شامی حکومت اوراپوزیشن کے درمیان وادی بردی میں پانی کی سپلائی کا معاہدہ

شامی حکومت اوراپوزیشن کے درمیان وادی بردی میں پانی کی سپلائی کا معاہدہ

دمشق(این این آئی)شام کے سرکاری ٹیلی ویڑن چینل نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان وادی بردی میں دمشق کو پانی کی بحالی کے لیے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے تاہم اپوزیشن نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔شامی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیان طے پائے معاہدے کے تحت امدادی کارکن وادی بردی میں متاثر ہونے والی پانی کی پائپ لائنوں کی بحالی کے لیے جاسکیں گے۔ تاہم دوسری جانب اپوزیشن کی مسلح تنظیموں نے حکومت کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی تردید کی ہے۔قبل ازیں جیش الحر نے اسدی فوج اور اس کی حلیف حزب اللہ ملیشیا کے وادی بردی پر مختلف اطراف سے کیا گیا حملہ ناکام بنا دیا تھا۔

شامی فوج گذشتہ بیس روز سے وادی بردی میں داخل ہونے اور علاقے پر قبضے کی کوشش کررہی ہے مگر جیش الحر نے اسدی فوج اور اس کی مدد گار ملیشیاؤں کے تمام حملے پسپا کردیے ۔شامی انقلابی فورسز کے میڈیا سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج اور اس کی حامی ملیشیا نے وادی البسیمہ اور کفر الزیت کے مقامات سے حملہ کیا گیا مگر اپوزیشن فورسز نے حکومتی فورسز کو پیش قدمی سے روک دیا تھا۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج نے وادی بردی میں 500 میزائل اور گولے داغے۔خیال رہے کہ دمشق کے نواحی علاقے وادی بردی میں ایک لاکھ افراد محصور ہیں۔ کئی ہفتوں سے جاری محاصرے کے نتیجے میں شہریوں کو خوراک اور ادویہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ وادی بردی دفاعی اعتبار سے اہمیت کا حامل مقام ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔وادی بردی سے دمشق کو پانی کی سپلائی کی جاتی ہے مگر گذشتہ کچھ عرصے سے وادی بردی سے دمشق کو پانی کی سپلائی معطل ہے۔ اقوام متحدہ نے حال ہی میں دمشق کی 55 لاکھ آبادی کو پانی کی سپلائی معطل کیے جانے کو جنگی جرم قرار دیا تھا۔

مزید : عالمی منظر