تعلیم اور معاشرتی انقلاب کی راہ (3)

تعلیم اور معاشرتی انقلاب کی راہ (3)
تعلیم اور معاشرتی انقلاب کی راہ (3)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

علوم کی تدوینِ جدید:

تعلیمی حکمتِ عملی کا ایک اہم مقصد اور ہدف علوم کی تدوینِ جدید ہے۔ علوم چاہے معاشرتی علوم ہوں یااطلاقی (applied) جب تک ان کے بنیادی تصورات کودرست نہ کیاجائے، وہ ذہن اور معاشرہ پیدا نہیں کر سکتے، جو صرف اللہ کو رب مانتا ہو اور اصلاحِ احوال پر منتج ہو۔ غورو فکر اس بات پر ہونا چاہیے کہ ہم نے اب تک کن علوم کو اسلامی بنیادوں پر نئے سرے سے مدون کیا ہے اور بقیہ علوم کی اسلامی تشکیل جدید کا بنیادی کام کتنے عرصے میں کر لیا جائے گا۔ یہ وہی عمل ہے جس کے لئے قائد تحریک اسلامی نے خود بیش قیمت کام کیا۔ زندگی کے مختلف شعبوں کے لئے فکر اسلامی کی روشنی اور تشکیلِ نو کے خطوط کی نشان دہی کی اور فکر کو ایک نئے رخ سے آشنا کیا۔ علومِ اسلامی کی تشکیلِ نو کے لئے واضح خطوطِ کار بھی متعین کئے ، اس کام کو مختلف میدانوں میں کرکے دکھایا اور نئے چراغ روشن کئے۔ اس کے لئے ملک اور ملک سے باہر اداروں کے قیام کی فکر بھی کی، لیکن اس کام کو جاری رکھنے اور نئی رفعتوں سے روشناس کرانے کے لئے کیا کیا جارہا ہے ؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور جو کمی کوتاہی ہے اس کی تلافی کی فکر بلا تاخیر کرنا چاہیے۔اس وقت وطنِ عزیز میں مروجہ تعلیمی نظام کی بنیاد، زندگی میں تقسیم کے اصول پر ہے، چنانچہ اس طرح جو ذہن پیدا ہوتا ہے وہ انسانی زندگی کو دنیاوی اور روحانی خانوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک کا تعلق اس کے ذاتی روحانی سکون سے ہے اور دوسرے کا تعلق مادی ترقی ، قوت اور دولت سے۔ اسلام اس تقسیم کو شرک سے تعبیر کرتا ہے اور تمام علوم کو وحیِ الٰہی کی روشنی میں مادی اور تجرباتی معیار کی جگہ ابدی اخلاقی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے۔ معاشرے میں عدلِ اجتماعی کے قیام کے لیے تمام اطلاقی علوم (Applied Sciences) کی تدوینِ جدید کے ذریعے ایک ہمہ گیر فکری انقلاب کو ضروری قرار دیتا ہے۔ اسلام رنگ و نسل، جنس اور زبان کی قید سے بلند ہو کر معاشرے کے ہر فرد پر کم از کم اتنی تعلیم کا حصول فرض قرار دیتا ہے، جس سے وہ شعوری طور پر ہرعمل کے اخلاقی یا غیر اخلاقی ہونے کا فیصلہ کر سکے اور حلال و حرام میں تمیز کے قابل ہو ، اسے طہارت اور نجاست کا فرق معلوم ہو۔ یہ طہارت محض جسمانی نہیں، فکری بھی ہے اور معاملات کی بھی۔

خدمتِ خلق کا وسیع تر معاشرتی تناظر:

