پیغمبر اسلامؐ کا ترکہ

پیغمبر اسلامؐ کا ترکہ

بہت کم لوگوں کا دھیان اس طرف جاتا ہے کہ حضور اکرمؐ عالم انسانیت کے عظیم ترین محسنؐ ان معنوں میں بھی تھے کہ آپؐ نے دین اور سیاست کے درمیان کوئی حد فاصل قائم نہیں کی تھی۔ دنیاکے سارے نبی، پیر، پیغمبر، گورو، اوتار، کرشن، مصلح اور مذہبی رہنما جہاں انسان کی اخلاقی صفات کو بلندی کی طرف لے جانے کا درس دیتے ہیں، وہاں ہمارے نبی آخر الزمانؐ اخلاق کی اس بلندی میں ایک ایسا عنصر بھی شامل کرتے ہیں جو اپنی مثال نہیں رکھتا،یہ جہاد کا عنصر ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو دین اسلام کی اصل بنیادوں میں سے ایک ہے۔

کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے تین عناصر بہت اہم ہوتے ہیں۔اول اقتصادی، دوسرا جنگی اور تیسرا خلاقی۔ ان کی اہمیت بھی اسی ترتیب کے اعتبار سے ہے۔ حضوراکرمؐ کی تمام زندگی مبارکہ پر نظر ڈالئے۔ آپ کو یہ تینوں عناصر اسی ترتیب سے عمل کرتے ہوئے ملیں گے۔ آنحضورؐ کا حضرت خدیجہؓ سے نکاح، پھر مدینہ کی طرف ہجرت اور آپؐ کی سیرت ان تینوں عوامل کے سفر کا گویا نکتہ آغاز تھا۔ ان تینوں واقعات کی تہہ میں بڑے گہرے معانی پوشیدہ ہیں۔

آنحضورؐ کی زندگی کے جمالی پہلوؤں پر اتنا زیادہ لکھا گیا ہے کہ جس کی انتہا نہیں۔ مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بھی کم ہے اور قیامت تک نہ جانے اور کتنا لکھا جائے گا(انشاء اللہ)۔۔۔لیکن مقام غور ہے کہ آپؐ کے جلالی پہلوؤں کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔

نبی کریمؐ کی زندگی ہمارے لئے سراپا ہدایت ہے۔ فتح مکہ کے بعد آنحضورؐ مملکت اسلامیہ کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تھے۔ وہ چاہتے تو اپنے استعمال کے لئے بڑی سے بڑی آسانیاں پیدا کر لیتے ۔ ویسے بھی ایک طویل سفر کے بعد مسافر کا دل چاہتا ہے کہ منزل پر پہنچ کر سکھ کا سانس لے اور کچھ آرام کرے، تھکاوٹ دور کرے اور دنیاوی آسائشوں سے لذت حاصل کرے۔۔۔ حضوراکرمؐ افضل البشر تھے۔ ان میں بھی تمام بشری آرزوئیں اور تمنائیں موجود تھیں، لیکن سبحان اللہ آپؐ نے فتح مکہ کے بعد اپنے لشکر کو یہ حکم دیا کہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں نکلو۔ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت گویا ایک مقامی(لوکل) ہجرت تھی لیکن آنحضرت اکرمؐ کے فتح مکہ کے بعد عرب سے باہر دوسرے ممالک میں اسلامی لشکروں کی تعیناتی، تیاری اور کوچ گویا ایک بڑی اور عالمی ہجرت تھی۔ اسلام صرف مکہ اور مدینہ کے لئے نہیں آیا تھا۔ حضورؐ سرور دوعالم رحمتہ اللعالمین تھے اور سارے زمانے کے آخری پیغمبر تھے، لہٰذا اس مشن کی تکمیل کو آپؐ نے ہمیشہ مدنظر رکھا اور عرب سے باہر فوج بھیجنے کی جو کوششیں کیں ان سے تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ انہوں نے فتح مکہ کو صرف ایک مقصود سمجھا، آخری مقصود ہرگز نہیں کہ آخری مقصود تو دونوں جہانوں کی جہانبانی تھی:

پرے ہے چرغِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی

ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے

حضورؐ کا ترکہ

قارئین کرام اس حقیقت پر غور فرمائیں کہ جب آپؐ کا وصال ہوا تو آپ کے ’’اثاثے‘‘ کیا تھے؟۔۔۔ تاجدار دوعالمؐ نے اگر اپنے پاس کچھ بچایا بھی تو اس کی نوعیت وہ نہیں تھی جو دنیا کے اکثر تاجداروں، بادشاہوں اور حکمرانوں کی ہوتی ہے۔ آپؐ کا ترکہ قیامت تک مسلمانوں کو ایک ابدی درس دیتا رہے گا۔

آنحضورؐ نے جو ترکہ چھوڑا اس کو تین قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، یعنی:

1۔زمین

2۔سواری کے جانور

3۔ہتھیار

زمین

وادی تیماء، وادی القراء ، فدک، خیبر اور مدینہ منورہ میں بعض باغات تھے جن کی پیداوار آپؐ نے محتاجوں، فقراء، مسافروں اور دیگرمستحق مسلمانوں کی فلاح کے لئے وقف کر دی تھی۔ صرف باغات خیبر کی پیداوار کا ایک تہائی اپنے اہل و عیال کے سالانہ اخراجات کے لئے لے لیا کرتے تھے اور اس میں سے بھی جو بچ جاتا، وہ مہاجرین اور مستحق لوگوں کی کفالت پر خرچ کر دیاجاتا۔۔۔لیکن ہمارا موضوع زمین سے نہیں، بلکہ بعد کی دواقسامِ ترکہ سے متعلق ہے، یعنی سواری کے جانور اور ہتھیار

