شناختی کارڈ کے مراکز کی کارکردگی؟

شناختی کارڈ کے مراکز کی کارکردگی؟
 شناختی کارڈ کے مراکز کی کارکردگی؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ تین چار روز پہلے کی بات ہے، میں اپنے صاحبزادے کے ساتھ کریم بلاک علامہ ا قبال ٹاؤن کے نادرا آفس گیا، یہ دفتر شناختی کارڈ کے لئے مخصوص اور وہ بھی سمارٹ کارڈ فیس والا ہے، اس کے باوجود وہاں کافی رش تھا اور ضرورت مند شہری ڈیٹا دینے اور انتظار کرنے میں مصروف تھے، یہاں ایک کاؤنٹر معلومات کا بھی ہے، مقصد یہ کہ ضرورت مند وہاں سے اپنے مقصد کی معلومات حاصل کرسکیں، جو صاحب وہاں کھڑے تھے وہ بڑے شاہانہ یا درویشانہ انداز میں معلومات بہم پہنچا رہے تھے، صاحبزادے نے ان سے دریافت کرنا چاہا کہ کارڈ بننے میں کتنا وقت لگتا ہے کہ اتنے میں ایک اور ضرورت مند نے پہل کردی اور یہی سوال پوچھا کہ کارڈ بننے میں کتنا وقت لگے گا جواب ملا آٹھ سے دس دن، سوالی نے پھر دریافت کیا کہ ارجنٹ فیس سے دو تین دن میں نہیں ملے گا، تو روکھا سا جواب تھا، ہرکارڈ آٹھ دس روز ہی میں ملے گا، وہ صاحب مایوس ہو کر لوٹ گئے، پھر ہم نے دریافت کیا کہ یہاں کتنی دیر لگتی ہے، معلوم نہیں جواب ملا، ٹوکن لے کر بیٹھ جائیں جب باری آئے گی تو معلومات مہیا کردیجئے گا، صاحبزادہ نے میری عمر کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور پوچھا، سینٹر سٹی زنز کے لئے کوئی رعائت ہے جواب ملا، کوئی نہیں، میں نے دفتر بھی آنا تھا سو مایوس لوٹ آیا کہ چلو کسی معقول جگہ جا کر کوشش کریں گے، جہاں تک اس مرکز کا تعلق ہے تو یہاں کام تو ہو ہی رہا تھا تاہم رفتار سست تھی اور پھر یہ بھی بتایا گیا کہ مرکز کے اوقات کار دو بجے سہ پہر تک ہیں، پوچھا محترم شام کے وقت بھی مرکز کھلتا ہے تو پھر بتایا گیا کہ نہیں صرف دو بجے سہ پہر تک ہی ہے پھر بند ہو جائے گا۔

اس سے پہلے میں نے ممتاز بختاور ہسپتال روڈ پر بنے نادرا کے دفتر پر حاضری دی تھی، وہاں کوئی بھی نہیں تھا، یہ دفتر ایک ایسی عمارت میں ہے جس کا اکثریتی حصہ تعلیمی ادارے کے طور پر رجسٹرڈ ہے، اور یہاں کلاسیں ہوتی ہیں، اِردگرد دیکھا تو تعلیمی ادارے کے ایک محافظ سے بات ہوئی تو اس سے دریافت کیا کہ یہاں کوئی صاحب ہیں تو انہوں نے جواب دیا یہ دفتر کسی کام کا نہیں، یہاں صرف ایک فرد ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے آتا اور صرف یوٹیلیٹی بل وصول کر کے چلا جاتا ہے، ان سے پوچھا کہ یہاں تو شناختی کارڈ بھی بن جاتے تھے مذکورہ شخص نے بتایا یہ سلسلہ تو عرصہ سے موقوف ہو چکا اوراب تو کوئی بھی کسی کے ساتھ رابطے میں نہیں ہے،یہاں سے مایوس ہو کر ہی کریم بلاک گئے تھے، پر تماشہ نہ ہوا کے مصداق وہاں سے بھی مایوس ہوئی تھی۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ہمارا شناختی کارڈ 31دسمبر سے ختم ہو چکا کہ معیاد ہی اتنی تھی، چنانچہ نئے کارڈ کی اشد ضرورت تھی اور ہے، لیکن جب ہم کارڈ بنوانے نکلے تو سامنے دیواریں کھڑی نظر آئیں، اب ہم مایوسی سے بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ کارڈ کیسے بنوایا جائے کیونکہ 31دسمبر کو آج تیرہ دن ہو چکے ہیں اور ہم شناختی کارڈ سے محروم ہیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو یہ مایوسی پھیلتی اور بڑھتی رہے گی۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان بڑے سخت گیروزیر ہیں اور بعقول خودتاخیر اور کرپشن کو ختم کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں، انہوں نے نادرا پر بھی توجہ فرمائی اور کئی اقدامات کئے ، اس کے باوجود شناختی کارڈ کے مراکز کا یہ عالم ہے تو پاسپورٹ والے دفاتر کا اندازہ لگائیں چہ جائیکہ عوام کو شناختی کارڈ بنوانے میں سہولتیں بہم پہنچائی جاسکیں۔

بتایاگیا تھا کہ اب پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے نظام کو آن لائن بھی کردیا گیا ہے کہ شہری مستفید ہوں، دھکے کھانے اور ٹاؤٹوں سے محفوظ رہ سکیں، لیکن جب آن لائن کے لئے کوشش کی تو اور زیادہ مایوسی ہوئی کہ نظام بنا تو دیا گیا لیکن سافت ویر میں کوئی گڑ بڑتھی اور آن لائن نظام کام ہی نہیں کر رہا تھا شہریوں کو مجبوراً نادرا مراکز ہی کا رخ کرنا پڑتا ہے اور وہاں رش کا جو عالم ہے اس سے اللہ کی پناہ، پھر یہ کام ایک مرحلے میں نہیں ہوتا، اگر آپ کو ٹوکن مل جائے اور باری بھی آجائے تو پھر ڈیٹا فیڈ کرانے سے تصویر اتروانے تک کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور یہاں بھی سفارشی ڈنڈی ماری جاتی ہے،یہ سب کر چکنے کے بعد آپ کو درخواست سمیت دستاویزات تھما دی جاتی ہے کہ تصدیق کرا کے لائیں جو نادرا کے کسی اعلیٰ افسر یا گریڈ 16سے اوپر کے افسر سے کرائی جائے، یوں یہ مرحلہ طے ہو جائے تو پھر اگلے مرحلے کے لئے تیار رہنا پڑتا ہے، یہ سلسلہ شناختی کارڈ کی تجدید اور نیا شناختی کارڈ بنوانے کے لئے یکساں ہے البتہ پاسپورٹ کے نظام میں سب کچھ وہاں ہو جاتا ہے، صرف پاسپورٹوں کی آمد کا انتظار کرنا پڑتا ہے جو اسلام آباد کے مرکزی دفتر سے بن کرآتے ہیں، اب اگر یہ حالت اور حالات ہوں تو شہری کہاں جائیں ، شناختی کارڈ بنوانا اور پاسپورٹ وصول کرنا مختلف خرابی اور برائی ہے، سخت اقدامات کے اعلان کے باوجود اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی بلکہ یہی کہا جاتا ہے کہ اللہ رحم کرے گا۔

مزید : کالم