تعلیم کے ذریعے معاشرتی اصلاح اور انقلاب کے عمل میں قرآن کریم، اللہ کے بندوں کی معاشی، معاشرتی، سیاسی، ثقافتی ضروریات کو پورا کرنا بھی ایک فرض قرار دیتا ہے۔ جس طرح انسانوں پر اللہ کا حق ہے کہ رب العالمین کو وحدہٓ لا شریک مانتے ہوئے اپنا سر اطاعت اس کے سامنے جھکا دیا جائے، اسی طرح اللہ کے بندوں کا حق یہ ہے کہ ہر ضرورت مند ، مسکین ، فقیر، غریب کی اس حد تک امداد ہو جائے کہ وہ اپنے پاوٓں پر کھڑا ہوسکے۔ یہی زکوٰۃ کا فلسفہ ہے اور اسی بنا پر صدقات ہوں یا انفاق، ان کے بارے میں فرما دیا گیا کہ جو کچھ ایک فرد کی اپنی ضروریات سے زائد ہو، وہ اسے اللہ کی خوشنودی کیلئے ضرورت مندوں پر خرچ کردے، تاکہ اس مال کے بدلے اسے 70 گنا یا اس سے بھی زیادہ اجر آخرت میں مل جائے۔ اسلام خدمت خلق اور حقوق العباد کو ایک وسیع تر معاشرتی تناظر میں دیکھتا ہے۔خصوصاً اسلامی تحریکات، بنیادی دعوتی مقصد کے حصول کیلئے اس پہلو کو اپنی سرگرمیوں میں خصوصی ترجیحی مقام دیں۔ اس حوالے سے سب سے پہلے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اللہ کے بندوں کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کی طرف توجہ کی جائے۔

یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ ’’الخدمت‘‘ کے زیر انتظام شفا خانے اور طبی مراکز ملک کے بعض حصوں میں خدمتِ خلق کے لئے موجود ہیں۔یہاں پھر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کو مریضوں کی فکری اور روحانی صحت کے لئے بھی استعمال کیا جارہا ہے ؟ ملک گیر منصوبہ بندی کے ذریعیہر مریض کے احوال کا تجزیہ اور حاصل شدہ معلومات کی بنا پر اس تک دعوتی معلومات پہنچانے کے لئے کاوشوں کا میدان کھلا ہے؟ یہی شکل تعلیم گاہوں میں اختیار کی جانی چاہیے، کہ والدین کے ساتھ کس درجے کا رابطہ رکھا گیا ہے؟ تعلیم اور خدمت خلق دراصل دعوت کے وسیلے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف اللہ کے بندوں کی جسمانی صحت ہے، بلکہ ان کی اخلاقی و روحانی ترقی اور فکری اصلاح بھی اس کا ایک اہم مقصد ہے۔

طبی سہولتیں مختلف شکلوں میں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ بہترین شکل تو مفت طبی امداد کے مراکز کا قیام ہے، تاہم، کام کے آغاز کے لئے ایسے علاقوں میں جہاں دور دور تک ہسپتال کا وجود نہیں ہے، مقامی افراد سے مشورہ کر کے بآسانی انتظام کیا جا سکتا ہے کہ کوئی صاحبِ خیر اپنے گھر کا کوئی ایک کمرہ، جس کا دروازہ باہر کھلتا ہو ،اس میں طبی معائنے کی میز رکھنے اور طبیب کے بیٹھنے کی جگہ نکل سکتی ہو،رضاکارانہ طور پر استعمال کر نے کی اجازت دے سکتا ہے۔ اس طرح بغیر کسی مالی بوجھ کے جگہ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی ایک دو مستند ڈاکٹروں سے رضاکارانہ طور پر ہفتہ میں ایک یا دو دن کا وقت مانگا جا سکتا ہے۔ علاقے کے میڈیکل اسٹوروں سے بات کی جاسکتی ہے۔ ایسے افراد جو قیمتی ادویات نہیں خرید سکتے،خصوصی رعایت کرکے اور بعض ادویات اس طبی مرکز کو عطیے کے طور پر بھی دینے کی تدبیر کریں۔ یہ سارا کام قیاسی نہیں ہے، بلکہ ذاتی تجربے پر مبنی ہے۔ تعلیم کے میدان میں گھر،سکول اور بیٹھک سکول کا تجربہ بھی اس سلسلے میں مشعلِ راہ بن سکتا ہے۔ طبی امدا د کے لئے سوزوکی کیری میں ایک پورا سفری شفاخانہ بنایا جا سکتا ہے، جو مقررہ دنوں میں کم آمدنی والوں کی بستیوں میں جا کر دو یا تین گھنٹے صرف کرے ، خصوصاً بچوں میں امراض کے تدارک کے لئے عوام کو تعلیم و تربیت دے اور ساتھ ہی بچوں کے مفت معائنے کے بعد انھیں ادویات بھی تجویز کرے۔ ایسے معاملات، جن میں علاج کے لئے ہسپتا ل میں داخلہ ضروری ہو، انھیں کسی قریب کے ہسپتال تک پہنچایا جائے اور ادویات کے حصول میں ان کی امداد کی جائے۔

