تعلیم کی اسلامی تاریخ

تعلیم کی اسلامی تاریخ

فراس الخطیب

ظہورِ اسلام کے ابتدائی دِنوں ہی سے، تعلیم کا مسئلہ اہلِ ایمان کے دِل و دماغ میں سب سے آگے رہا ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اُترنے والی قرآن کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی یہ ہے کہ ’’پڑھو!‘‘

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ’’علم کا حصول تمام مسلمانوں پر فرض ہے‘‘۔ باہر نکلنے اور علم حاصل کرنے کے ایسے براہِ راست حکم کے باعث،مسلمان نے اپنے تعلیمی نظام کو بہترین بنیادوں پر استوار کرنے پر بہت زور دیا ہے تاکہ اللہ کے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اِس حکم پر بھرپور عمل ہو سکے۔

پوری اسلامی تاریخ میں،تعلیم ایک ایسا مرکز فخر اور شعبہ رہا جس میں مسلمانوں نے ہمیشہ شاندار کارکردگی دکھائی۔

مسلمانوں نے بغداد، قرطبہ اور قاہرہ جیسے مقامات پر عظیم لائبریریاں اور علمی مراکز تعمیر کئے۔ انہوں نے سب سے پہلے بچوں کے لئے پرائمری سکول اور تعلیم کے تسلسل کے لئے یونیورسٹیاں قائم کیں۔انہوں نے اِن تعلیمی اداروں کے ذریعے ناقابلِ یقین تیز رفتاری کے ساتھ سائنسی علوم کو آگے بڑھایا، جس کا تسلسل آج کی جدید دُنیا کے ساتھ آ ملتا ہے۔

آج بچوں کی تعلیم محض اطلاع اور حقائق کو جاننے تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ معلمین طلبہ کو انفارمیشن میں قابلِ قبول کے علاوہ اُن کی جذباتی سماجی اور جسمانی فلاح و بہبود کو بھی ملحوظ خاطر رکھتے ہیں عہدِ وسطیٰ کی اسلامی تعلیم بھی مختلف نہیں تھی۔

12ویں صدی کے شامی طبیب الشیزاری نے طلبہ کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں بہت زیادہ لکھا، اُس کا کہنا ہے کہ طلبہ کے ساتھ سختی سے پیش نہیں آنا چاہئے، نہ ہی اُن پر ایسے کام کا بوجھ لادیں، جس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہو۔غزالی جیسے عظیم مفکر نے بھی اِس جانب توجہ دلائی کہ ’’بچے کو کھیلنے کودنے سے روکنا اور مسلسل پڑھتے رہنے ہی پر زور دیئے جانا، اُس کے دِل کو مردہ، ذہانت کو کُند اور زندگی کو بوجھل کر دیتا ہے۔ اِس طرح وہ پڑھائی سے مکمل طور پر فرار کی ترکیب کی تلاش میں رہتا ہے‘‘۔ اِس کے برعکس اُن کا یہ عقیدہ ہے کہ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی دلچسپ سرگرمیوں میں بھی مشغول رکھنا چاہئے جیسے پُتلی تھیڑ، کھیل کے میدان اور کھلونا جانوروں کے ساتھ کھیلنا وغیرہ۔

ابنِ خلدون اپنے مقدمے میں بیان کرتے ہیں، یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ بچوں کو قرآن کی تعلیم دینا اسلام کی روایت ہے۔ مسلمانوں کے تمام شہروں میں ایسی تعلیم کا معمول رہا ہے،کیونکہ یہ چیز ایمانِ کامل اور اس کے اجزاء سے قبلوب کو سرشار رکھتی ہے، جس کا مآخذ قرآنی آیات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ دُنیائے اسلام میں پہلے پہل کے تعلیمی ادارے بالکل غیر رسمی تھے۔ مساجد کو بحث مباحثے کی ایسی جگہ کے طور پر استعمال میں لایا جاتا تھا جہاں لوگ کسی مذہبی عالم کے گرد اکٹھے ہوتے تھے، اُس کے خطبات سنتے اور حصول علم کے لئے اُس کے ساتھ کتابیں پڑھتے تھے۔ دین اسلام کے کچھ عظیم علماء نے اِسی طریقے سے علم حاصل کیا اور اپنے تلامذہ کو بھی اِسی طریقے سے تعلیم دی۔

