کیا آپ کو معلوم ہے زیادہ تر ائیرلائنز کے پائلٹس پر داڑھی رکھنے پر پابندی ہے ؟ لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

کیا آپ کو معلوم ہے زیادہ تر ائیرلائنز کے پائلٹس پر داڑھی رکھنے پر پابندی ہے ؟ ...
کیا آپ کو معلوم ہے زیادہ تر ائیرلائنز کے پائلٹس پر داڑھی رکھنے پر پابندی ہے ؟ لیکن اس کی وجہ کیا ہے؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  

لندن (نیوز ڈیسک)کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ بیش تر پائلٹ یا تو کلین شیو ہوتے ہیں یا صرف مونچھیں رکھتے ہیں۔ شائد ہی کبھی کوئی داڑھی والا پائلٹ آپ کی نظر میں آئے۔ دیگر شعبوں کے برعکس ہوا بازی کے شعبے میں یہ رجحان کیوں پایا جاتا ہے؟ ویب سائٹ mybeardandcompany.com کی ایک رپورٹ میں اس سوال کا حیرتناک جواب سامنے آ گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق 12 ہزار 500 فٹ سے زائد بلندی پر پرواز کرنے والے فضائی عملے کو آکسیجن کی فراہمی ضروری قرار دی جاتی ہے تاکہ بوقت ضرورت اس کا استعمال کیا جا سکے۔ اکثر مسافر طیارے 30 سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں ، اور اس پرواز کے دوران کسی بھی وقت آکسیجن کی فراہمی کیلئے ایمر جنسی ماسک استعمال کرنے کی ضروت پیش آسکتی ہے۔ پلاسٹک کا یہ ماسک منہ پر پہنا جاتا ہے تو یہ ناک، منہ اور ٹھوڑی کو ڈھانپ لیتا ہے۔ ایک باریک بائپ کے ذریعے آکسیجن اس ماسک میں داخل ہوتی ہے اور منہ کے سامنے ماسک کے اندر خالی حصے میں جمع ہوتی ہے۔ یہاں سے سانس کے ذریعے یہ جسم میں داخل ہوتی ہے اور جب سانس باہر نکالا جاتا ہے تو کاربن ڈائی آکسائیڈباریک سوراخوں کے ذریعے باہر نکل جاتی ہے۔

کلین شیو ہونے کی صورت میں یہ ماسک منہ کو پوری طرح ڈھانپ لیتا ہے اور آکسیجن لیک ہونے کا خطرہ نہیں رہتا، مگر داڑھی ہونے کی صورت میں یہ منہ پر پوری طرح فٹ نہیں ہوتا اور آکسیجن لیک ہو کر ضائع ہوتی رہتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بیش تر پائلٹوں کی داڑھی نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ایمر جنسی کی صورت میں آکسیجن ماسک کا استعمال بہتر طور پر کرنا مقصود ہوتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس