بابے

بابے
 بابے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میں ڈرائیونگ کر رہا تھا اور میرا دوست کار کی فرنٹ سیٹ پر براجمان تھا ۔ بتی چوک پر ٹریفک بلاک تھی ۔ گاڑی رُکی تو حسب معمول مانگنے والے آکر گاڑی کے شیشے پر دستک دینے لگے میرے دوست نے سب کو دس دس روپے دیے اور گاڑی کے شیشے چڑھا دئیے ۔ میں حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا آخر مجھ سے نہ رہا گیا تو میں نے کہا

’’یار یہ پیشہ ور گداگر ہوتے ہیں انہیں یوں پیسے نہ دیا کر ‘‘

اس نے مسکرا کر کہا میں نے کون سا اپنے پاس سے دئیے ہیں رب کریم نے دیئے تھے بس اس میں سے دے دئیے ۔’’مگر یہ لوگ مستحق نہیں ہوتے ناں ‘‘ میں نے دلیل دی تو وہ پھر مسکرا کر بولا مجھ پر یا آپ پر اللہ نے جتنے احسان کئے ہیں اور جو جو نعمتیں دی ہیں کیا میں اور آپ اس کے مستحق ہیں؟ میں یہ سن کر لاجواب ہو گیا اور ہنس کر کہنے لگا یار تو بھی بابا ہو گیا ہے تو مجھے بتانے لگا کہ بابے کیا ہوتے ہیں وہ کوئی سُپرہیومین چیز نہیں ہوتے بس تیرے میرے جیسے انسان ہوتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ بہت لمبا چوغہ پہن کر اور ہاتھ میں لمبی ڈانگ پکڑکر گلے میں لمبی مالا لٹکا کر ہی بابا بنتا ہے بعض خوش پوش مگر انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ بھی اندر سے بابے ہوتے ہیں بعض نوجوان بھی اندر سے بابے ہوتے ہیں آپکو یاد ہو گا ایف ایس سی میں ہم مرقع اردو میں سید عابد علی عابد کا ایک شعر بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے

تیرے خوش پوش فقیروں سے وہ ملتے تو سہی

جو یہ کہتے ہیں وفا پیرھن چاک میں ہے

میرے دوست نے مجھے اور بھی بہت خوبصورت باتیں بتائیں مثلا اس نے کہا جیسے انسان فنا ہونے والا ہے اسی طرح اس کی ساری صفتیں بھی فنا ہونے والی ہیں مگر تم نے یہ دیکھا ہے کہ میں نے ابھی کچھ لوگوں کو کچھ دیا ہے تو اپنی زندگی میں بھی میں نے بار ہا آزما کر دیکھا ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے دیں گے تو مالک اسی وقت اسی دن اس سے کئی گنا آپ کو لوٹا دے گا وہ بہترین تجارت کرنے والا ہے اس لئے کبھی اُدھار نہیں رکھتا انسان ختم ہو جائے گامگر اس کی یہ صفت ختم نہ ہو گی وہ اور لوگوں کو فیاضی سکھا جائے تو اس کا کھاتہ تا قیامت کھلا رہے گا ۔بندے کو کبھی کسی کا خوف ہوتا ہے تو کبھی کسی کا کبھی کسی کے روٹھ جانے کا ڈر تو کسی کے مان جانے کی آس مگر بابے ایسے خوف اور ایسی اُمیدوں سے ماورا ہو جاتے ہیں وہ لمبی لمبی آرزوئیں نہیں باندھتے اسی لئے بے خوف رہتے ہیں امن میں رہتے ہیں اور خوش رہتے ہیں بہت بڑا نفع ہو جائے تو وہ خوش نہیں ہوتے اور بہت بڑا نقصان انہیں مغموم نہیں کر سکتا ۔۔۔ میں اگر اپنے اردگردکسی خوش پوش بابے یا سادہ زندگی گزارنے والے بابے کو تلاش کرنا چاہوں تو کیسے کروں ۔؟‘‘ میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کرتے ہوئے اپنے دوست سے مزید پوچھا

اس نے ایک لمبی آہ بھری اور فرنٹ سیٹ کا لیور کھینچ کر اسے آرام کرسی بنا کر نیم دراز ہو گیا ۔ آنکھیں بند کر کے وہ کسی انجان سحر مین کھو گیا الفاط اس کی زبان سے اک خمار آلودہ کیفیت میں ادا ہو رہے تھے ۔ وہ کہہ رہا تھا بابے بڑے صاحب دل ہوتے ہیں وہ اپنے اندر کی مایا کو بنا چکے ہوتے ہیں مگر وہ اپنے اسرار ظاہر نہیں کرتے بس وہ اللہ کی محبت میں کچھ اور آگے جاتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے اک پردہ ہٹ جاتا ہے دنیا کی حیثیت ان کی نظروں میں کچھ اور گر جاتی ہے بصارت نہ بھی ہو تو اس طرح کے انسان کی آنکھیں سب کچھ دیکھ لیتی ہیں وہ دعائیں کرتے ہیں تو کسی اور ہی دل سے ! مثلا ایک معروف دعا ہے۔ ربنا آتنافی الدنیا، والی ! اس کا کیا مفہوم اور ترجمہ ہے ؟

