تبدیلی کاراستہ ندارد مگر۔۔۔

تبدیلی کاراستہ ندارد مگر۔۔۔
تبدیلی کاراستہ ندارد مگر۔۔۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک نئی آنے والی کتاب ’’زندہ تاریخ‘‘اس بات پر گواہ ہے کہ مروجہ موجود قومی اور سیاسی فضا میں ، وطن عزیز میں سیاست خود غرضی ، بے حسی اور بے رحمی کا نام ہے، تاریخ کے طالب علم کے طور پرراقم الحروف بادل نخواستہ اپنے آپ کو جاوید ہاشمی صاحب کے اس احساس سے متفق پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیاست تو کبھی جدوجہد ، خدمت اور عبادت سے عبارت تھی تو اس میں خود غرضی اور مفاد پرستی کہاں سے در آئی۔ انتخابات لڑنا تو ایک بڑے مقصد کے حصول کے لئے ایک صحتمند مقابلے کا نام تھا،جو اب جوڑ توڑ ، دھن ، دولت، الزام تراشی ، دشنام طرازی اور دھڑے بندی کا ایک کھیل بن گیا ہے۔آجکل قومی یا اجتماعی سوچ اور سیاسی سوچ الگ الگ دائروں میں بٹ کر الگ مناظر پیش کر رہے ہیں یہ برائیاں ہمارے ہاں بڑی تیزی سے برگ و بار لا چکی ہیں۔آج اگر کوئی نواز شریف کا ہم خیال ہے لیکن کسی وجہ سے اسے مطلوبہ پروٹوکول نہیں ملتا یا اسکا ذاتی مفاد کہیں مجروح ہو جاتا ہے یا اسکے کسی مدمقابل یا علاقے کے دوسرے با اثر کو پروٹوکول ملنا شروع ہو جاتا ہے تو اسکی انا مجروح ہو جاتی ہے اور وہ فوراََ اپنی انا کی تسکین اور اپنے مد مقابل کو سبق سکھانے کی خاطر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیتا ہے۔بعینہ یہی منظر ہر سیاسی گروہ میں حاوی نظر آرہا ہے ۔ یعنی سیاست، کسی مقصد کے لئے نہیں بلکہ ، دھڑے بندی، سیاسی ، گروہی اور ذاتی انا کی بنیادوں پر استوار ایک منظر نامہ رہ گیا ہے۔

مروجہ سیاسی کلچر میں ایک المیہ یہ ہے کہ نون لیگ ، پی پی پی اور پی ٹی آئی تینوں دراصل ایک ہی نظریہ کے علم بردار یوں ہیں کہ تینوں کا کوئی بنیادی سیاسی نظریہ ہے ہی نہیں۔وقت گزاری ، طعنہ زنی ، جذباتی اندازِ فکر ، مفاد پرستی اور ابن الوقتی انکا خاصہ ہے ۔ نظریاتی اصطلاح میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ تینوں ایک ہی دعویٰ (Thesis) رکھنے والے سیاسی گروہ ہیں نظریاتی سیاسی تاریخ کی روشنی میں انکے مقابلے کے لئے جواب دعویٰ (AntiThesis) رکھنے والے سیاسی گروہ کی ضرورت ہے۔ مشاہدے کی رو سے شاید یہ جماعتیں جے یو آئی، جماعت اسلامی، اے این پی یا ایم کیو ایم ہو سکتی ہیں۔ لیکن واضح ہے کہ ان میں سے اکثر کسی نہ کسی حوالے سے دعویٰ رکھنے والے گروہوں سے منسلک ہیں۔لہٰذا یہ گروہ جواب دعویٰ لانے کا فریضہ سر انجام دینے سے قاصر ہیں۔یہ ملکی سیاست کے لئے بد شگونی ہے اورنتیجہ افراتفری ، فکری تضاد اور سیاسی ابتری کی شکل میں سامنے ہے۔

