سینکڑوں پٹوار خانے کونوں کھدروں میں قائم ، رشوت کی شکایات عام

سینکڑوں پٹوار خانے کونوں کھدروں میں قائم ، رشوت کی شکایات عام

 لاہور(عامر بٹ سے)صوبائی دارلحکومت میں واقع 300سے زائد موضع جات کے پٹوا ر خانے عوام اور تفتیشی اداروں کی نظروں سے اوجھل دور دراز علاقوں کے کونوں کھدروں میں جا چھپے ،سرکاری عمارتوں کی کمی کی وجہ پرائیویٹ پٹوارخانوں کے ساتھ منشیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے کرپشن اور رشو ت وصولی جاری ،سائل خواری سے بچنے کے لئے منہ مانگی رشوت دینے پر مجبور ، محکمہ اینٹی کرپشن کے ساتھ دوسرے احتسابی اداروں کو مطلوب پٹواریوں کے لئے یہ پٹوار خانے محفوظ پناہ گاہیں بن گئیں ،معلومات کے مطابق حکومت نے جہاں مال اور اشتمال کاڈیٹا کمپوٹرائزڈ کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کر دیئے ہیں وہاں صوبائی دارالحکومت کے پٹوار خانہ جات کی حالت زار اور بے ہنگم پن بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے بیشتر پٹوار خانے کونوں کھدروں میں بنائے گئے ہیں ،انہیں تلاش کرنے کے لئے خوردبین یا کھوجیوں کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ کئی ایک ایسے ہیں جہاں تک رسائی ناممکن ہے جس کی وجہ سے ہزاروں شہری روزانہ کئی کئی گھنٹے ضائع کرنے کے بعد مایوس لوٹ جاتے ہیں ،روزنامہ پاکستان کی طرف سے صوبائی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر اپنی مرضی سے بنائے گئے پٹوارخانوں کے حوالے سے کئے جانے والے سروے کے بعد معلوم ہوا کہ ضلع لاہور میں موجود پٹواریوں نے نظم و نسق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی مرضی سے پٹوارخانوں کے لئے جگہ کا انتخاب کرنا شروع کر رکھا ہے جس کی بڑی مثال چونگی امرسدھو پر واقع گرین بلڈنگ کو دیکھ کر لگائی جاسکتی ہے جس کے ایک طرف موبائل فون ،انٹرنیٹ کیفے اور کھانے پینے کے چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں کی بھرمار ہے تو دوسری جانب بلڈنگ میں سیکیورٹی گارڈ مہیا کرنے اور لڑکیوں کے رشتے کروانے کے دفاتر کے ساتھ ساتھ فلیٹوں کی صورت کرایہ داروں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں مقیم ہے مگر بااثر پٹواریوں نے یہاں پر بھی اپنی مرضی سے پٹوارخانے شفٹ کر دیئے ہیں ،اس وقت بھی گرین بلڈنگ میں پٹوار خانہ کاہنہ،طور وڑائچ،شہزادہ ،کاچھا سمیت دس سے پندرہ مزید پٹوار خانے موجو د ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان تمام پٹوارخانوں کے دفاتر کاہزاروں روپے باقاعدہ خرچہ بھی پٹواری اپنی ذاتی جیبوں سے ادا کر رہے ہیں اسی طرح کاہنہ میں پیلی بلڈنگ کے نام سے مشہور انگریز دور کی عمارت کو بھی پٹوارخانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے جہاں شہریوں کی ایک چکر میں ہی جان عذاب کو آجاتی ہے ،دور دراز عمارت ہونے کی وجہ سے شہریوں کی کثیر تعداد کی دوبارہ جانے کی ہمت نہیں پڑتی اور وہ پٹواری کی من مرضی کے مطابق رشوت ادا کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے اس کے علاوہ مسلم ٹاؤن موڑ پر واقع ماڈل ٹاؤن قانونگوئی کے نام سے جانے جانے والی بلڈنگ بھی موجود ہے جس میں موضع اچھرہ،اجودیہ پور،دھنا سنگھ والا،پنڈی راجپوتاں ،چندرائے ،امرسدھو،اور کوٹ لکھپت جیسے موضع جات بے ترتیب انداز سے اکٹھے کئے گئے ہیں جس میں پانی اور پارکنگ کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔روزنامہ پاکستان کو مزیدایسے پٹوار خانوں کا بھی علم ہوا ہے جس کی بلڈنگ ایک ہوٹل اور حما م پر مشتمل ہے۔ اس طرح سبزار لیاقت چوک میں دودھ دہی اور پان سگریٹ کی دوکانوں پر مشتمل بلڈنگ کے فرسٹ فلور میں پٹوار خانہ سید پور جھگیاں ،ناگرہ،ڈھولنوال ،موہلنوال اور کوٹ بیگم کے علاوہ بابو صابو جیسے موضع جات آباد کئے گئے ہیں ،ان میں موضع موہلنوال ،ڈھولنوال اور بیگم کوٹ سے آنے والے شہریوں کو یہاں تک آتے آتے کئی کلومیٹر کا سفرطے کرناپڑتا ہے مزید انکشاف ہوا ہے کہ بعض بااثر پٹواریوں نے پٹوارخانوں کو اپنے دوستوں اور عزیزو اقارب کے گھروں میں آباد کر رکھا ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1