70سال گزر گئے،کرپشن اور ناانصافی ختم نہ ہو سکی،راشد نسیم

70سال گزر گئے،کرپشن اور ناانصافی ختم نہ ہو سکی،راشد نسیم

لاہور(خبر نگار خصوصی)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر راشد نسیم نے کہا ہے کہ 70سال سے ملک پر سول اور فوجی حکمران ہیں لیکن ملک میں کرپشن بدیانتی اور ناانصافی ختم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ فوجی و جمہوری حکومتوں میں عوام کی خدمت کے بجائے لوٹ مار جاری رہی،پاکستان میں ترقی و خوشحالی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا جب تک حکمران قیادت کے اس معیارکو اپنے لئے مشعل راہ نہیں بناتے جوآئین پاکستان میں دیا گیا ہے۔جو لوگ آئین کی دفعہ 62/63سے خائف ہیں وہ دراصل ملک میں آئین کی حکمرانی نہیں ,آمریت اور بادشاہت چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ کے دورہ پر آئی ہوئی بلوچستان کی طالبات کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد کی قیادت ثمینہ سعید نے کی۔راشد نسیم نے کہا کہ حکمرانوں کے غیر آئینی رویے اور قانون کی پامالیوں کی وجہ سے ہی پاکستان دولخت ہوااورہمارا مشرقی بازو ٹوٹ کر بنگلا دیش بن گیا،آج یہی کھیل بلوچستان میں کھیلا جارہا ہے اور وسائل کی تقسیم میں بلوچستان کو نظرانداز کیا جارہا ہے جس سے صوبے کے عوام میں حکمرانوں کے خلاف نفرت کا طوفان پایاجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام نے جن لوگوں کو جھولیاں بھر بھر ووٹ دیئے انہوں نے عوام کی خدمت کی بجائے پاکستان کے معاشی حب اور سب سے بڑے شہر کراچی کو کھنڈر بنا دیا ،کراچی آج بھی جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اسلامی و خوشحال پاکستان کا راستہ اسی لئے اپنایا ہے کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا اصل راستہ یہی ہے۔جماعت اسلامی کی امانت و دیانت اور کرپشن سے پاک ہونے کا اعتراف ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی کیا ہے ،جو ہمارے لئے کسی سند امتیاز سے کم نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کے دامن پر کرپشن کے اتنے داغ ہیں کہ دامن کہیں سے صاف دکھانی نہیں دیتا۔جماعت اسلامی کے کسی فرد کا نام قرضے معاف کرانے والوں ،پانامہ ،لندن اور دبئی لیکس یا کمیشن اور پلاٹ لینے والوں میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کو بدیانت اور عالمی سامراج کے غلاموں کی بجائے خوف خدارکھنے والی دیانتدار قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنایا جاسکے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1