ایوب خان کے گیارہ سالہ دور آمریت کو ایک دعویٰ سمجھ لیں اس میں 22 بڑے دولت مند خاندان سرکاری مراعات کا فائدہ اٹھا کر وجود میں آئے۔مزارعین اور مزدور رُل کر رہ گئے۔ ذولفقار علی بھٹو روٹی کپڑا اور مکان کا جواب دعویٰ لے کر ابھرے جو ایک کامیاب گُر ثابت ہوا اور ایک بڑی تبدیلی آئی ۔ بھٹو دور کے کئی معمولی منفی نتائج کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بڑے مثبت اثرات سامنے آئے۔سب سے بڑا سماجی اثر تو غریب اور محنت کش طبقے کا شعور تھا۔بھٹو حکومت نے مزدوروں کے سماجی تحفظ کے لئے غیر معمولی اقدامات کیے۔قومی سطح پر سٹیل مل ، کامرہ کمپلیکس ، ہیوی مکینکل کمپلیکس ، شاہراہ ریشم جیسے بڑے منصوبے بنے۔ 1973 کا آئین ، تحفظ ختم نبوت عالمی او ر اسلامی دنیا میں پاکستان کی متحرک شناخت اور اسلامی سربراہی کانفرنس کا پاکستان میں انعقاد مزید مثالیں ہیں۔ یہ ایک (Synthesis) یاحسین امتزاج تھا۔ جو دعویٰ اور جواب دعویٰ کے مدارج سے گزر کر دس سال میں ایک بڑی تبدیلی کی صورت میں نمودار ہوا۔ جب 1977 سے ایک دفعہ پھرآمریت کا قبضہ ہوا تو 1988 میں ایک دفعہ پھر گیارہ سال بعد دوبارہ بینظیر بھٹو بھاری رکاوٹوں کے باوجود وزیر اعظم بن گئیں۔ لیکن اسکے بعد جس کھیل کا آغاز ہوا اسکے منفی اثرات آج تک موجود ہیں ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا دعویٰ ہے کہ ریاستی ادارے کام نہیں کر رہے ۔پارلیمنٹ میں کورم پورا نہیں ہوتا۔ بیوروکریسی میں تقرریاں خوش آمد اور پسند کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ جو جماعتیں ملک میں تبدیلی لانے کی علم بردار ہیں وہ سیاسی بصیرت ، سیاسی حرکیات اور معاملات کی نوعیت کا ادراک یا تو رکھتی ہی نہیں اور اگر رکھتی ہیں تو اس مشکل راستے پر چلنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو حقیقی تبدیلی یا جواب دعویٰ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ تحریک انصاف صرف نون لیگ کو پچھاڑنے کی خاطر کرپشن کے نام پر مہم چلا رہی ہے۔ اور اس کی اپنی ہئیت ترکیبی کرپشن سے عبارت ہے ۔جماعت اسلامی کافی حد تک اصول پسند اور منظم سیاسی گروہ ہے لیکن اب اس کی باریک چھلنی میں بھی پراپرٹی ڈیلروں کے گروہ کار فرما ہیں۔تحریک انصاف میں تو چھلنی ہی کو ئی نہیں بس چھاج ہیں۔

 

سردست وطن عزیز کو ایک نڈر ، بے باک اور دیانتدار رہنما کی ضرورت ہے ۔ لیکن وہ کہیں نظر نہیں آرہا۔ ایسا لیڈر جو سیاسی حقائق کا ادراک رکھتا ہو ۔ ایسی لیڈر شپ موروثی جماعتوں کے ہاں نہیں ہوتی۔ لہٰذا موجودہ کلچر میں کسی جوہری تبدیلی کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے اور تبدیلی کی خواہش محض ایک سراب ہے۔پورے ملک میں انتخابات سے پہلے انتخابی بخار کا منظر ہے۔ اور ہر جماعت دوسرے سے بڑھ کر بڑا جلسہ کرنے میں مگن ہے۔ لہٰذا تبدیلی کی خواہش ’’خیال است و محال است و جنوں‘‘ لیکن مایوسی گناہ ہے۔ ناامیدی کی فضا میں امید کی کرنیں اب بھی موجود ہیں۔ملک کا نوجوان طبقہ بہر حال پہلے کی نسبت بیدار اور قومی معاملات میں دلچسپی کی طرف مائل ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عجلت پسند سیاسی قیادت کے روےئے میں بھی بہتری پیدا ہونے کی امید ہے۔نو جوانوں کی متحرک شرکت کے ساتھ سیاسی کلچر میں بتدریج صحت مند تبدیلیاںآنے کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں جماعت اسلامی کے یوتھ ونگ کے انتخابات کے پی کے میں منعقد ہوئے ۔ یہ جس انداز میں منعقد کیے گئے اس پر جماعت کی قیادت بہر حال تحسین کی مستحق ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی نے پا ناما کیس کی سماعت کے لئے نئے بینچ کی تشکیل کا خیر مقدم اور اس پر اعتماد کا اظہار کر دیا ہے ، لہذا یہ اطمینان بخش علامات ہیں جو مستقبل کے سیاسی منظر نامے پر مثبت طور پراثر انداز ہونگی ۔ تحریک انصاف ، پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی صوبائی اور وفاقی حکومتیں سوشل سیکٹر میں کوئی بنیادی تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ لیکن یہاں بھی ناامیدی اس لحاظ سے امید میں بدل جاتی ہے کہ ملک میں نہ صلے کی پروانہ ستائش کی تمنا کے حامل بہت سے غیر سرکاری ادارے بھی فعال ہیں ۔ ان میں ایدھی ٹرسٹ، چھیپا ٹرسٹ، انصار برنی ٹرسٹ، اخوت فاؤنڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن ، شوکت خانم ہسپتال، ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی ایس آئی یو ٹی، ہمدرد فاؤنڈیشن، جو ایک ریاست یا حکومت کی استطاعت کے برابر عام حاجت مند لوگوں کو خوشیاں فراہم کر رہی ہیں، شامل ہیں۔ اﷲتعالیٰ انکو مزید خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

