جنسی و جسمانی تشدد ۔۔ذمہ دار کون ؟

جنسی و جسمانی تشدد ۔۔ذمہ دار کون ؟
جنسی و جسمانی تشدد ۔۔ذمہ دار کون ؟

  

عہدِ جدید میں جہاں تعلیم کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے وہیں معاشرتی انحطاط میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔جنسی و جسمانی تشدد کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ آئے روز اخبارات کی شہہ سرخیاں ان شرمناک و دردناک سانحات بارے بتاتی ہیں۔کہیں عورت کی عصمت دری و آبرو ریزی تو کہیں معصوم بچیوں اور بچوں سے زیادتی۔ اب تو لڑکے بھی اس گھناؤنے تشدد سے محفوظ نہیں رہے۔انسان انسانیت کے معیار سے گرتا جا رہا ہے۔ ایک طرف تودنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے دوسری طرف اخلاقی پستی اورجہالت کے اندھیروں میں ڈوبتی جا رہی ہے۔

جنسی و جسمانی تشدد کا ذمہ دار کون ہے ؟ عورت یامرد ،معاشرہ یا بڑھتی ہوئی بے راہ روی ۔عورت اور مرد دونوں مل کر معاشرہ تشکیل دیتے ہیں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی کے یہ دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ آجکل بچارے ایک انڈین منسٹر میڈیا اور عوام کی زد میں آئے ہوئے ہیں اُنکا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے New Year Night کے موقع پر جب کچھ لڑکیاں مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنائی گئیں اپنے ایک بیان میں یہ کہہ دیا کہ لڑکیاں مغربی لباس میں ملبوس ہونے کی بنا جنسی تشدد کا نشانہ بنی ہیں ۔جس پر تمام میڈیا بشمول عوام انکے خلاف ہو گئے۔لیکن ان میں کچھ لوگ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکی حمایت بھی کر رہے تھے کہ منسٹر صاحب درست کہہ ا رہے ہیں لڑکیوں کو اپنے جسم کی عریانی کم کرکے اپنی حفاظت کرنی چاہئے ۔رات کے وقت اوراکیلے جاتے ہوئے انہیں سب سے پہلے مہذب لباس کا انتخاب ضرور کر لینا چاہئے تاکہ آوارہ گرد اوباش لوگوں کی غلیظ نگاہوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔خیرانڈین منسٹر کی بات میں وزن تھا ایک طرح سے سچ ہی کہا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناں جھوٹ بولے کوّا کاٹے کالے کوّے سے ڈریو مگر آج کل یہ سب اُلٹ ہو گیا سچ بولنے والے کو غلط لوگ کوّا بن کر کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔اپنے آپ کی اصلاح کرنے کی بجائے ناصح کے دشمن بن جاتے ہیں۔

سماج بگڑتا جا رہا ہے اندھیروں میں اُترتا جا رہا ہے

سماج اسقدر بگڑ چکا ہے کہ اسکی بھل صفائی ہونا نہائت ضروری ہے ۔ہر عمر کے لوگوں کو اخلاقی و مذہبی برایؤں اور انکے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشرتی خرابیوں سے آگاہ کیا جائے نیز زنا بالجبر کے مرتکب افراد کو سرِ عام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ عبرتناک سزائیں دی جائیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ بہت پڑھے لکھے بڑے بڑے عہدوں پہ براجمان افراد خود ایسے گھناؤنے جرم سے مستثنیٰ نہیں۔ٹوکیو ( جاپان) میں ایک بہت بڑے ادارے کے سربراہ نے اپنی 21سالہ ملازمہ کے ساتھ2015 ء میں شرمناک سلوک کیا جسکے بعد ملازمہ نے خود کشی کر لی اب اس ادارے کے سربراہ نے ضمیر کے شکنجے میں آکر اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے 2017ء میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔خیر غیروں کی باتیں ہم کیوں کریں ذرا اپنے گریباں میں جھانکنے کا حوصلہ کر کے دیکھتے ہیں ادھر کیا ہو رہا ہے اپنے پیارے پاک وطن پاکستان میں نئے سال کی آمد پر جب ہر طرف جشن منائے جا رہے تھے اسلام آباد جیسے بڑے شہر میں ایک شادی شدہ خاتون گینگ ریپ کی زد میں تھی۔سکول کے ہیڈ ماسٹر نے مظلوم ٹیچرکے سی وی سے فون نمبر دیکھ کراسے ملازمت دینے کے بہانے سکول کی بجائے ریلوے سٹیشن کے قریب ایک مکان میں بلایا بعدازاں اپنے چار ساتھیوں سمیت گھناؤنا کھیل کھیلا۔ گینگ ریپ وارداتوں میں ملک کے دیگر شہروں بالخصوص لاہور میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور تربیت کا فقدان ہے ۔بس امتحان میں اعلیٰ پوزیشن لینی ہے اعلیٰ پوزیشن کی دوڑ میں بچوں کی تربیت نہیں کی جا رہی ماں باپ اپنے بچوں کے ساتھ کم وقت گذار پاتے ہیں پیسہ پیسہ ۔ پیسے کی دوڑ ہے ساری۔پیسے اور ہائی سٹیٹس کے پیچھے بھاگتے ہوئے انسان اندھا ہو گیا ہے۔اچھے برے کی تمیز بھول بیٹھا ہے۔

ناگہاں حرص و ہوس نے سب کی آنکھیں چھین لیں

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اس معاشرے میں عورت ہوناہی جرم بن گیا ہے۔عورت کی عزت کہیں محفوظ نہیں چاہے کوئی بھی شعبہ ہو۔ ٹیچنگ جیسا مقدس شعبہ بھی اس سے محفوظ نہیں۔ انگریزی ادب کے فادر آف پوئٹری جوفری چوسر کی طرح مجھے بھی کھلی آنکھوں سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لوگوں کودیکھنے کا سنہری موقع ملا ۔ اسے آپ طبیعت کی بے چینی یا حالات کی ستم ظریفی سمجھ لیجئے۔کبھی شعبہ درس و تدریس سے منسلک تو کبھی رائٹرِ ، ڈریس ڈیزائنر یا مصورہ بننے کا جنون سر پہ سوار ہوجاتاہے۔شاعرہ ہونے کے ناطے مشاعروں میں جانے اور دنیائے ادب و میڈیا کے لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘ جرائم کی شرح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔پرسانِ حال کوئی نہیں۔حرام و حلال ‘ جائز و ناجائز کا فرق مٹتا جا رہا ہے۔طاقتور کمزور پر ظلم کرنا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں ۔مظلوم کی بے بسی چند سکوں کے عوض خرید لی جاتی ہے۔کمسن طیبہ پر مبینہ تشددکے پہاڑ توڑ کر انسانیت کو شرمندہ کیا بعدازاں جب یہ بات میڈیا پر کھل کر سامنے آئی تو محض تیس ہزار کے عوض جج کی اہلیہ کی ضمانت منظور کر لی گئی۔ حضرت علیؓ کا قول ہے۔’معاشرے کفر پرقائم رہ سکتے ہیں لیکن ظلم میں نہیں‘۔ آج ہمارے معاشرے میں جرائم کی شرح محض اسلئے بڑھ گئی ہے کہ مجرم تھوڑی بہت بازپرس کے بعد دندناتے پھرتے ہیں۔اگرچہ سزائے موت کا بل 2013 ء میں منظور کیا گیا مگر عملاََ سست روی کا شکار ہے۔

مزید : کالم