طیبہ اور انحطاط پذیر معاشرہ

طیبہ اور انحطاط پذیر معاشرہ
طیبہ اور انحطاط پذیر معاشرہ

  

گزشتہ جمعہ کے روز ہی حیدرآباد لٹریری فیسٹیول کا انعقاد ہوا تھا۔ ڈرامہ ’’جنگل ‘‘لکھ کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی ڈرامہ نویس نور الہدی شا ہ مہما نان خصوصی میں شامل تھیں۔ میں نے ان سوال کیا کہ پاکستانی خصوصاً سندھی زبان میں جو ادب تخلیق کیا جارہا ہے، کیا اس کی وجہ سے کوئی معاشرتی تبدیلی آرہی ہے۔ دیگر باتوں کے علاوہ وہ کہنے لگیں کہ کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔ معاشرہ بری طرح انحطاط پذیر ہے۔ رویئے جارحانہ ہوگئے ہیں اور ادیب بھی اس کا شکار ہے ۔ وہ خود ایک زمیندار گھرانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کی بات کی دلیل مجھے طیبہ کا معاملہ سن اور دیکھ کر محسوس ہوئی۔ جی ہاں، طیبہ وہی کمسن لڑکی جو جج صاحب کے گھر پر ملازمہ تھی۔ ان کے گھر میں یہ لڑکی جس کی عمر اسکول جانے اور کھیلنے کودنے کی ہے، کس جسمانی، ذ ہنی اور روحانی اذیت سے گزری۔ اس کی تفصیل دیکھ اور پڑھ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔ کیا پاکستان کے پڑھے لکھے، بہتر روزگار اور ہر قسم کی ضروری آسائشوں کے ساتھ زندگی گزارنے والے گھرانے بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ طیبہ بچہ ہی ہے۔ کوئی نہ کوئی غلطی ہوئی ہوگی، اس کی سزا ایسی ملی کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کے جسم پر زخموں کے بائیس نشانات پائے گئے۔ بچی کو مارا گیا، جلایا گیا۔ جن لوگوں نے اس کے ساتھ اس انتہائی بے دردی کا مظاہرہ کیا انہوں نے اسے بھوکا بھی رکھا ہوگا۔ کیا یہی حسن اخلاق ہے، کیا یہی قانون کا خوف ہے، کیا مکافات عمل کا خوف بھی نہیں رہا۔ کہاں گیا قانون، معاشرہ، رواج، روایات ۔ قانون پر عمل در آمد کرنے اور کرانے والے لوگ ایسے میں جیسا اس پولس انسپکٹر نے طیبہ کے والد کے ساتھ کیا کہ ایک ایسی تحریر پر انگوٹھا لگوایا جس میں طیبہ کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو معاف کر دیا گیا تھا۔ یہ معاشرے میں پائے جانے والے رجحانات کی عکاسی ہے۔

