امریکہ تو محفوظ ہوگیا، دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں آگئی

امریکہ تو محفوظ ہوگیا، دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں آگئی

امریکہ کے صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ زیادہ محفوظ ہے دس سال میں کوئی بیرونی دہشت گرد ہماری سر زمین پر حملہ نہیں کرسکا آج امریکہ کی معیشت مضبوط ہے انہوں نے کہا مسلمانوں کے خلاف تعصب کی پالیسی مسترد کرتا ہوں، امریکی شہری اپنی جمہوریت کا دفاع کریں۔ شکاگو میں اپنے الوداعی خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں امریکہ کی بہتری کے لئے بہت سے اقدامات کئے تمام چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، بہت سے مسائل کا حل نکالا لیکن اب بھی کئی مسائل حل طلب ہیں اپنے دور میں کیوبا کے ساتھ تعلقات بہتر بنائے، نائن الیون کے ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا اور ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ ایک گولی چلائے بغیر حل کیا۔

نائن الیون کے بعد امریکہ کو تو محفوظ بنالیا گیا لیکن دنیا کے کئی ممالک تباہ و برباد کر دئے گئے جن کا نائن الیون سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، عراق ان میں سے ایک ہے، عراق پر الزام یہ تھا کہ اس کے پاس وسیع پیمانے پر دہشت گردی پھیلانے والے ہتھیار ہیں یہ ہتھیار آج تک بر آمد نہیں ہو سکے لیکن امریکہ نے عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی، صدام حسین کا اقتدار ختم کردیا لیکن ان کی جگہ جو حکومتیں تشکیل پائیں وہ آج تک ملک کو استحکام نہیں بخش سکیں، ملک کی معیشت برباد ہوگئی، عراق پر الزام تو یہ تھا کہ اس کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں لیکن ان مبینہ ہتھیاروں نے دنیا میں تو کوئی تباہی نہیں پھیلائی البتہ خود عراق میں جو بربادی آئی ہے اس کا ازالہ شاید آئندہ بھی کئی عشروں تک ممکن نہ ہوسکے۔ امریکہ نے پہلے داعش کی سر پرستی کر کے اسے شام کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا لیکن جب یہ تنظیم شام کے کئی علاقوں پر قابض ہو کر اپنی عملداری قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو امریکہ نے پالیسی بدل لی، اب اس تنظیم کے جنگجو ترکی میں عدمِ استحکام پیدا کرنے کے لئے وہاں مسلسل دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں۔ گزشتہ ایک برس میں وسیع پیمانے پر خونریز کارروائیاں کی جاچکی ہیں اور ان کا سلسلہ ابھی رکنے میں نہیں آ رہا۔ امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن کی تحریک کے وابستگان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی، جو کامیاب تو نہ ہو سکی لیکن وسیع پیمانے پر سرکاری افسروں کی برطرفیوں، معطلیوں اور گرفتاریوں کا باعث ضرور بن گئی جس کی وجہ سے ترکی جیسا تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک عدم استحکام کا شکار ہے داعش خطے کے دوسرے ملکوں کا رخ بھی کر رہی ہے۔ افغانستان میں بھی اس کی موجودگی کا تذکرہ ہوتا ہے۔ اس تنظیم کو مسلح کرنے میں امریکہ کا کردار ہے۔چونکہ اب یہ اس کے دائرہ اثر سے باہر کھسک گئی ہے اس لئے امریکہ اس کے خلاف ہو گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تقریباً سارے ممالک ’’عرب بہار‘‘ کے بعد عدم استحکام کا شکار ہوئے۔