مسلم قانون و فقہ کے چاروں آئمہ۔۔۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل(رحمھم اللہ) نے اپنے دور کے دیگر علماء کے سا تھ انہی مساجد میں بیٹھ کر بے پایاں علم حاصل کیا، یہیں بیٹھ کر بحث و مباحثے ہوئے اور اسلامی قانون کو سیکھا۔

کچھ مدارس نے عالم اسلام میں اِسی غیر رسمی تعلیم کی روایت کو جاری رکھا۔

دینِ اسلام کے تین مقدس ترین مقامات۔۔۔ حرم مکہ، مدینہ کی مسجدِ نبویؐ اور یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ۔۔۔ ایسے ہیں جہاں علمائے دین باقاعدگی سے بیٹھتے اور لیکچر دیتے تھے۔ یہ مساجد ہر اُس شخص کے لئے کھلی تھیں، جو یہاں آنا اور اِن علماء کے علم سے فیض حاصل کرنا چاہے۔ تاہم جُوں جُوں وقت گزرتا گیا مسلمانوں نے تعلیم کے لئے وقف ہونے والے رسمی ادارے بنانے شروع کر دیئے۔

900سال پیچھے جائیں تو ننھے طلبہ جن پرائمری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے اُنہیں ’’مکتب‘‘ کہا جاتا تھا۔ عام طور پر ’’مکتب‘‘ مسجد کے ساتھ وابستہ ہوتے تھے، جہاں رہائش پذیر عالم اور امام بچوں کی کلاسوں کا انعقاد کرتے تھے۔اِن کلاسوں میں عربی کی پڑھائی لکھائی،ریاضی اور اسلامی قوانین کے موضوعات پر بنیادی تعلیم دی جاتی تھی۔

مقامی آبادی کے بیشتر لوگ اپنے پورے بچپن میں انہی پرائمری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ مکتب کا نصاب مکمل کرنے کے بعد، طلبہ بالغ زندگی اور روزگار کی تلاش کی جانب یا اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے ’’مدرسہ‘‘ کی تعلیم کی جانب بڑھ سکتے تھے۔عربی کا لفظ ’’مدرسہ‘‘ لفظ ’’سکول‘‘ کے مترادف تھا۔

مدارس عموماً بڑی مساجد کے ساتھ وابستہ ہوتے تھے۔ اس کی مثالوں میں مصر میں قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی(جو970ء میں قائم ہوئی) اور مراکش کے شہر فاس(Fes) میں القرویین (جو859ء میں قائم ہوئی)۔ اِس کے بعد عظیم سلجوق وزیر نظام الملک نے دُنیائے اسلام میں متعدد مدارس قائم کئے۔ مکتب کی سطح پر طلبہ کو مذہبی علوم عربی اور ادویہ سازی، ریاضی، فلکیات، تاریخ اور جغرافیے کے علاوہ دیگر کئی موضوعات پراگلے مراحل کی تعلیم دی جاتی تھی۔

1100ء میں قاہرہ میں75، دمشق میں51، حلب میں44 مدرسے تھے اور اِسی عرصے کے دوران مسلم سپین میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں مدارس تھ۔

اِن مدارس کو پہلی جدید یونیورسٹیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے یہاں مختلف مضامین کے لئے الگ الگ اساتذہ پر مشتمل عملہ ہوتا تھا، اقامتی علماء اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھتے تھے۔ طلبہ بھرپور توجہ کے ساتھ حصول علم میں مشغول رہتے تھے اور متعدد پروفیسرز کے زیر نگرانی کئی سال صرف کرتے تھے۔ ابنِ خلدون کا کہنا ہے کہ اس کے دور میں مراکش میں اُس وقت مدارس کے پاس جو نصاب تھا وہ سولہ برسوں پر مشتمل تھا۔ وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ وقت کی یہ وہ کم سے کم مدت تھی، جس میں طالب علم اپنے مطلوب سائنسی اور تعلیمی مزاج کو اپنا لیتا تھا یا پھر یہ جان لیتا تھا کہ وہ اسے پانے کی قابلیت نہیں رکھتا۔

