ڈی او لیبر آفس ، کم اجرت اور پینشن کے 800سے زائد کیس زیر التواء : مزدور مایوس

ڈی او لیبر آفس ، کم اجرت اور پینشن کے 800سے زائد کیس زیر التواء : مزدور مایوس

 لاہور( لیاقت کھرل) محکمہ لیبر کے اعلیٰ حکام کی عدم دلچسپی یا فرائض سے مبینہ چشم پوشی، ڈی او لیبر لاہور کے دفتر میں شکایات لے کر آنے والے مزدوروں کا کوئی پرسان حال نہیں، 800 سے زائد کیس زیر التواء،300کیس کم اجرت کے بتائے گئے،صنعتوں، فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکان اور انتظامیہ کے ہاتھوں ستائے ہوئے سینکڑوں مزدور اس دفتر کا محض طواف کر کے مایوس ہو کر چلے جاتے ہیں۔ دفتر میں شنوائی نہیں ہوتی وہاں کئی کئی کلو میٹر فاصلے طے کرکے آنے والے مزدور کم سے کم اجرت پنشن اور معاوضہ جات کے حصول سمیت دیگر مسائل کے حل کے لئے کئی کئی ماہ تک اس دفتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ ’’پاکستان‘‘ کی ٹیم نے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ آفیسر لیبر کے دفتر واقع نیو مسلم ٹاؤن میں مزدوروں کے لئے سہولتوں اور آنے والے مزدوروں کی شکایات کاجائزہ لینے کے لئے سروئے کیا تو ڈسٹرکٹ آفیسر لیبر کے دفتر میں مزدوروں نے ، فیکٹریوں و کارخانوں کے مالکان کے ساتھ محکمہ لیبر کے ارباب اختیار کے خلاف بھی شکایات کے انبار لگا دئیے ۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل سیکٹر کی مختلف صنعتوں سے شکایات لے کر آنے والے مزدوروں یاسین ، گل خان ، ذاکر حسین، ذیشان انور، اظہر علی شاہ، نور احمد، محمد اکرم وٹو، اکبر خان اور سرور علی نے بتایا کہ انہوں نے کم سے اُجرت اور سالانہ بونس نہ ملنے پر شکایات درج کروا رکھی ہیں۔ کالونی ٹیکسٹائل کے ملازمین اسلم علی، اکرم، محمد یونس، لیاقت نور خان اور وقار خان نے بتایا کہ اس دفتر میں مزدوروں کے بیٹھنے تک کے لئے جگہ نہیں۔ مزدوروں وقار خان وغیرہ نے بتایا کہ ان کے کم سے کم اُجرت کے 10 کیس کئی ماہ سے زیر التواء ہیں اور اس دفتر کے افسران فیکٹری مالکان سے صلح کرنے اور درخواست واپس لینے کا مشور دے رہے ہیں۔ اس موقع پر عمر رسیدہ شخص مولوی صدیق اور اسلم خان نے بتایا کہ ساری عمر فیکٹری میں دھکے کھائے، اب لیبر حکام چکر لگوا رہے ہیں۔ ایک خاتون رضیہ بی بی نے بتایا کہ اس کا بیٹا اے سی بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ دوران ڈیوٹی زخمی ہونے پر سوشل سیکیورٹی کا کارڈ بنوانے کے لئے کبھی لیبر کے دفتر اور کبھی سوشل سیکیورٹی کے دفتر میں چکر لگا رہی ہوں لیکن کوئی بات نہیں سن رہا۔ اس موقع پر ڈی او لیبر کے دفتر میں سہولتوں کا جائزہ لینے کے لئے دفتر کا سروئے کیا تو دفتر کی کینٹین کئی ماہ سے بند پائی گئی جبکہ مزدوروں کے بیٹھنے کے لئے فرنیچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا جبکہ دفتر میں لیبر افسروں کی شدید قلت پر چائلڈ لیبر کے خلاف شکایات لے کر آنے والے سائل بھی دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور تھے جس میں شہر کے مختلف علاقوں اور مضافاتی ایریا سے آنے والے بھٹوں کے مالکان کے خلاف سب سے زیادہ شکایات کا ذکرکیا گیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1