گندم کی سرکاری سطح پر خریدو فروخت

گندم کی سرکاری سطح پر خریدو فروخت
 گندم کی سرکاری سطح پر خریدو فروخت

  

کہتے ہیں جس کے پاس گندم کے دانے ہوں اس کے کملے بھی سیانے ہوتے ہیں مگر کس قسم کے سیانے ہوتے ہیں، اس بات کا کبھی تذکرہ نہیں ہوا۔ انسانی کردار اور رویے دونوں منفی اور مثبت بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی صورت حال سے فائدہ اٹھانے اور حالات کو بگاڑنے یا سنوارنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ رواں مالی سال ہی نہیں، ہم گزشتہ تین برسوں سے کسان کو گندم کی اچھی امدادی قیمت دے کر اچھی فصلیں حاصل کررہے ہیں مگر ہمارے ’’کملوں‘‘ کو یہ ادراک نہیں ہو سکا کہ اضافی گندم کومثبت طریقہ سے کیسے باہر بھیجا جائے،۔ عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم جبکہ ہمارے ہاں گندم خریداری قیمت عالمی مارکیٹ سے دوگنا ہے۔ اس وقت نرخ 16000/روپے ٹن ہیں جبکہ ہم گندم کسانوں سے 32600/روپے فی ٹن خرید کرنہ صرف اس پر بھاری اور ناجائز اخراجات کررہے ہیں اور پھر انہی اخراجات کو سبسڈی کے کھاتہ میں لے کرتقریباً 1300/روپے فی من گندم فراہم کر رہے ہیں۔

پہلے بھی گزارش کی تھی کہ عالمی مارکیٹ میں نرخوں کی کمی کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ کاروبار زندگی کو منجمند کر دیا جائے اور گندم کو 3سال کے لئے رکھ کر اس کے اضافی اخراجات کروا کر صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ ہی نہیں پورے ملک کو نقصان پہنچایا جائے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاقی حکومت اپنے ادارہ ٹریڈنگ کا رپوریشن آف پاکستان کی یہ ذمہ داری قرار دیتی کہ اضافی گندم کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق فروخت کردے۔ عالمی ٹینڈر جاری کرتے اور جہاں سے جو بھی کچھ حاصل ہوتا گندم کو فروخت کرتے۔ مگر اس کی بجائے کچھ مفاد پرست عناصر نے گندم کی ایکسپورٹ کو یرغمال بنا کر یر غمال پالیسی بنائی جس کے تحت تمام اہم فریقین کو شامل کرکے لوٹ مار کی گئی، جس میں ری بیٹ اور صوبوں سے سستی گندم لے کر مارکیٹ ہی میں فروخت کرکے بعد میں Rebateکلیم کرنے کی خبریں زبان زدِ عام ہیں اور تین سال میں متعدد بار اس اہم سکینڈل کی بازگشت سنائی دی مگر چونکہ سارے فریقین کو حصہ بقدر جثہ دیا جارہا تھا اس لئے کسی نے اس کی تردید بھی نہیں کی اور دیدہ دلیری کی یہ انتہا پنجاب میں زیادہ ہے، جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی گڈ گورننس کے امیج کو ان کے ہی بعض محکموں نے پرائیویٹ مافیا کے ساتھ مل کر نقصان پہنچایا۔ کسی بات کی سچائی کے لئے اس کے آخری نتیجہ کو دیکھنا چاہئے اور آپ دیکھیں گے کہ پنجاب میں جو گندم گزشتہ برس 22/23لاکھ ٹن تک فروخت ہوئی تھی اب وہ 28//30لاکھ ٹن بیچی جائے گی گویا اتنے قابل لوگ کوئی ایسی پالیسی وضع نہ کرسکے جس سے ان کی قابلیت کو تو چھوڑیں پنجاب صوبے کا امیج اور اس کا مالی نقصان بچ جاتا۔ فلورملز کے کچھ لوگ اسی کام پر لگے ہیں کہ فلورملنگ کی بجائے ایکسپورٹ ہی کرلیں جو کہ صرف طورخم اور دوسرے بارڈر پر دو لاکھ روپے کی مہر کی محتاج ہے اگر اس موضوع کو میاں شہباز شریف سنجیدگی سے لیں تو انہیں یقیناًیہ اندازہ ہو جائے گا کہ نہ صرف پنجاب کے مالی معاملات کے ساتھ ایک کھیل کھیلا جا رہا ہے، بلکہ میاں صاحب کی بطور وزیراعلیٰ اپنی شہرت کو بھینقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گندم کی ایکسپورٹ کے لئے پیکیج مانگے جا رہے ہیں جبکہ ایکسپورٹ پالیسی ایک سوالیہ نشان ہے۔

ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ اس قسم کی جعلی ایکسپورٹ کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے اور گندم ایکسپورٹ کے لئے سب سے پہلے پاسکو کی ذمہ داری ہو کہ وہ بہترین گندم برائے برآمد خریدے اور پھر ٹی سی پی کے ذریعے صرف اسی گندم کو باہر بھجوایا جائے،تاکہ ملک کی نیک نامی ہو۔ البتہ آٹے کی ایکسپورٹ کو تمام اضافی ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فلور ملنگ انڈسٹری کو بیل آؤٹ پیکیج دیا جائے تاکہ گندم کا آٹا بنا کر باہربھجوایا جائے، نہ کہ ملائی ہضم کر لی جائے اور پھر مزید 50ارب روپیہ مانگ لیا جائے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت خوش قسمت ہے کہ اس وقت بھی وہ ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد ہے۔ بجلی کی قیمتیں کم اور لوڈشیڈنگ میں بھی کمی ہو چکی ہے۔ سی پیک کے منصوبے شروع ہیں۔ موٹروے کا طویل سلسلہ چل رہا ہے۔ تعلیمی میدان میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کی سکیمیں انتہائی کامیاب ہیں، جبکہ گندم کی پیداوار میں بھی مسلسل اضافہ ملک کے لئے خوش آئند ضرور ہے، مگر ہم گندم کے معاملے میں غلط پالیسی اختیار کر رہے ہیں اور غلط ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں وہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور کوئی بھی نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، مگر سارے معاملات کی طرف وزیراعلیٰ پنجاب کی گہری اور متحرک نظر ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اہم ایشو کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ پنجاب آئندہ سال گندم اِن شا اللہ خریدے گا اور وزیراعلیٰ کے ویژن کی تکمیل ہوگی۔ کسان مطمئن ہوں گے، مگر مسلہ وہیں کا وہیں ہے۔30/32 لاکھ ٹن بچی ہوئی گندم صوبہ کے سر پر تلوار کی طرح جبکہ منافع خور اہل کاران، مافیا کے ارکان اور اسی قسم کے لوگوں کے سر پرہار کی طرح لٹکتی رہے گی، لہٰذا گندم خریدیئے، مگر اسے شفاف طریقہ سے سرکاری سطح پر فروخت کریں ناکہ جعلی ایکسپورٹ کے ذریعے بے وقوف نہ بنایاجا سکے۔

مزید : کالم