خاص لوگوں کے لئے حکومت پنجاب کے خاص اقدامات

خاص لوگوں کے لئے حکومت پنجاب کے خاص اقدامات
 خاص لوگوں کے لئے حکومت پنجاب کے خاص اقدامات

  

زندہ اور متحرک معاشرے سپیشل اور معذور افراد کی ضروریات سے نہ صرف آگاہ ہوتے ہیں، بلکہ انہیں پورا کرنے کے لئے ضروری اقدامات بھی اٹھاتے ہیں۔ سپیشل افراد کی معذوری اور جسمانی کمی ان کی صلاحیتوں کے اظہار میں قطعاً حائل نہیں ہونے دی جاتی، بلکہ انہیں مختلف مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ سپیشل افراد کی بحالی اور انہیں معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کے لئے دُنیا بھر میں حکومتی اداروں کے ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی بھرپور کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان بالخصوص پنجاب میں سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ بیت المال سپیشل افراد کی بحالی اور تعلیم و تربیت کے لئے بھرپورکردار ادا کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ہدایت پر معذور اور سپیشل افراد کے لئے پالیسی سٹرٹیجی، قانونی طریقہ کار، بھرتی، ٹریننگ اور ان کی بحالی کے لئے خصوصی اقدامات کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جا رہا ہے۔ سپیشل افراد کے لئے پی ڈبلیو ڈی پالیسی مستقبل میں بھی اہم دستاویز تصور کی جائے گی۔ پالیسی تیار کرنے کا مقصد سپیشل افراد کے لئے تعلیمی سہولیات کی فراہمی، انہیں ہنرمند بنانا، ان کی بحالی اور معذوری کی وجہ سے ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے مستقل اسباب پیدا کرنا ہیں۔پالیسی سازی میں سپیشل افراد کے لئے عالمی معیار اور قوانین کے علاوہ زمینی حقائق کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔

سرکاری ادارں میں قوت گویائی اورسماعت سے محروم، بصری کمزوری کے شکار افراداور جسمانی اعضاء کی معذوری اور کمزوری کے شکار افراد کے لئے ملازمتوں میں تین فیصد کوٹے کی پالیسی کامیابی سے نافذ کی جاچکی ہے۔حکومت کی طرف سے نجی اداروں میں سپیشل افراد کی ملازمتوں کے لئے ترغیب دی جا رہی ہے۔حکومت پنجاب کی طرف سے سپیشل افراد کے لئے 3500 ملازمتوں کا اعلان کیاگیا ہے، جن میں سے 1700 آسامیوں پر سپیشل افراد کو بھرتی کیا جا چکا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد سپیشل افراد کے لئے ملازمتوں کے مزید مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم حکومتی اداروں میں ملازمتوں کے مواقع محدود ہونے کے باعث نجی اداروں کو بھی سپیشل افراد کی بحالی کے لئے آگے بڑھ چڑھ کر اپناکردار ادا کرنا چاہئے۔ حکومتی کاوشوں کے نتیجے میں میٹرو کیش اینڈ کیری لاہور ، راولپنڈی اور اسلام آباد نے سپیشل افراد کو ملازمتوں کی فراہمی کی پیشکش کی ہے، جبکہ فوڈچین کے عالمی شہرت یافتہ ادارے نے لاہور میں ایک برانچ میں تمام تر ملازمتیں سپیشل افراد کے لئے مختص کر دی ہیں۔ سپیشل افراد کو ان کے کوٹے کے مطابق ملازمتیں فراہم نہ کرنے والے نجی اداروں سے جرمانہ وصول کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ جرمانے کی صورت میں وصول ہونے والی رقوم سپیشل افراد کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پنجاب کے 36اضلاع میں سپیشل افراد کو ملازمتوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے اور انہیں سہولتیں فراہم کرنے کے لئے خصوصی سہولت سنٹر ز کام کر رہے ہیں، لاہور میں صوبائی ہیڈکوارٹر کے طور پر ایک خصوصی سیل ان کو ملازمتوں کی فراہمی میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے کام کر رہا ہے اور سپیشل افراد کے لئے خصوصی ویب سائٹ بنائی جاچکی ہے جسے وقتاً فوقتاً ضرورت کے مطابق اپ گریڈ بھی کیاجاتا ہے۔