منظر پر موجود سیاسی گہما گہمی میں بھی امید کی کرنیں نظر آرہی ہیں۔ تحریک انصاف بالآخر بائیکاٹ ختم کر کے پارلیمنٹ میں آگئی ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو اگرانتخاب جیت کر پارلیمنٹ میں آتے ہیں تو اس سے پارلیمنٹ کا وقار مزیدبڑھے گا۔ پاکستان کے مروج سیاسی کلچر میں کسی انقلابی تبدیلی کی توقع نہیں لیکن بتدریج اصلاح کا امکان واضح طور پر موجود ہے۔فہم ودانش اور قومی معاملات پر نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ سیاسی کلچر میں تبدیلی ہمیشہ سماجی کلچر میں تبدیلی کی مرہون منت ہوتی ہے۔جب تک معاشرے اور سماج کی سوچ میں شعوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آتی اس وقت تک سیاسی تبدیلی ناپائیدار ہوتی ہے۔سماجی تبدیلی کیلئے نوجوانوں کے اجتماعی فکر کی مثبت اور متحرک نشوونما لازم ہے۔ فکر اور سوچ کی یہ انفرادی تبدیلی نیچے سے اوپر تک سفر کرے گی تو بالآخر یہ اوپر کی سطح پر ایک دیانت دار لیڈر شپ کو آگے لانے میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔اِن شااللہ

معاشی اشارات بھی اﷲتعالیٰ کے فضل و کرم سے مثبت ہیں۔ معاشی ماہرین کا اتفاق ہے کہ مجموعی قومی پیداوار کی شرح کم سہی لیکن اس میں اضافہ ہوا ہے ۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا معُجزہ سمجھ لیں لیکن مہنگائی بہر حال قابو میں ہے۔میڈیا ریٹنگ میں منفی رجحان کی طرف مائل ہے لیکن آگاہی کا کام بھی بہر حال کر رہا ہے۔پنجاب میں مولانا مسرور انور جھنگوی اگر چہ ایک انتہا پسند جماعت کا حصہ تھے ۔لیکن جے یو آئی میں شامل ہو کر قانون پسند اور آئین پسند جماعت کا حصہ بن گئے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نے ایم کیو ایم لندن سے برات کا اعلان کیا ہے ۔ مذہبی سیاسی جماعتیں، ظاہری طور پر سہی ، انتہا پسندانہ رجحانات اور طالبان کو بھائی کہنے سے تائب ہو گئی ہیں۔عسکری تنظیموں کی کارروائیاں کم ہو گئی ہیں۔ چین پاکستان اور روس قریب آگئے ہیں ۔ سی پیک میں سنٹرل ایشیا ، ترکی اور ایران کو پارٹنر بنانے پر کام شروع ہو گیا ہے، افغانستان کا معاملہ ابتر ہے لیکن امریکہ کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے جو بذات خود امید کی ایک کرن ہے۔

رہا ملکی سطح پر کرپشن کا قضیہ ، تو حقیقت یہ ہے کہ جو معاشرہ دنیا میں جس حد تک زیادہ پسماندہ ہے ۔ وہاں کرپشن اتنی ہی زیادہ ہے ۔ صنعتی اور تجارتی طور پر ترقی یافتہ معاشروں میں کرپشن اتنی ہی کم ہے۔ لہٰذا جب ہمارے معاشرے میں کوئی بڑی معاشی تبدیلی آئے گی تو یہاں بھی کرپشن کی شرح بتدریج کم ہو جائیگی ، اس کے علاوہ سیاسی پارٹیاں نچلی سطح پر جتنی زیادہ منظم ہونگی۔ اتنی زیادہ اوپر کی سطح پر سیاسی اور ادارتی سطح پر کرپشن دم توڑتی نظر آئے گی۔ بہر حال اﷲسے قوی امید ہے کہ پاکستان دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرے گا۔

مزید : کالم