جب طالب علم اپنے تعلیمی کورس کی تکمیل کر لیتا تھا تو اُسے ’’اجازہ‘‘ عطا کر دیا جاتا تھا جو کہ سرٹیفکیٹ کی طرز کا ایک ایسا اجازت نامہ یا لائسنس ہوتا تھا جو اُس کے ایک تعلیمی پروگرام کی تکمیل کی تصدیق کرتا تھا اور اُسے پڑھانے کی اہلیت کا حامل بھی قرار دیتا تھا۔

’’اجازہ‘‘ کوئی استاد یا عالم ذاتی سطح پر بھی اپنے طالب علم کی اہلیت کو جانچ کر عطا کر سکتا تھا یا کسی مدرسہ کی طرح کے ادارے کے ذریعے بھی دیا جاتا تھا جو اِس بات کی تصدیق ہوتی تھی کہ طالب علم نے اپنے کورس کی تکمیل کر لی ہے۔

’’اجازہ‘‘ کا ہم آج کے دور کے ’’ڈپلومے‘‘ سے موازنہ کر سکتے ہیں،جو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جانب سے دیا جاتا ہے۔

اسلامی تاریخ کے پورے عرصے میں، عورتوں کو تعلیم دینا اولین ترجیح رہا ہے۔ انہیں کبھی بھی اس نظر سے نہیں دیکھا گیا کہ وہ علم حاصل کرنے یا دوسروں کو تعلیم دینے کی اہلیت نہیں رکھتیں۔ اِس کی ایک مثال تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہؓ نے قائم کر کے دیکھا دی جو اپنے وقت کی ایک سرکردہ سکالر تھیں اور آپؐ کی وفات کے بعد مدینہ میں بہت سارے لوگوں کی معلمہ سمجھی جاتی تھیں۔

بعد کے دور کی اسلامی تاریخ سے بھی عورتوں کا اثر و نفوذ عیاں ہے۔ مسلمانوں کے پورے عہد میں عورتیں مساجد میں لیکچر سننے کے لئے حاضر ہوتی تھیں، مدارس میں جاتی تھیں اور بذات خود بھی پڑھاتی تھیں۔ مثال کے طور پر12ویں صدی کے جید عالم ابن عساکر(جو کہ تاریخ کی معروف کتاب ’’تاریخِ دمشق‘‘ کے مصنف ہیں) نے حصول علم کے لئے دور دراز کے علاقوں کا سفر کیا اُن کے اساتذہ میں80 مختلف خواتین شامل ہیں۔

خواتین نے تعلیم کی حامی ہونے کی حیثیت سے بہت اہم کردار ادا کیا:

*۔۔۔ مسلم دُنیا کا پہلا رسمی مدرسہ، القروییّن یونیورسٹی جو مراکش کے شہر فاس میں859ء میں قائم ہوئی وہ فاطمہ الفہری نامی ایک خاتون تاجر کی قائم کی ہوئی ہے۔

*۔۔۔ عباسی خلیفہ ہارون رشید کی بیوی زبیدہ نے ذاتی سطح پر مالی مدد کے ذریعے مساجد، شاہراہوں اور حتیٰ کہ حجاز مقدس میں بھی بہت تعمیری منصوبوں پر کام کیا، اِن تعمیری منصوبوں سے بے شمار طلبہ نے استفادہ کیا۔

خلافت عثمانیہ کے سلطان سلیمان کی بیوی، مریم سلطان نے متعدد مدارس عطیہ کئے جو کہ اُس کی جانب سے ہسپتالوں عوامی، غسل خانوں اور قہوہ خانوں جیسے رفاہی کاموں کے علاوہ تھے۔