یہ امر اظہرمن الشمس ہے کہ خصوصی افراد جسمانی مشقت کے کام سہولت سے سرانجام نہیں دے سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب معاشرے کے ان خوبصورت اور ناگزیر افراد کے لئے ’’سوفٹ جاب‘‘ کی نشاندہی کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔تاہم رائج الوقت سسٹم میں سپیشل افراد کے لئے سوفٹ جاب کی نشاندہی کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ سپیشل افراد کے لئے سوفٹ جاب کی نشاندہی کا طریقہ کار وضع کرنے کے لئے وزیراعلیٰ کی ہدایت پر خصوصی اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں تاکہ ہمارے معذور بھائیوں کو کسی تکلیف اور دشواری کا سامنا نہ ہو۔ سپیشل افراد کے لئے پالیسی کو کامیاب بنانے کی غرض سے مستنداعداد و شمار کا حصول بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب بصارت کی کمزوری کاشکار افراد کی رجسٹریشن شروع کر چکی ہے تاکہ پالیسی سازی میں دشواری نہ ہو۔ این جی او سیکٹر کی استعداد کار کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کے لئے پنجاب ویلفیئر ٹرسٹ(فار ڈس ایبلز)قائم کیاگیا ہے۔پنجاب ویلفیئر ٹرسٹ (فار ڈس ایبلز) این جی اوزکے ذریعے حکومتی امداد کو سپیشل افراد کے لئے استعمال یقینی بنا رہا ہے۔این جی اوز کے ذریعے جسمانی کمزوری کے شکار افراد کو ٹریننگ بھی فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت نے سپیشل افراد کی ٹریننگ کے لئے مختص فنڈز میں خاطرخواہ اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نادار سپیشل افراد کو مالی معاونت بھی فراہم کر رہی ہے، بلکہ پنجاب بیت المال بھی میسر وسائل کا 10فیصد سپیشل افراد کے لئے مختص کرچکا ہے۔ محکمہ عشر و زکوٰۃ بھی ضرورت مند سپیشل افراد کو مالی امداد فراہم کرنے کے لئے معاونت کرے گا۔ حکومت امسال پنجاب کے 13اضلاع میں بصارت کی کمزوری کے شکار افراد کو اندھاپن سے بچانے کے لئے لوویژن کلینکس قائم کرے گی۔مذکورہ لو ویژن کلینکس کے قیام کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ حکومت پنجاب محکمہ ہیلتھ کی معاونت سے دیگر اضلاع میں بھی بصارت کی کمزوری کے شکار کے بروقت علاج کے لئے لوویژن کلینک قائم کرے گی۔

حکومت پنجاب نے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ہدایت پر جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لئے خاطرخواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لئے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں داخلے کے لئے عمرکی حد ختم کر دی گئی ہے اور داخلہ حاصل کرنے پر سپیشل افراد کے لئے تمام تر واجبات معاف کر دیئے جائیں گے۔ ان میں ٹیوشن فیس، ہاسٹل فیس اور یوٹیلٹی واجبات شامل ہیں۔ پی ایچ ڈی اور ایم فل میں داخلے کے لئے ہائرایجوکیشن میں معذور افراد کے لئے ایک سیٹ کا کوٹہ مختص کیاگیا ہے۔ سرکاری یونیورسٹی میں داخلے پر معذور افراد کو خصوصی طور پر لیپ ٹاپ فراہم کیا جائے گا اور تعلیم مکمل کرنے پر خصوصی وہیل چیئر فراہم کی جائے گی۔ سپیشل افراد کے لئے خصوصی طور پر بینکنگ سروسز فراہم کرنے کا اہتمام کیاگیا ہے۔ مقابلے کے امتحانات جیسے سی ایس ایس اور پی ایم ایس وغیرہ میں معذور افراد کے لئے خصوصی طور پر معاون کو ساتھ بٹھانے کی اجازت بھی دی جاتی ہے۔ تمام سرکاری عمارات میں معذور افراد کے لئے سپیشل راستے، خصوصی ڈھلوانی راستے، پارکنگ اور ٹائلٹ کے علاوہ داخلے پر وہیل چیئر فراہم کرنا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ سپیشل افراد کو سپیشل سی آئی این سی (شناختی کارڈ) بھی جاری کیا جاتا ہے۔ سپیشل افراد کو فضائی سفر ، ریلوے اور روڈ کے ذریعے سفر کرنے پر کرائے میں50 فیصد رعایت دی جاتی ہے۔ سپیشل افراد کو کار یا ’’ڈس ایبلٹی فرینڈلی وہیکل‘‘ ڈیوٹی فری امپورٹ کرنے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ حکومت پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز میں سپیشل افراد اور ان کے خاندان کو مفت علاج کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے جبکہ حکومت پنجاب کی طرف سے سرکاری اداروں میں ملازمت کے لئے عمر کی بالائی حد میں 10سال مزید رعایت بھی فراہم کی گئی ہے۔

صوبہ بھر میں معذور افراد کے لئے تین فیصد کوٹے کے حساب سے 3799آسامیاں ہیں۔ 3435 آسامیاں مشتہر کی جاچکی ہیں،جبکہ 1718آسامیوں پر بھرتی کی جاچکی ہے۔ ان میں جسمانی معذوری کے شکار 1183افراد بصارت کی کمزوری کے شکار 358افراد ، گونگے بہرے 167افراد، جبکہ دیگر جسمانی معذوریوں کے شکار39افراد شامل ہیں۔ صوبہ بھر میں کمزوری بصارت کے شکار 590افراد عارضی ملازمتوں پر کام کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب جسمانی معذوری کے شکار افراد کو ملازمتوں کی فراہمی کے لئے 70لاکھ 81ہزار روپے کے فنڈز مختص کر چکی ہے۔حکومت پنجاب کے تحت کام کرنے والے 1582اداروں میں معذور افراد کے لئے 9535آسامیوں کا کوٹہ ہے، جس میں سے 6519 افراد پہلے ہی ملازمتوں پر کام کر رہے ہیں،جبکہ مزید 3068 آسامیوں پر سپیشل افراد کو ملازمت فراہم کی جائے گی۔ کمزوری بصارت کے شکار25ہزار افراد کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے۔حکومت پنجاب سپیشل افراد کی سہولت کے لئے خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے، جس کے لئے 975سے زائد مقامات پر خصوصی انتظامات کئے جاچکے ہیں۔

مزید :

کالم -