گورنر سندھ سعید الزمان صدیقی کا انتقال

گورنر سندھ سعید الزمان صدیقی کا انتقال

سندھ کے گورنر چیف جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی 79سال کی عمر میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے علیل چلے آ رہے تھے۔ 11نومبر 2016ء کو انہوں نے ڈاکٹر عشرت العباد کی سبکدوشی کے بعد گورنر سندھ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ سندھ کے 31ویں گورنر تھے۔ سعید الزمان صدیقی شدید علالت کے باعث روایت کے مطابق مزار قائد پر حاضری کے لئے بھی نہ جا سکے۔اُن کے انتقال سے عدلیہ کی تاریخ کا ایک روشن باب مکمل ہُوا ہے۔ انہوں نے بطور وکیل اور پھر جج کی حیثیت سے شہرت حاصل کی۔ پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ انہوں نے بھرپور زندگی گزاری، ان کی خدمات تاریخ میں شاندار الفاظ کے ساتھ محفوظ ہیں۔ ان کے لئے عوام میں بے حد احترام پایا جاتا ہے اور بلاشبہ انہوں نے جو خدمات انجام دیں، انہیں فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ گورنر سندھ چیف جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انجینئرنگ کے شعبے میں قسمت آزمائی کرنا چاہتے تھے مگر انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کرتے ہوئے بطور وکیل 1958ء میں جامعہ کراچی سے ڈگری حاصل کرکے اپنا کیرئیر شروع کیا۔ فروری 1961ء میں کراچی بار ،1963ء میں ہائی کورٹ اور 1969ء میں سپریم کورٹ بار کاحصہ بنے۔ اس دوران 1967ء میں وہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ 1980ء میں انہوں نے سندھ ہائیکورٹ کے جج اور 1990ء میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا حلف اٹھایا۔ یکم جولائی 1999ء کو پاکستان سپریم کورٹ کے 15ویں چیف جسٹس بنائے گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ’’عبوری حکم‘‘ کے تحت (26جنوری 2000ء) حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ 2008ء میں مسلم لیگ (ن) نے انہیں پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری کے مقابلے میں صدر مملکت کے عہدے کے لئے امیدوار نامزد کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔بعدازاں انہوں نے پس منظر میں رہتے ہوئے زندگی بسر کی۔ نومبر2016ء میں انہیں سندھ کا گورنر بنا دیا گیا۔ حالانکہ وہ شدید علیل تھے اور ان کی عمر 79 سال ہو چکی تھی۔ حلف اٹھانے کے اگلے روز ہی انہیں سانس کی تکلیف کے باعث ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا اور پھر گزشتہ روز ان کا انتقال ہو گیا۔ سعید الزماں صدیقی نے بطور وکیل اور جج کی حیثیت سے جو خدمات انجام دیں، ان کے لئے تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا، وہ ایک عرصے تک پُر نہیں ہو سکے گا۔

مزید : اداریہ