ملکی یونیوورسٹیوں میں تعلیم پانے والے طلبہ وطالبات کو رضاکارانہ طور پر الگ الگ وفود کی شکل میں قریبی ہسپتالوں کا دورہ کرایا جائے اور طلبہ مردوں کے وارڈ میں اورطالبات خواتین کے وارڈ میں جا کر ان کی عیادت کریں اور انھیں کوئی تحفہ دیں، چاہے وہ کوئی پھل یا ایک پھول ہی کیوں نہ ہو۔اس معمولی عملِ خیر کے نتیجے میں طلبہ وطالبات کو زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔ جب وہ اپنی جیب سے پھل خرید کر مریضوں میں تقسیم کریں گے توجذبہٓ انفاق پیدا ہو گا اور باہمی اخوت کو تقویت ملے گی۔ اس پوری مشق کا مقصد طلبہ اور طالبات کو عملی دعوت سے روشناس کرانا اور خدمتِ خلق کے ذریعے متحرک کرنا ہے۔ تعلیم بالغاں بھی کرنے کا ایک اہم کام ہے۔ مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو رضاکارانہ طور پر طلبہ کے ذریعے خصوصاً گرمیوں کی تعطیلات میں تعلیم بالغاں کے مراکز قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ملک میں معاشی عدم استحکام نے ہر شخص کو کرب ناک معاشی دوڑمیں لگا دیا ہے۔ معاشی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے تحریک ایسے اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے جو چھوٹے کاروباروں کے لئے غربت اور بے روزگاری میں کمی لاسکیں، اور جو لوگ اس طرح ان کے رابطے میں آئیں، ان کی فکری تربیت کے ذریعے تحریک کی قوت میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

اداروں کی تعمیرِنو:

ہمارے ابلاغِ عامہ کے اداروں نے گذشتہ 20سال کے عرصے میں جس طرح قوم کو بداخلاقی ، بد اطواری اور بد معاملگی کی تعلیم دی ہے، اس سے قوم کو نجات دلانے کے لئے تعمیری اور مثبت کام کی ضرورت ہے، محض تنقید اور احتجاج سے کام نہیں چل سکتا۔ بغیر کسی مزید تاخیر کے دعوتِ دین کے حوالے سے یہ چیز اب واجب کا مقام رکھتی ہے کہ تحریک سے وابستہ افراد کم از کم ایک میڈیا ہاوٓس قائم کریں ، جو تعلیمی ، اصلاحی اور معاشرتی موضوعات پر ایسے پروگرام بنائے، جو فنی طور پر اعلیٰ معیار کے ہوں اور تحریک کی دعوت کو پیش کرتے ہوں۔جب تک ابلاغِ عامہ کے ہم خیال ادارے قائم نہیں ہوتے، کم ازکم جو روایتی ادارے موجود ہیں، انھیں شعوری طور پر توسیعِ دعوت ، تعمیر فکر و کردار کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس غرض کے لئے خصوصی تربیتی پروگراموں کا ایک سلسلہ شروع کرنا ہو گا۔اس کے لئے مساجد اور کمیونٹی کے مراکز [چوپال] کو استعمال کرنا ہو گاکہ عوام میں مسائل کا شعور اور ان کے حل کے لئے آگاہی پیدا ہوسکے۔ مفت مشاورت فراہم کرنے والے مراکز ہرگاوٓں اور شہر میں قائم کئے جائیں، جن میں مقررہ اوقات میں رضاکارلوگوں کے مسائل سنیں اور انھیں قرآن و سنت کی روشنی میں حل سے آگاہ کریں۔