افغانستان میں امریکی افواج اب تک موجود ہیں۔ صدر اوباما جب 2008ء کے صدارتی انتخاب کی مہم چلا رہے تھے تو انہوں نے برملا اعلان کیا تھا کہ وہ صدر منتخب ہو کر افغانستان سے امریکی (اور نیٹو) فوج واپس بلالیں گے اور گوانتاناموبے کا عقوبت خانہ بھی بند کر دیں گے لیکن یہ دونوں کام وہ نہیں کر سکے الٹا انہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد بڑھا دی۔ کم و بیش پندرہ سال سے امریکی اور نیٹو فوج افغانستان میں موجود ہے لیکن حالت یہ ہے کہ دارالحکومت کا بل بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں اور ابھی گزشتہ روز ہی ہائی سیکیورٹی زون میں خونریز دھماکے ہوئے ہیں جن میں یو اے ای کے سفارت کار بھی جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان حالات میں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ امریکہ کا افغانستان میں فوج بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا ہے تاہم اگر امریکہ کے پیش نظر مقصدِ وحید یہی تھا کہ دہشت گردی کی جنگ کو امریکہ سے ہزاروں میل دور دھکیل دیا جائے تو اس میں صدر اوباما کو ضرور کامیابی حاصل ہوئی ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں دہشت گردی کا دروازہ کامیابی سے بند کر دیا گیا۔

افغانستان میں اگر کبھی کوئی دہشت گردی ہوتی ہے تو افغان حکام جھٹ سے اس میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ پاکستان بار بار واضح کر چکا ہے کہ اسے افغانستان میں امن و امان کے قیام سے گہری دلچسپی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوگا تو اس کا فائدہ پاکستان کو بھی پہنچے گا کیونکہ افغانستان کے حالات پاکستان پر اثر انداز ہوتے ہیں پاکستان میں خود کش حملے افغانستان پر امریکہ کے حملے کے بعد ہی شروع ہوئے تھے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی کا دائرہ پاکستان میں اس وقت پھیلا جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے وہاں سے طالبان کی حکومت ختم کردی۔ جواب میں امریکہ مخالف قوتوں نے افغانستان اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی شروع کردی، یہ امر واقعہ ہے کہ نائن الیون کے بعد جس جس ملک میں بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے انہوں نے جلد ہی اس پر قابو پالیا لیکن پاکستان سال ہا سال تک اس آگ میں جلتا رہا، کئی سال تو ایسے گزرے جب دہشت گردی کے واقعات ہزاروں تک جا پہنچے تھے لیکن جب پانی سر سے گزر رہا تھا تو پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی وارداتوں پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا اگرچہ اب بھی کوئی نہ کوئی واردات ہو ہی جاتی ہے۔

صدر اوباما نے بالکل درست کہا کہ ایک گولی چلائے بغیر امریکہ نے ایران کا جوہری پروگرام رول بیک کرادیا اور ایران یورینیم کی بم گریڈ افزودگی کی جانب جس تیزی سے بڑھ رہا تھا اسے ’’کیپ‘‘ کرادیا، اب ایران میں یورینیم کی افزودگی محض اس سطح پر ہو رہی ہے جسے دوسرے شعبوں( بجلی کی پیداوار یا طبی شعبے) میں استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن ایٹم بم نہیں بنایا جاسکتا، اگرچہ امریکہ میں اسرائیلی لابی کو صدر اوباما کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا تھا اور کانگرس کے بعض ارکان نے صدر حسن روحانی کو خط لکھ کر خبردار بھی کردیا تھا کہ اگلا امریکی صدر اس معاہدے کو منسوخ کردے گا، منتخب صدر ٹرمپ بھی اس معاہدے کی منسوخی کے حامی ہیں، وہ اس ضمن میں عملاً آگے بڑھتے ہیں یا نہیں، یہ تو 20جنوری کو ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ہی معلوم ہوگا، لیکن صدر اوباما نے بہر حال بجا طور پر اس کا کریڈٹ لیا ہے اس معاہدے کے تحت بعض اقدامات بھی شروع ہو گئے ہیں اور عالمی پابندیوں کا بھی بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا ہے اور بات آگے بڑھ رہی ہے۔ یورپی طیارہ ساز ادارے ائیر بس نے معاہدے کے تحت پہلا ائیر بس طیارہ ایران کے حوالے بھی کردیا ہے ایران نے کوئی ڈھائی سو طیارے بوئنگ اور ائیر بس سے خرید نے کے معاہدے کئے ہیں کیونکہ پابندیوں کے دور میں ایرانی ہوا بازی کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا تھا، توقع کرنی چاہئے کہ ٹرمپ اس عمل کو ریورس نہیں کریں گے بلکہ آگے بڑھائیں گے اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کریں گے جو امریکی پالیسیوں نے دنیا بھر میں بھڑکا رکھی ہے۔

مزید : اداریہ