ڈاکٹرو کی عدم پیشی سمیت مدعیوں کو زخمی کرنے کے 56 مقدمات التواء کا شکار

ڈاکٹرو کی عدم پیشی سمیت مدعیوں کو زخمی کرنے کے 56 مقدمات التواء کا شکار

 لاہور(نامہ نگار)لاہور کے 8سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی عدالتی طلبی کے باوجود عدم پیشی کے باعث لڑائی جھگڑے میں مدعیوں کو زخمی کرنے کے 56مقدمات التواء کا شکار ہیں۔ماڈل ٹاؤن کچہری کے 10جوڈیشل مجسٹریٹس نے نے اس ضمن میں رپورٹس تیار کر کے سیشن جج لاہور نذیر احمد گجانہ کو بھجوا دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق یہ مقدمات 2013ء تک لاہور کے مختلف تھانوں میں درج کئے گئے ،ماڈل ٹاؤن کچہری میں 10جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات میں پنجاب کارڈیالوجی کے ایم ایس، میاں منشی ہسپتال کے ایم ایس محمد امیر، میڈیکل آفیسرز سہیل، سعید، نعمان غوری اور شہباز احمد عدالتی طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے،اسی طرح جنرل ہسپتال چیف میڈیکل آفیسر رحم اور شیراز سمیت 11 میڈیکل آفیسرز جن میں عالم، حنا شفقت، زاہد منظور، عمر، اشفاق، ذیشان، ذوالقرنین حیدر، ناہید وقاص، ثاقب ندیم اور ہمایوں شامل ہیں جو عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں کر رہے، گنگا رام کے 3ڈاکٹرز عظمت، عاصم فاروق اور کشمیری احمد بھی بطور گواہ ماڈل ٹاؤن کچہری میں پیش نہیں ہو رہے۔

، ، سروسز ہسپتال کے 9 ڈاکٹرز ڈاکٹر مشتاق احمد، امتیاز احمد، اعجاز احمد، محمد عامر، غلام مرتضیٰ، مبارک احمد، زاہد احمد خان، کنول اور علی مہدی شامل ہیں جو زیر التوا مقدمات میں گواہی کے لئے پیش نہیں ہو رہے۔

، جناح ہسپتال کے 7ڈاکٹرز بھی عدالتی حکم پر مقدمات میں بیان ریکارڈ کروانے نہیں آ رہے جن میں چیف میڈیکل آفیسرز عبدالستار اور مزمل حسین بھٹی جبکہ میڈیکل آفیسرز میں زاہد منظور، حامد سعید، گلزار احمد، غلام غازی اور افتخار احمد شامل ہیں جبکہ علامہ اقبال میڈیکل کالج کے ڈاکٹر محسن جواد بھی بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، میو ہسپتال کے ڈاکٹر فاروق حسن اور شہباز بھی عدالتی احکامات پر عمل نہیں کر رہے، لاہور کے 8سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی عدم پیشی کے باعث لڑائی جھگڑے میں مدعیوں کو زخمی کرنے کے 56مقدمات مڈل ٹاون کچہری میں مسلسل التوا کا شکار ہیں ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4