میں نے کہا ترجمہ تو با لکل واضح ہے کہ اے اللہ مجھے دنیا اور آخرت کی حسنہ یعنی بھلائی عطاء کر ۔۔۔میرے دوست نے اُسی طرح آنکھیں موندے ہوئے کہا ’ اچھا ‘ اس نے اچھا کے آخری لفظ کو اور لمبا کیا اور کہا یہی تو تمہیں مغالطہ لگتا ہے صاحب دل لوگ اور رب سے پیار کرنے والے اس دعا کا ترجمہ یوں کرتے ہیں اے ہمارے رب تو دنیا میں ہمیں مل جائے اور آخرت میں جدا نہ ہو یہ ہماری التجا ہے حسنہ کا مطلب وہ یہی لیتے ہیں ۔ یہ بابے یا صوفی اسی خیال کے حامی ہوتے ہیں ‘‘یہ صوفی کیا ہوتا ہے؟

میں نے پوچھا تو میرے دوست نے آنکھیں کھول کر دیکھا اور کہا جو اندر سے بھی صاف ہو اور باہر سے بھی صاف نظر آئے جو صاف دل ہو وہ صوفی ہوتا ہے ۔

میرے لئے گاڑی چلانااب ممکن نہ تھا اس سے پہلے کہ ہم خدانخواستہ کسی حادثے کا شکار ہو جاتے میں نے سٹرک کے ایک طرف گاڑی روک دی ۔ میرا دوست ابھی نیم دراز تھا اور نیم خوابیدگی کے عالم میں تھا میں نے پھر دلچسپی سے پوچھا اچھا یہ بتاؤ رب کریم کی محبت میں جب صاحب حال یا یہ بابے اس چاہت والے راستے پر چلتے ہیں تو کو ن کون سے مقام راہ میں آتے ہیں اس نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا جیسے کوئی راز افشا ہو جائے گا اور پھر کہا کہ صاحب حال نے جسے عبور کر لیا پھر وہ مقام تو نہ رہا ابتدا سے انتہا کی طرف جانے والا راہی پھر کہیں قیام تو نہیں کرتا اور تم ذرا غور کرو گے تو سمجھ آ جائے گی کہ منزل تک پہنچنے کے لئے سواری ضروری تو نہیں میرا مطلب ہے چیزوں سے محبت چھوڑ دو فانی انسان اگر کسی چیز پر اپنی ملکیت جتائے تو یہ کتنی بڑی بے وقوفی ہو گی چیزیں ضروری تو نہیں ہیں انسان ضروری ہے ہم نے اس ہوشرباترقی اور سائنسی دور میں چیزوں پر محنت کی لوہے پر محنت کی تو وہ سمندر پر تیرنے لگا پلاسٹک پر محنت کی تو لوہا اور پلاسٹک ہواؤں اور فضاؤں میں اُڑنے لگے اور لوہا خلا کو تسخیر کر کے آگیا مگر انسان پر محنت نہیں کی تو انسان بے قیمت بے وقعت اور بے حثیت رہ گیا لوگ چند سو روپوں کی خاطر انسان کو قتل کر دیتے ہیں ۔ بابے کہتے ہیں انسان کے دل پر محنت کرو یعنی BASIC CELLSپر کام کرو فرد معاشرے کی اکائی ہے فرد ٹھیک ہو گیا تو معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا گھر ٹھیک ہو جائے گا گلی ٹھیک ہو جائے گی محلہ ٹھیک ہو جائے گا شہر ٹھیک ہو جائے گا تو پھر ملک تو آٹومیٹک ٹھیک ہو جائے گا ۔

ًًٍٍتو پھر ہم کیا کریں ؟ میں نے زچ ہو کر کہا تو وہ میرے کان میں سر گوشی کرتے ہوئے بولا گورنر کو ناظم کو ڈپٹی کمشنر کو اور وزیراعظم کو ان کی سیٹ سے اُتارنا مقصود نہیں نہ ہی ایسا کرنے سے انقلاب آئے گا اُنہیں اُتاریں گے تو پرانے کرپٹ لوگ چلے جائیں گے نئے کرپٹ لوگ آجائیں گے ان لوگوں کو جو سیٹ پر بیٹھے ہیں بس اُنہیں ٹھیک کرنا ہو گا منبر پر بیٹھے شخص کو ٹھیک نہیں کیا اسی لئے مذہبی فرقہ واریت کا عفریت ہمیں کھا گیا ڈاکٹر وکیل تاجر اور استاد مکرم میں فرض شناسی پیدا نہیں کی ان کے دلوں پر محنت نہیں کی انھوں نے معاشرہ خراب کر دیا اور جب معاشرے میں انحطاط پیدا ہو جائے تو پھر ایسے معاشروں سے بابے رُخصت ہو جایا کرتے ہیں ۔

مزید : کالم