شام سے دہشتگردوں کا داخلہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں : لبنان

شام سے دہشتگردوں کا داخلہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں : لبنان

ریاض(این این آئی)لبنان کے نو منتخب صدر میشل عون نے کہا ہے کہ شام کی جنگ میں لبنانی شہریوں کی شرکت حکومت کا فیصلہ نہیں۔عرب ٹی وی کو انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ شام میں جاری خانہ جنگی اور اس کے بعض خطرات کے پیش نظر لبنان میں موجود سعودی شہریوں کو واپس اپنے ملک جانے کی تجویز پیش کی تھی۔ مگر اس نصیحت اور تجویز نے کئی قسم کے شکوک وشبہات کو جنم دیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کے سیاح دوبارہ لبنان کے لیے اپنا سفر جلد بحال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان کا سعودی شہریوں کے لبنان کے سفر کے لیے موقف واضح ہے۔شام کی جنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر عون نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ لبنان سے کسی دوسرے ملک کو گزند پہنچے۔ ہم شام سے دہشت گردوں کے لبنان داخلے کو بھی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لبنان کی بعض تنظیموں کے عناصر کا شام کی جنگ میں حصہ لینا حکومت کا فیصلہ یا ریاست کی پالیسی ہرگز نہیں۔انہوں نے کہاکہ حزب اللہ کی مسلح کارروائیاں لبنانی قوم میں تقسیم کا موجب ہیں۔ بالخصوص کسی لبنانی گروپ کا دوسرے ملک میں جا کر لڑنا اور اپنی متوازی فوج تیار کرنا باعث تشویش ہے۔ اگرچہ انہوں نے حزب اللہ کا نام نہیں لیا مگر ان کا کہنا تھا کہ میں مزاحمت کا حامی ہوں دہشت گردی کا نہیں۔ میں ایسے کسی گروپ کے ساتھ نہیں ہو اندرون ملک اسلحہ کا کھلے عام استعمال کرے۔

مزید : عالمی منظر