دوطرفہ تجارت کم ہو کر 1.5ارب ڈالر کی نچلی سطح پر آگئی : پاک آفغان جوائنٹ کمیٹی

دوطرفہ تجارت کم ہو کر 1.5ارب ڈالر کی نچلی سطح پر آگئی : پاک آفغان جوائنٹ کمیٹی

 کراچی (این این آئی)پاکستان، افغانستان جوائنٹ کمیٹی کے وفد نے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت میں حائل مختلف رکاوٹوں کو مؤثر طریقے سے دور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2015 میں دوطرفہ تجارت کم ہو کر 1.5 ارب ڈالر کی نچلی سطح پر آگئی اور 2016 میں بھی مسلسل کمی واقع ہوئی ۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری( کے سی سی آئی ) کے دورے کے موقع پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔ وفد میں شامل ممبران نے کہاکہ ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے برق رفتاری سے کام کرنا ہو گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب تاجربرادری مل جل کر کام کریں اور دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب لانے میں پْل کا کردار ادا کریں۔ اجلاس میں چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کراچی چیمبر سراج قاسم تیلی،کے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو، سینئر نائب صدر آصف نثار، نائب صدر محمد یونس سومرو، رکن قومی اسمبلی قیصر احمد شیخ،سابق ڈپٹی منسٹر برائے ٹریڈ و کامرس افغانستان مزمل شنواری،سابق پاکستانی سفیر میاں ثنااللہ، افغانستان کی وزارت دفاع کی مشیر بیگم وازہما فروغ،سینئر صحافی محمد طاہر و دیگر بھی شریک تھے۔وفد کے اراکین نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو باآسانی دور کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے دونوں جانب سے تندہی اور ایمانداری سے کام کرنا ہوگا۔انہوں نے افغانستان لے لئے جانے والی مصنوعات کی کراچی میں قائم پورٹس پر تاخیر سے کلیئرنس پر گہری تشویش کااظہار کیا اور کہا کہ کئی پاکستانی سپلائرز بھی غیرمعیاری اور ناقص اشیا خصوصاً فارما مصنوعات افغانستان برآمد کرتے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع کی مشیر بیگم وازہما فروغ نے کہاکہ پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے غیر معیاری اشیا کی سپلائی کی وجہ سے افغانی عوام نے پاکستانی اشیا خریدنے کو ترجیح نہیں دے رہے۔انہوں نے موجودہ تجارتی حجم میں مزید کم ہونے سے بچانے کے لیے اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینے پر زور دیا۔چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کراچی چیمبر سراج قاسم تیلی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی تعلقات نسبت سیاسی تعلقات زیادہ اہم ہیں۔ دونوں اطراف کی تاجر برادری کو موجودہ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے مواقعوں کو تلاش کرنا ہو گا اور یہ عمل فاسٹ ٹریک ہونا چاہئے۔ انہوں نے پاک افغان جوائنٹ کمیٹی کے اراکین کو مکمل حمایت اور تعاون کی یقین دلاتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر پہلے ہی دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور جوائنٹ کمیٹی کے ساتھ بھرپور تعاون پر مسرور ہے جس کے قیام کا مقصد دوطرفہ تجارت میں اضافے اور عوام کے عوام سے رابطے استوار کرنا ہے۔اس ضمن میں کراچی چیمبر نے ایک فوکل پرسن نامزد کرنے کو تیار ہے جو پاک افغان جوائنٹ کمیٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون اور انکوائری میں مدد فراہم کرسکے گا جس سے باہمی رابطے یقینی طور پر بہتر ہوں گے اور مختلف مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ دوطرفہ تجارت کے مزید فروغ کے لیے پاک افغان جوائنٹ کمیٹی کے مدد کے لیے ہمارے دروازے کھلے رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر کے ہمارے بعض دوست کامیابی کے ساتھ پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کو چلا رہے ہیں جو تاجربرادری کو ایک دوسرے کو قریب لانے میں کامیاب رہا ہے۔سراج قاسم تیلی نے کہاکہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور مالی و صنعتی مرکز ہونے کے ساتھ افغانستان کی تاجربرادری کو مشترکہ شراکت دار کے شاندار مواقع اور سہولتیں فراہم کرتا ہے۔ کراچی چیمبر اس حوالے سے ہمیشہ ہر ممکن تعاون اور مدد فراہم کرتا رہے گا۔انہوں نے پاک افغان جوائنٹ کمیٹی کے اجلاس کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں اہم ثابت ہونے کی امید اور توقع بھی ظاہر کی۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ مالی سال2016کے دوران پاکستان نے افغانستان کو 1,230ملین ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کیں جبکہ 41ملین ڈالر کی اشیا ء افغانستان سے درآمد کیں تاہم یہ اعدادوشمار دونوں ملکوں کے درمیان دستیاب مواقعوں کے مطابق نہیں۔افغانستان کی سرحد پر غیر سرکاری تجارت بہت زیادہ ہے جس کا یومیہ تخمینہ کئی ملین ڈالرز لگایا گیا ہے۔ٹرکوں کے ذریعے لاکھوں ڈالر مالیت کا سامان منتقل کیا جاتا ہے جس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔خیبر پاس جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی شاہراہ ریشم ہے یہ شاہراہ زیادہ تر متوازی تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہے جس کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب قومی خزانے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔کے سی سی آئی کے صدر نے کہاکہ اگرچہ ان مسائل سے نمٹے کے لیے بعض اقدامات کیے گئے تاہم اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی بڑھانے،جدید اسکیننگ مشینوں، پاک افغان سرحد پر بائیو میٹرک اور ٹریکنگ سسٹم کی تنصیب انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دونوں جانب سے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہاکہ باہمی تجارت میں پہلے ہی 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جس پر توجہ دینا چاہیے۔شمیم فرپو نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس معاہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی بندرگاہ پر افغانستان جانے والی اشیا کو پاکستانی مارکیٹوں میں پہنچا دیا جاتا ہے جس سے پاکستان کی صنعتوں کو خطیر نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے اور کئی صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ معاہدہ نہایت اہم ہے لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے جبکہ اس پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد سے ہی اس کا سدباب ممکن ہے۔

مزید : کامرس