ایران کو سو ایئربس طیاروں کی ترسیل کا آغازہ،پہلا جہاز تہران پہنچ گیا

ایران کو سو ایئربس طیاروں کی ترسیل کا آغازہ،پہلا جہاز تہران پہنچ گیا

تہران(این این آئی)ایران کے خلاف عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کو پہلی بار بیچے گئے سو ایئر بس طیاروں کی فراہمی شروع ہو گئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی حکام نے یورپ میں تیار کردہ ان طیاروں کی ترسیل کے آغاز کو ’امن کے لیے ایک روشن دن‘ کا نام دیا ہے۔یورپی کمپنی ایئربس ایران ایئر کو مزید 99 مسافر طیارے فراہم کرے گی، یورپی طیارہ ساز کنسورشیم ایئربس کے تیار کردہ ایسے 100 مسافر ہوائی جہازوں میں سے پہلا طیارہ ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر کے حوالے کر دیا گیا۔ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام سے متعلق عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے نتیجے میں تہران کے خلاف عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد بدھ کے روز ایران ایئر کے حوالے کیا گیا یہ

ایئر بس طیارہ وہ پہلی مغربی ٹیکنالوجی ہے، جس تک تہران کو دوبارہ عملی رسائی حاصل ہو گئی ہے۔اس موقع پر ایران ایئر کے چیئرمین فرہاد پرورش نے کہاکہ ان طیاروں کی فراہمی کا آغاز ایران اور یورپ کے درمیان امن اور دوستی کے لیے ایک روشن دن کی طرح ہے، جو 80 ملین کی آبادی والے ایران کے لیے شہری ہوا بازی کے شعبے میں قومی سطح پر بھی ایک یادگار دن ہے۔ایران ایئر کے حوالے کیے گئے اس طیارے کو اس ایئر لائن کے رنگوں کی نسبت سے پینٹ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی اس فضائی کمپنی کے سربراہ فرہاد پرورش نے ایئربس کے طیارہ سازی کے شعبے کے سربراہ کو بھی یہ درخواست کی کہ وہ اسی ہوائی جہاز میں سوار ہو کر ایران آئیں۔ریاستی انتظام میں کام کرنے والی ایران کی قومی فضائی کمپنی ایران ایئر امریکی ادارے بوئنگ کو بھی 80 مسافر طیاروں کی خریداری کا آرڈر دے چکی ہےA321 طرز کے اس مسافر طیارے کے ایران ایئر کے تجارتی بیڑے میں باقاعدہ طور پر شامل کیے جانے کے حوالے سے ایک باقاعدہ تقریب جمعرات کو منعقد ہوئی اورطیارہ ایرانی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر اترااس مسافر طیارے میں 189 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور یہ ان 100 ایئر بس طیاروں میں سے پہلا ہوائی جہاز ہے، جن کی خریداری کے لیے ایئر بس اور ایران ایئر کے مابین ایک معاہدہ 2015ء میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کی مجموعی مالیت بیسیوں ارب ڈالر بنتی ہے۔

مزید : عالمی منظر