پاکستانی معاشرے میں ہر شخص بے رحم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پورا معاشرہ اوپر سے لے کر نیچے تک استحصالی معاشرہ ہے۔ ہر شخص اپنے سے نیچے والے کا استحصال کرتا ہے ۔ کسے نہیں معلوم کہ ملک بھر میں غریبوں کے بچے ، خصوصا لڑکیاں گھروں میں اپنی غربت کی وجہ سے غلامی کرتی ہیں۔ ایسی غلامی کہ اللہ تعالی محفوظ رکھے۔ کہیں سے ان کو خدمت کا بہت کم معاوضہ ملتا ہے، کہیں تو صرف دو وقت کے کھانے پر رکھ لیا جاتا ہے۔ پہننے کو پرانے اور اترے ہوئے کپڑے دئے جاتے ہیں۔ ایسے گھرانے بھی ہیں جہاں ان بچوں کو کل وقتی غلام رکھا جاتا ہے۔ کم عمر بچوں کو جن گھروں میں ملازمت کے نام پر غلام رکھا جاتا ہے، وہ کھاتے پیتے گھرانے ہوتے ہیں اور اکثر تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں سے اتنا نہیں ہوتا کہ ملازم بچوں کو اپنے بچوں جیسا درجہ ہی دے کر ان کی تعلیم و تربیت کا بھی بندوبست کریں تاکہ یہ لوگ بھی معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ پاکستان میں وسائل رکھنے والے لوگ اتنے خود غرض ہو گئے ہیں کہ وہ اپنی ذات سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ یہ لوگ ہی ہیں جو دل لبھانے والی گفتگو کرتے نہیں تھکتے، موقع ملنے پر وہ وعظ نما تقاریر کرتے ہیں، انسانیت کا درس دیتے ہیں ، موقع ملے تو ٹی وی چینل پر بیٹھ کر معاشرے کی بے حسی کا رونا روتے ہیں، جرائم کرنے والوں کو کوستے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے امن قائم کرنے کی بھیک مانگتے ہیں۔ یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے کہ جو یہ بوئیں گے، وہی تو کاٹیں گے۔ طیبہ جن مظالم کا شکار ہوئی ہے ، کوئی کیوں توقع کرے کہ کل اگر اسے موقع ملا تو وہ یہ سب کچھ نہیں دہرائے گی۔ وہ تو یہی سمجھے گی کہ رواج ہی یہ ہے کہ اپنے سے چھوٹے پر ظلم کرو، اس کا استحصال کرو۔ طیبہ کی دعوے دار تین مائیں میدان میں کیوں آئیں؟ انہوں نے کیا سوچا تھا کہ حکومت بچی کو کوئی نہ کوئی معاوضہ دے گی تو وہ اسے حاصل کر سیکں گی؟ یہ والدین بھی اپنے بچوں کا ا ستحصال کرتے ہیں۔ غربت کا رونا روتے ہیں۔ کیا ان کے پاس اپنے کھانے کو ہے اور اپنے بچے کو کھلانے کے لئے نہیں ہے۔ انہیں نے بچوں کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا غربت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اس کے سہارے قانون کو ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ قوانین پر عمل کرانے والے ادارے، محکمہ محنت کے افسران کس گہری نیند میں ہیں؟

یہ تو گھریلو ملازمہ یا ملازمین کا معاملہ ہے، یہاں تو بڑے بڑے صنعتی ادارے جس طرح قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں وہ افسوس ناک ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے د ور میں محنت کشوں کی کم سے کم تنخواہوں میں اضافہ کر کے اسے بڑھا کر سات ہزار کر دیا تھا۔ اکثر صنعتی اداروں نے وزیر اعظم کے اس حکم پر عمل در آمد اس طرح کیا کہ انہوں نے محنت کشوں کے اوقات کار میں چار گھنٹوں کا اضافہ کر دیا۔ پھر ان کے جانشین وزیر اعظم نے اضافہ کا اعلان کیا، جس پر آج تک عمل نہیں ہوسکا ہے۔ محکمہ محنت نے صنعتی اداروں کے اوقات کار بڑھانے کا دانستہ اور بوجوہ نوٹس نہیں لیا۔ ایسا نہیں ہے کہ ادارے منافع نہیں کر رہے ہیں یا نقصان میں چل رہے ہیں۔ بات صرف رویہ کی ہے ، اور ان اداروں کی ہے جو قوانین اور احکامات پر عمل د�آمد کرانے کے پابند ہیں۔ ان اداروں خصوصاً محکمہ محنت کے افسران جس طرح اپنی حیثیتوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور صنعتی اداروں کی انتظامیہ سے ہر ماہ باقاعدگی سے ایک مخصوص رقم وصول کرتے ہیں جو اس لئے انہیں دی جاتی ہے کہ وہ صنعتی اداروں میں ہونے والی قانون شکنی کی طرف سے آنکھیں بند رکھیں ، وہ آنکھیں بند رکھنے کے لئے ہی رقم لیتے ہیں۔ ان کی بلا سے محنت کش کن مصائب کا شکار ہوتے ہیں۔ جب قانون پر عمل در آمد کرانے والے ادارے ہی قانون شکنی پر کمر توکس لیں تو پھر شہری کیا کر سکتے ہیں۔ اس تماش گاہ کا اصل اور حقیقی مسلہ یہ ہے کہ یہاں قانون پر عمل در آمد نہیں کیا اور کرایا جاتا۔ سزا کا عمل نہ ہونے کے برابر برائے نام ہے۔ جو قانون پر عمل در آمد چاہتے ہیں وہ بے اثر ہیں۔ جہیں عمل کرانا ہے یا کراسکتے ہیں وہ با اثر ہیں۔ یہ بے اثر اور بااثر کے درمیان ایک سیاسی جنگ ہے جس کے ہول ناک نتائج سے بااثر نا جانے کیوں لا پرواہ ہے؟ اسی لا پرواہی نے معاشرتی انحطاط پیدا کیا جو جارحانہ رویوں کا سبب بھی ہے۔

مزید : کالم