عراقی فورسز کا موصل کے 80فیصد علاقے پر کنٹرول

عراقی فورسز کا موصل کے 80فیصد علاقے پر کنٹرول

 بغداد(این این آئی)عراق کی انسداد دہشت گردی فورسز نے شمالی شہر موصل کے 80 فی صد مشرقی علاقے کا دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں داعش کے جنگجوؤں کو لڑائی میں شکست سے دوچار کردیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کی انسداد دہشت گردی سروس کے ترجمان صباح النعمان نے ایک بیان میں کہا کہ میرے خیال میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے اسّی سے پچاسی فی صد علاقہ واپس لے لیا ہے۔عراقی فورسز امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی قوت کی مدد سے 17 اکتوبر سے موصل اور اس کے نواحی علاقوں میں داعش کے خلاف بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کررہی ہیں۔انھوں نے موصل کے نواحی علاقوں میں تو تیزی رفتاری سے جنگی فتوحات حاصل کی تھیں۔تاہم ابھی تک وہ شہر کے مغربی حصے میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔شہر میں داعش کے خلاف لڑائی کے دوران عراقی فورسز کو شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے بڑی احتیاط سے آگے بڑھنا پڑرہا ہے اور اس وجہ سے لڑائی میں وقفہ بھی آیا تھا۔اس مختصر تعطل کے بعد انسداد دہشت گردی فورس اور دوسری فورسز نے بہتر باہمی رابطے کے ذریعے داعش کے خلاف مشرقی موصل میں ایک بھرپور حملہ کیا تھا اور امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے نئے سال کے آغاز سے چندے قبل تباہ کن فضائی حملے کیے تھے اور عراقی فورسز کی ہر طرح سے رہ نمائی کی تھی جس کی وجہ سے انھوں نے موصل شہر میں داعش کے خلاف نمایاں پیش قدمی کی ہے۔گذشتہ دوہفتوں کے دوران عراقی فورسز نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ شہر کے بیچوں بیچ بہنے والے دریائے دجلہ کے کنارے پہنچ چکی ہیں۔عراقی فورسز نے موصل کے مشرقی اور مغربی حصوں کو ملانے والے دریائے دجلہ کے تمام پلوں کو بھی تباہ کردیا تھا جس سے مشرقی موصل میں موجود داعش کے جنگجوؤں کے لیے مغربی موصل کی جانب راہ فرار اختیار کرنے یا وہاں سے کمک حاصل کرنے کے تمام راستے منقطع ہو چکے ہیں۔موصل کے مغرب میں قدیم شہر آباد ہے اور وہاں داعش کے جنگجوؤں کا ابھی تک مضبوط کنٹرول قائم ہے۔شہر کے اس حصے کے بارے میں پہلے ہی سے یہ کہا جارہا تھا کہ وہاں داعش عراقی فورسز کی سخت مزاحمت کریں گے اور اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیں گے۔

مزید : عالمی منظر