سواری کے جانور

بعض مورخوں نے لکھا ہے کہ آپؐ کے اصطبل میں سواری کے بے شمار جانور تھے۔ اول تو یہ بات ہی غلط ہے۔بے شمار جانور تو صرف بادشاہوں اور نوابوں کے ہوا کرتے ہیں اور بالفرض اگر تھے بھی تو صرف اسلام کے دشمنوں پر رعب اور خوف طاری کرنے یا ان کے خلاف جنگ لڑنے یا جنگی تیاریوں کے لئے تھے۔طبری اور بعض دوسرے مورخین نے ایک لمبی فہرست ان جانوروں کی مرتب کی ہے۔ بہرحال وصال کے وقت آپؐ کے ہاں یہ درجِ ذیل جانور موجود تھے:

1۔ لخیف (گھوڑا) ایک عدد۔

2۔عفیر (گدھا ) ایک عدد۔

3۔قصویٰ (اونٹنی) ایک عدد۔

4۔عضبا (اونٹنی) ایک عدد۔

5۔تیہ (خچر) تین عدد۔

ہتھیار

اسلام کے مجاہد اعظم حضرت محمدﷺ کے پاس وقت وفات درج ذیل ہتھیار تھے:

الف۔۔۔ تلواریں (9عدد) ماثور، عصب، ذوالفقار، قلعی، تبار، حتف، مخزم، قضیب، نام معلوم نہیں

ب۔۔۔ زر ہیں(7عدد)

ذات الفضول، ذاتم الوشاح، ذات الحواشی، سعدیہ، خفتہ، تبرا، خرنق۔

ج۔۔۔کمانیں (6عدد)

زوراء، روحاء، صفراء، بیضاء، کتوم، شداد،

د۔۔۔ جبے (3عدد)

ہ۔۔۔ترکش (ایک) جس کا نام کافور تھا

و۔۔۔چمڑے کی پیٹی (ایک)

ز۔۔۔ڈھال (ایک) اس کا نام زموق تھا۔

ح۔۔۔ آہنی مغفر(دو عدد) ان کے نام موشح اور سبوغ تھے۔

ط۔۔۔برچھیاں(5عدد)

غور طلب نکتہ

اوپر کی فہرستِ ترکہ پر نگاہ ڈالیں۔ تاجدارِ دوعالمؐ کے پاس روحانی سطح پر تو دولت کونین موجود تھی، لیکن مادی سطح پر اگر کچھ تھا تو سامانِ جنگ اور سواری کے ایسے جانور جو جنگ کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ ویسے بھی اس دور میں ایک سپاہی کے ہتھیار یہی ہوا کرتے تھے۔ تیر، کمان، نیزہ، تلوار، ڈھال، زرہ بکتر،خود، مغفر اور سواری کے لئے ایک گھوڑا۔۔۔ نیزہ ایک دور مار ہتھیار تھا جو آج ترقی پا کر میزائل کہلایا۔ تلوار کی جگہ رائفل نے لے لی ہے۔ ڈھال اور زرہ بکتر کی جگہ کنکریٹ کے مورچے بن گئے ہیں۔ گھوڑے کی جگہ ٹینک آ گیا(اے پی سی بھی)۔ اونٹ، خچر اور گدھے کی جگہ تھری ٹن، سی ۔130، جیپ اور ریل گاڑی نے لے لی۔۔۔ گویا جنگ بدر اور جنگ عظیم دوم میں صرف زمان و مکان حائل ہیں وگرنہ باقی وہی کچھ ہے۔ شاید اسی لئے اقبال نے کہا تھا:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغ مصطفویؐ سے شرار بولہبی

ہم آقائے دوجہاں کے نام لیوا ہیں ان کی شان دیکھئے کہ بعد از مرگ ان کا اثاثہ کیا تھا۔ اگر حضورؐ کے اثاثے میں زمین، جانور اور ہتھیاروں میں برابر برابر کا تناسب بھی کر لیا جائے تو بھی سواری کے جانور اور اسلحہ جات کا تناسب مل کر 66 فیصد بن جاتا ہے، یعنی آپؐ نے 66فیصد زور جہاد پر دیا ہے اور صرف 34فیصد دنیا کی باقی چیزوں پر کیونکہ اگر آپ نے خود کو ہر لحاظ سے تیار رکھا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں جھکا سکتی۔ اسی لئے اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ’’اور جہاں تک ہو سکے (فوج کی) جمعیت سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے ان کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی اور تم جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب تم کو پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا ذرا نقصان نہیں کیا جائے گا‘‘(سورۃ الانفال آیت 60)

جب مسلمانوں نے اپنی قوت تیار رکھی تو پوری دنیاپر حکمرانی کی اور جب اس سے ہٹ گئے تو پھر اپنی شناخت رکھنا بھی مشکل ہو گیا۔

اقبالؒ نے اسی جنگ و شکوہ کو دین اسلام کا طرۂ امتیاز قرار دیا تھا اور باقی مذاہب اور ادیان کے لئے غار و کوہ یعنی رہبانیت کی اصطلاح استعمال کی تھی:

مصلحت در دینِ ما جنگ و شکوہ

مصلحت در دینِ عیسیٰ غار و کوہ

مزید : ایڈیشن 1