موجودہ معاشرتی مسائل کچھ اس رْخ سے اْلجھتے جارہے ہیں کہ خاندان میں معمولی معمولی اختلاف کے نتیجے میں طلاق کو ایک کھیل بنا لیا گیا ہے۔ قرآن و سنتِ رسولٓ کی روشنی میں جو چیزسخت ناپسندیدہ ہے، اسے ڈراموں ، فلموں اور ٹی وی شوز میں مضحکہ خیز شکل دے کر لوگوں کو دین سے دْور کیا جار ہاہے۔نہ صرف طلاق ،بلکہ سگریٹ نوشی نے بھی صحت کے بے شمار مسائل کھڑے کر دیئے ہیں۔ اس نوعیت کے معاشرتی مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کی آگاہی کے لئے وقتاً فوقتاً کسی ایک مسئلے پر ملک گیر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ جس میں علمی بحث بھی ہو، اور جمہوری ذرائع سے عوام کی تعلیم بھی۔ جب تک ہم مقامی مسائل کو سمجھنے کے بعدحل پیش نہیں کریں گے،ہماری دعوت نامکمل رہے گی اور تحریک کی متوقع دعوتی کا میابی کی منزل قریب نہیں آسکے گی۔

مختلف شعبہ ہاے زندگی سے وابستہ افراد کے لئے ایسی تنظیمیں قائم کرنا ہوں گی، جن میں ماہرین فن اپنی پیشہ ورانہ ضرورت کے طور پر ان اداروں سے وابستہ ہوں اور معاشرتی تعلیم و انقلاب کے عمل میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں۔ اس حوالے سے پہلے سے قائم شدہ تنظیموں کا جائزہ اور ان کے کام کی رفتار ، اہداف کا تعین اور حکمتِ عملی پر غور کرنا ہو گا کہ انھیں کس طرح مزید موٓثر بنایا جائے۔ مختلف پیشہ ورانہ تنظیموں کا مقصد بھی غیر سیاسی انداز میں تربیت اور اصلاحِ اخلاق ہو نا چاہیے تاکہ خلوص اور بے غرضی کا احساس ان اداروں سے وابستہ افراد میں راسخ کیا جاسکے۔ دعوت کے کام کے غیر سیاسی پہلو سے قطعاً یہ مراد نہیں کہ سیاسی کام دعوتی کام سے مختلف ہے۔

خواتین کی فکری تطہیر و تنظیم:

تعلیمی اور معاشرتی انقلاب اور اصلاح کے کام کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ خواتین کے مسائل کے، صحیح شعور کے ساتھ، قرآن و سنت کی روشنی میں ایسے حل تجویز کئے جائیں جو جدید تعلیم یافتہ خواتین کو مطمئن کر سکیں۔ بیرونی امداد پر چلنے والے بے شمار رفاہی اداروں نے حقوق نسواں کے نام پرخواتین میں اشتعال اور اسلام سے دْوری پیدا کرنے کو اپنا نصب العین بنا لیا ہے۔ تحریک اسلامی کو ان موضوعات پر اپنا موقف اور زیادہ واضح انداز سے پیش کرنا ہو گااور بغیرکسی معذرت کے اسلامی تعلیمات کو جدید زبان میں اس طرح پیش کرنا ہو گا کہ عقلی دلائل اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر اسلام کے صحیح خدوخال کا فہم عام کیا جاسکے۔ موجودہ صورتِ حال میں خواتین میں ملک گیر بنیادوں پر ایک واضح تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ایک جانب بہت سی وہ خواتین ہیں، جو کل تک اسلام کے بارے میں مخصوص پروپیگنڈے کے زیراثر ہچکچاہٹ کا شکار تھیں، اب اسلام سے قریب آئی ہیں۔ دوسری طرف این جی اوز کلچر نے بہت سی نوجوان خواتین کو اسلام سے دْور بھی کیا ہے۔ اس پہلو سے بھی مناسب حکمت عملی کے ساتھ اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خواتین کی فکری تطہیر اور تنظیم غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن۔لاہور)

مزید : کالم