یوریا کھادپر4سوروپے فی بوری سبسڈی ختم کرنا تشویش ناک ہے، میاں مقصود

یوریا کھادپر4سوروپے فی بوری سبسڈی ختم کرنا تشویش ناک ہے، میاں مقصود

لاہور(خبر نگار خصوصی)امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے یوریا کھادپر4سوروپے فی بوری سبسڈی ختم کرنا تشویش ناک ہے۔زرعی شعبہ سے وابستہ ماہرین کے مطابق حکومت کے اس اقدام سے کھاد کی بوری کی قیمت میں400سے500روپے کااضافہ ہوجائے گا۔پہلے ہی کاشت کاروں کوکسی قسم کاکوئی ریلیف میسر نہیں۔یوں محسوس ہوتاہے کہ حکمران زراعت اور اس شعبے سے منسلک افراد کی مشکلات کو یکسر نظر اندازکرچکے ہیں۔زراعت سے اس ملک کے70فیصد عوام کامستقبل وابستہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزعوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہاکہ محض سڑکیں بنانے سے ملک وقوم ترقی نہیں کرسکتے۔چین اور بھارت سمیت دنیا بھر کے ممالک اپنے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ سبسڈی دے کر بہترین نتائج حاصل کررہے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔آڑھتیوں سے لے کرحکومتی نمائندوں تک سب کسانوں کودونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہاکہ کھاد اور دیگر زرعی مداخل کے نرخوں کو عام کاشتکاروں کی پہنچ میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔موجودہ صنعتکار حکمرانوں نے شعبہ زراعت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔جماعت اسلامی کسانوں کو درپیش مسائل کو ہر سطح پر اجاگر کرے گی۔کسی کوبھی کاشتکاروں سے کھیلواڑ نہیں کرنے دیاجائے گا۔حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے کھاد سبسڈی کوختم کرنے سے باز رہے۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے سارے پنجاب کابجٹ ایک مخصوص شہر پرلگادیا ہے۔سرکاری وسائل کابے دریغ استعمال کیاجارہا ہے۔حکومتی کسان پیکیج کے ثمرات سے آج تک کسان محروم ہیں۔حکمرانوں نے بے حسی کی انتہا کردی ہے۔جب تک کاشتکاروں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل نہیں کیے جائیں گے ملک وقوم ترقی وخوشحالی کی جانب نہیں بڑھ سکتے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4