو اور منصوبوں پر تھر میں کام شروع کیا گیاجن کی لاگت مختلف رکھی گئی تھی جس میں کارکردگی نہ ہونے کے باجود بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔

اسی انداز میں آراوپلانٹس کی سندھ بھر میں لگنے کی بات کی جائے تو اس میں تھرکے اند ر حکومت کی من پسند پرائیویٹ کمپنی، جس کو ٹھیکہ دیا گیا یعنی بغیر کسی جانچ پڑتال اور ٹینڈر کے اور سب سے بڑھ کر کام شروع ہونے سے پہلے ہی منصوبوں کی ادائیگی بھی کی گئی ۔جن کی کارکردگی کہیں سے دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی ان اعدادوشمار کی تفصیلات سے کسی کوآگاہ کیاجاتا ہے۔پاکستان میں پسماندہ ترین مقامات میں سے سب سے زیادہ پسماندہ تصور کیا جانے والا صحرائے تھربھوک اور غربت کے ہاتھوں اکثر صومالیہ کے قحط زدہ علاقوں کے مشابہ لگتا ہے ،یہاں کے بھوک اور پیاس میں بلکتے عوام سڑکوں،سکولوں ،بجلی ،گیس اور سب سے بڑھ کر صحت کی سہولیات سے بھی محروم ہیں !ایک مدت بیت گئی مگر تھر کے لوگوں کے جسموں سے بھوک نہ نکل سکی،مرنے والے بچوں کی ماؤں کی حالت اگر ایسی ہو کہ ان کی چھاتیوں میں دودھ تک موجود نہ ہو تو اس کا بچہ کمزور نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا؟ابھی جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو ایک نجی ٹی وی پر یہ خبربریک کی جارہی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ محکمہ صحت میں8کروڑ 80لاکھ کی بے ضابطگیوں کی آڈٹ رپورٹ جاری اور یہ کہ محکمہ صحت نے ایک سال میں غیر حاضر ڈاکٹروں کو 30لاکھ روپے ادا کردیئے ، جیسا مَیں اوپر تحریر کر چکا ہوں یہاں کے ڈاکٹروں کو جنھیں بغیر ہاتھ پاؤں ہلائے تنخواہیں دی جارہی ہیں !

سندھ حکومت جب تھر میں رواں سال یعنی سال نو میں جاگی ہے تو اس وقت تک 45بچے غذائی قلت یا نمونیا کے باعث جاں بحق ہوچکے ہیں ایسے میں سندھ حکومت روایتی انداز میں مٹھی میں ایک بار پھر میلہ لگانے کا سوچتی ہے، یعنی سرکٹ ہاؤس کی یاترا کا پلان،اور مٹھی ہسپتال کا طواف!!ساتھ ہی میڈیا اور جاں بحق بچوں کے والدین پر ایک اور احسان کردیا جاتا ہے کہ سول ہسپتال مٹھی کا بجٹ دوگنا کردیا جاتا ہے یعنی ایک کروڑ چالیس لاکھ سے بڑھا کر اسے 2کروڑ 80لاکھ کرنے کا اعلان کردیا جاتا ہے۔کوئی سائیں سرکار سے پوچھے کہ اس میں مرنے والوں کا کیا فائدہ ہے ؟ان پیسوں کے بڑھنے سے بیوروکریسی اور متعلقہ لوگوں کو تو فائدہ مل سکتا ہے کسی غریب کو نہیں کیونکہ،جو رقم پہلے ایک کروڑ چالیس لاکھ ملتی تھی اس کا ہی اگر درست استعمال ہوجاتا تو بچوں کی ہلاکتوں میں کمی کے ساتھ انہیں صحت کی بہتر سہولت بھی مل سکتی تھی،اس وقت جہاں سینکڑوں معصوم بچوں کی زندگیوں کا سوال ہے، وہاں پر ان کے روزگار کا واحد ذریعہ یعنی80لاکھ کے قریب لائیو اسٹاک کو بھی خطرہ ہے،لیکن لگتا ہے کہ سندھ حکومت شاید اس بار کچھ سنجیدہ سی دکھائی دیتی ہے۔ قارئین کرام! مَیں نے صرف تھر نہیں بلکہ پورے سندھ کے تمام دوردرازگوٹھوں کے دورے کئے اور ان غریبو ں کی زندگیوں اوران کے مسائل کو غور سے دیکھا بھی اور سنا بھی ، اس بار جب میڈیا میں غذائی قلت سے بچوں کی اموات کا شور سنائی دیا تومَیں نے دیکھا سندھ کے ایک اہم وزیر صوبائی وزیر خوراک ناصر حسین شاہ متعلقہ علاقوں میں جاپہنچے اور اپنی سی کوششوں کاآغاز کیا،اس دوران محترم وزیر صاحب نے مجھ سے سابقہ مشیر ریلیف ہونے کے ناطے میرے تجربات سے مستفید ہونے کاسوچا جو کہ ایک اچھا عمل تھا ۔مجھ سے بات کرتے ہوئے ان کا انداز سنجیدہ تھا جس پرخوشی اور اطمینان کا ہونا ایک قدرتی عمل تھا،موصوف اس سے قبل سندھ میں وزیربلدیات تھے تو بلدیاتی کاموں میں جیسے ہی بہتری آنا شروع ہوئی تو ان کا محکمہ تبدیل کردیا گیا۔

