پیف: پونے دو لاکھ طلبہ زیورتعلیم سے آراستہ

پیف: پونے دو لاکھ طلبہ زیورتعلیم سے آراستہ
 پیف: پونے دو لاکھ طلبہ زیورتعلیم سے آراستہ

  

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ایوان اقبال میں پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو نوجوانوں کا زیور کہا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے ملک بھر کے مالی مشکلات سے دوچار ایک لاکھ 75 ہزار سے زائدطلبا وطالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ ساڑھے 17ارب روپے کے اس تعلیمی فنڈ کی آمدن سے اب تک ساڑھے 7ارب روپے کے وظائف میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ کاش یہ تعلیمی فنڈ70سال قبل معرض وجود میں آجاتا تو آج پونے دو لاکھ کی بجائے 2کروڑ سے زائد ہونہار بچے اور بچیاں اپنی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہوتے۔

محمد شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ اعلی تعلیم صرف اشرافیہ کی میراث ہی نہیں اس پر پاکستان کے ہر بچے کا حق ہے۔ نوجوان پاکستان کا عظیم سرمایہ اور اثاثہ ہیں اور ملک و قوم کے مستقبل و خوشحالی کی کنجی ان نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ گزشتہ 70برسوں میں پاکستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا اور وسا ئل کی اس لوٹ مار سے ملک میں غربت بڑھی، انتہا پسندی آئی، ہسپتالوں، سکولوں اور ملکی اداروں میں اندھیرے چھا گئے۔ اشرافیہ نے پاکستان کا معاشی قتل کیا۔ 2014ء میں جب پاکستان نے ترقی کا سفر شروع کیا توبلاجواز کے دھرنوں نے قومی معیشت کا دھڑن تختہ کردیا۔ اگرخدانخواستہ ان عناصر کا لاک ڈاؤن کامیاب ہوجاتا تو شاید سی پیک کے تحت بننے والے منصوبے ہی رک جاتے اور ملک قوم کی مشکلات اور بڑھ جاتیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ملک سے اندھیرے چھٹ جائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ نے تعلیم کا حق حقداروں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ جب پاکستانی بغیر کسی ویزے کے برطانیہ اور جرمنی جاسکتے تھے اور ائیرپورٹ پر ہی ان کا ویزا لگ جاتا تھا اور آج بیرون ملک جائیں تو ایئر پورٹ پر سبز پاسپورٹ کی توقیر نہیں کی جاتی۔ ایسے ممالک جو ہم سے کہیں پیچھے تھے آج وہ آگے نکل چکے ہیں۔ ہمارے معاشی ماڈل کو اپنا کر ایک ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ ہمیں اس حال میں کسی اور نے نہیں پہنچایا ،بلکہ ہم خود اس کے ذمہ دار ہیں اور ہم نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑے مارے ہیں۔ اشرافیہ نے پاکستان کے سفر کو کھوٹا کیا ہے۔

ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب کے دوران پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے ’’پیف سکالرز‘‘ نے تقریب سے خطاب میں پنجاب ایجوکیشنل فنڈ جیسے تعلیمی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ غریب گھرانوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے یہ تعلیمی فنڈممدومعاون ثابت ہورہا ہے اور ایسا پروگرام ہمیشہ چلنا چاہیے۔ ’’پیف سکالرز‘‘ نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے تعلیمی وظائف کے پروگرام کو رجحان ساز اور انقلابی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی وظائف کی فراہمی سے ہونہار غریب بچوں اور بچیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے ہیں اور جو خواب ہم نے اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے تھے وہ پورے رہے ہیں، جس پر ہم وزیراعلیٰ شہبازشریف کے شکرگزار ہیں اور ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کی پہلی پیف سکالر ڈاکٹر گلشن سید بتایا کہ میرے والد ٹی وی مکینک ہیں اور ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ جام پور جیسے پسماندہ علاقے میں لڑکی کے لئے تعلیم حاصل کرنا بہت معنی رکھتا ہے۔ میں نے میٹرک میں 91 فیصد نمبر حاصل کئے، لیکن کالج میں داخلے کے لئے گھر کے مالی حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ پھرمجھے پیف کا خط موصول ہوا اور میں نے وظیفے کے ذریعے تعلیم مکمل کی۔ ایف ایس سی میں 88 فیصد نمبر آئے، لیکن آگے میڈیکل کالج میں داخلہ پھر مالی وسائل کے باعث مشکلات کا شکار تھا۔ایک بار پھر پیف میری مدد کو آیا ۔ والد نے خاندان کی مخالفت کے باوجود مجھے ایم بی بی ایس کرنے لاہور بھجوایا۔ میں اب ڈاکٹر بن چکی ہوں اور یہ سب وزیراعلیٰ کے اس تعلیمی وظائف کے پروگرام کے باعث ممکن ہوا ہے۔ میری ایک اور بہن بھی تعلیمی وظیفے کے ذریعے ڈاکٹر بن رہی ہے، جبکہ دوسری بہن بھی پیف کے وظیفے کے ذریعے تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں میری دوسری پوزیشن آئی ہے۔ تعلیمی وظیفے نے ہمیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا ہے اور میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ پنجاب حکومت نے غریب بچوں اور بچیوں کے لئے ہر طرح کے وسائل فراہم کئے ہیں۔