نواب شاہجہاں آف بھوپال نے جو علمی کام کئے اور علم کی سرپرستی کی وہ بھی بر صغیر میں ایک مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔

دمشق میں ایوبی سلطنت کے دوران (1174ء تا1260ء) (مدارس، مساجد اور مذہبی یاد گاروں سمیت) 26مذہبی وقف املاک عورتوں کی تعمیر کی ہوئیں تھیں۔ یورپ میں عہد قرونِ وسطیٰ کے برعکس (حتیٰ کہ1800ء اور 1900ء تک بھی) گزشتہ1400 سال میں عورتوں نے اسلامی تعلیم کی ترویج میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ دوسرے درجے کی شہری سمجھے جانے کی بجائے، عورتیں عمومی زندگی میں بھرپور کردار کی حامل رہیں،خاص طور پر تعلیم کے شعبے میں۔

مدارس اور اعلیٰ درجے کی اسلامی ایجوکیشن کی دیگر شکلوں کی روایات آج کے دن تک جاری ہیں۔ اگرچہ کم تر درجے ہی کی ہوں۔اِس صورت حال کی اہم وجہ مسلم خطوں پر یورپی قوتوں کا قابض ہونا ہے،جو1800ء کے دوران بھی جاری تھا۔ مثال کے طور پر سلطنت عثمانیہ کے عہد میں سلاطین کے جو فرانسیسی مشیر تھے انہوں نے تعلیمی نظام کی مکمل اصلاح کے لئے نصاب میں سے مذہب کو قطعی نکالنے اور سیکولر علوم پڑھانے کی بھرپور حمایت کی۔ اس طرح پبلک سکولوں میں یورپی کتابوں پر مشتمل یورپی نصاب کی تدریس کا آغاز ہو گیا، جس نے علم کے اُن روایتی شعبوں کی جگہ لے لی جو سینکڑوں سال سے پڑھائے جا رہے تھے۔اگرچہ حکومت کی سرپرستی کے بغیر اسلامی تعلیم کے مدارس کا وجود جاری تو رہا، لیکن وہ جدید مسلم دُنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ رہے۔

آج بھی سابق سلطنت عثمانیہ کے خطوں میں ابھی تک یورپی خطوط ہی پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ مثال کے طور پر یونیورسٹی کی سطح پر کسی ایک مضمون میں تخصیص کی اجازت دینے کا انحصار اِس بات پر ہے کہ ہائی سکول کے تعلیمی عرصے کے اختتام کے بعد ٹیسٹوں کے معیار پر پورا اُترنے میں آپ کیا کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اگر اِس ٹیسٹ میں آپ بہترین ممکن گریڈز حاصل کر لیتے ہیں تو آپ ادویہ سازی جیسے سائنسی علوم یا انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔اگر کوئی مطلوبہ معیار سے کم نمبر حاصل کرے تو اُسے اسلامی سائنسز اور ایجوکیشن جیسے مضامین رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

مسلم دُنیا میں نئے نظاموں نے جو اپنی جگہ بنا لی ہے اس کے باوجود روایتی تعلیم کی ابھی تک بقاء ممکن ہے۔

الازہر، القرویین جیسی یونیورسٹیاں اور مدینہ یونیورسٹی اور برصغیر کے نام ور دینی ادارے، ایسے ادارے ہیں جہاں روایتی نصاب میں تعلیم جاری ہے جس میں اسلامی اور سیکولر تعلیمات کو یکجا کر یا گیا ہے۔ اس طرح کی دانشورانہ روایت کی جڑیں ماضی کے اُنہی عظیم اداروں میں پائی جاتی ہیں،جنہوں نے اسلامی تاریخ کے عظیم علماء کو پیدا کیا اور عوام الناس میں آج بھی دین اسلام کے علم و پیغام کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں۔

*****

مزید : ایڈیشن 1