مشیراطلاعات مولا بخش چانڈیو بھی اس مسئلے کے حل کے لئے کافی سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں!دیر آید درست آید۔۔۔ اللہ کرے کہ ان کی سنجیدگی سے سندھ کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت کو اس وقت فوری طور پر مٹھی میں ایک اور نیا شہر بسانے کی بجائے اپنے منتخب نمائندوں کی یہ ذمہ داری لگانی چاہئے کہ وہ اسلام کوٹ ،چھاچھرو،ننگر پارکر ،ڈاہلی ،ڈیپلوکے دوردراز گوٹھوں میں جائیں اوراپنے ساتھ موبائل میڈیکل ٹیمیں چائلڈاسپیشلسٹ ڈاکٹر اور امدادی سامان بھی لے کر جائیں ، جو ان بچوں اور ماؤں میں امراض کی تشخیص ان کوادویات دینے کے ساتھ ان کے گھروں میں راشن بیگز بھی فراہم کرے تاکہ ادویات کے ساتھ ان کی غذائی کمی کوبھی فوری طور پر پورا کیا جاسکے ،جس کے ساتھ 135ڈسپنسریوں میں صحت کی مکمل سہولتیں فراہم کی جائیں ۔،تحصیل ہسپتالوں کی حالت زار کودرست کیاجائے ،جہاں ڈاکٹروں کی بروقت موجود گی کو یقینی بنایا جائے اور ان ہیلتھ یونٹوں کے مابین ان تمام گوٹھوں کے راستے بھی در ست کئے جائیں تاکہ ٹرانسپورٹ کی آمدو رفت بہتر ہوسکے۔یہ سب کچھ ہوا تو سارا لوڈ مٹھی سول ہسپتال کی بجائے متاثرہ لوگوں کے نزدیک ترین صحت کے مراکز میں منتقل ہوجائے گا ۔ایک بات اور حکومت اگر غذائی قلت کو پورا کرنے کے لئے دوکلو گندم دینے کا اعلان کرتی ہے تو اس کے لئے سندھ حکومت کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دو کلو گندم کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ! ان کو ادویات اور فوڈبیگ ان کی دہلیز پر دیا جائے ،گندم کی بجائے پسا ہوا آٹا دیا جائے ، ان کے پاس گندم پسوانے کے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ کھانے کے پیسے نہیں وہ کہاں سے گندم پسواتے پھریں گے ،سندھ میں گندم سکینڈل نے گزشتہ برس بھی حکومت سندھ کو بہت بدنام کیا تھا ۔اس میں چاہے اسلام کوٹ میں موجود 200گندم کی بوریوں کے بازار میں بکنے کا معاملہ ہو یا پھر کوٹری میں قائم گندم کے ذخائر میں ہزاروں بوریوں میں گندم کی بجائے مٹی بھری ہونے کا انکشاف ہو ۔جن کی تحقیقات کو دباتے دباتے دوبارہ سے یہ دن آن پہنچا ہے ۔

دوستو !تھر سندھ کے جنوب اور مشرق میں انڈیا کی سرحد پر موجود ہے گزرے وقتوں میں یہ بہت بڑا ضلع تصور کیا جاتا تھا، جسے بعدازاں تقسیم کردیا گیاجس سے میر پور خاص ،عمر کوٹ اور تھر پارکر کا وجود سامنے آیا ، ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ان علاقوں کی حالت پر صرف آنسو ہی بہائے جاسکتے ہیں۔ لہذاحکومت کو اب سنجیدہ ہوجانا چاہیئے۔ کوئلے اور قدرتی ذخائر سے مالا مال تھر آج بھوک اور افلاس کی تصویر بنا ہوا ہے،مَیں اس سے قبل بھی بہت کچھ لکھ چکا ہے ان مرتے ہوئے معصوم بچوں کا مقدمہ لڑنا اپنا فرض سمجھتا ہوں،ان کی آواز بلند کرنے کے لئے ہر طرح سے سندھ حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں ۔مَیں تمام ذمہ داران کو یہ باور کروادینا چاہتا ہوں کہ ڈریں اس وقت سے جب یہ مقدمہ عوام کی عدالت سے اللہ کی عدالت ،یعنی اس کی بارگاہ میں پیش ہوگا! تب ہمارے کام نہ تو آراوپلانٹس سے کمائی گئی دولت آئے گی نہ بیماریوں کی ادویات کو بیچ کر حاصل کی گئی دولت کام آئے گی، اور نہ ہی گند م کی بوریوں کے اسٹاک ہمیں بچا سکیں گے۔ اس دن یہ تمام پروٹوکول مفلس لوگوں کی بدعاؤں کے آگے ریزہ ریزہ ہوجائے گا ،اگر ہمارے کام آئیں گے تو وہ اچھے کام ہیں، جنہیں تمام وسائل ہونے کے باوجود ہم نہیں کرپاتے ۔

مزید :

کالم -