لمز جیسے اعلیٰ تعلیمی ادارے سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے والے ایک ڈرائیور کے بیٹے محمد آصف نے کہا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں لمز جیسے ادارے میں تعلیم حاصل کروں گا کیونکہ میرے والد ایک ڈرائیور ہیں اور ان کے اتنے وسائل نہیں کہ ہمارے تعلیمی اخراجات کا بوجھ اٹھا سکیں۔ میں نے تو لمز کا نام تک نہیں سنا تھا ،لیکن پیف نے کچے گھروں میں رہنے والے ہونہار بچوں اور بچیوں کا تعلیمی خواب پورا کر دکھایا ہے اور آج میں ایک نجی کمپنی میں باعزت روزگار کما رہا ہوں۔ آج میں جس مقام پر ہوں اس کی وجہ میرے والدین کی دعائیں اور وزیراعلیٰ شہبازشریف کا یہ شاندار تعلیمی پروگرام ہے جس نے میرے جیسے لاکھوں غریب مگر ہونہار بچوں میں نئی روح پھونک دی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اب کوئی غریب بچی یا بچہ وسائل کی بنا پر اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، کیونکہ شہبازشریف نے تعلیمی وظائف کے پروگرام کے ذریعے ایک انقلاب آفریں اقدام کیا ہے۔

معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے والے پیف سکالر وقاص حیدر نے بتایا کہ میرے والد ایک کپڑے کے کارخانے میں کام کرتے ہیں، لیکن جب میرے میٹرک میں اچھے نمبر نہ آئے تو انہوں نے کہا کہ اب تم مزید تعلیم حاصل نہ کرو۔ اسی دوران والد کو ہارٹ اٹیک بھی ہوا، لیکن میں پڑھنا چاہتا تھا اور پھر میری محنت رنگ لائی اور میرے امتحانات میں اچھے نمبر آئے اور مجھے پیف نے وظیفہ دیا، جس کے ذریعے میں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور آج میں سی اے کر رہا ہوں۔ ایل ڈی اے میں بطور الیکٹریشن کام کرنے والے عبدالباسط کی بیٹی سدرہ باسط نے بتایا کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں اور ایک ہی کمرے میں رہتے ہیں۔ میں نے پیف کے ذریعے ہیلے کالج سے بی بی اے اور ایم بی اے کیا ہے اور اب ایک نجی کمپنی میں ملازمت کر رہی ہوں۔ شہبازشریف کے بے حد ممنون ہیں کہ انہوں نے میرٹ کے ذریعے تعلیمی وظائف کے اس پروگرام کو آگے بڑھایا ہے اور آج میرے جیسے ہونہار غریب طالب علم بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ شہبازشریف کا تعلیمی وظائف کا پروگرام جاری و ساری رہنا چاہیئے کیونکہ اس پروگرام کے ذریعے غریب بچوں اور بچیوں نے اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے ذریعے نامساعد حالات کو شکست دی ہے۔

مزید : کالم