اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے!

اسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے!

دعا ایک ایسا عمل ہے جس میں انسان فی الواقع اپنی نفی کردیتا ہے اور اپنے پروردگار کے سامنے سب کچھ بیان کر دیتا ہے۔ جوکسی قریب ترین عزیز سے بھی نہیں کہہ سکتا۔بے شک حاجت روائی اور کار سازی کے سارے اختیارات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔کائنات میں جاری و ساری نظام پر غور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس کوئی اختیارات نہیں۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل سلیم کو استعمال کرتے ہوئے وہ چاند اور ستاروں پر کمنڈ ڈالنے کی جستجو میں مگن ہے۔ جدید ترین ترقی اور تحقیق یہ سب کچھ عقل سلیم کی بدولت ہے لیکن انسان جوں جوں ترقی کرتا چلا جارہا ہے، پریشانیوں اور نفسیاتی خلفشاری کا شکار بھی ہوتا جارہا ہے۔ شیطانی بہکاوہے اور مسائل کے بھنور میں پھنسا انسان قبیح اور گھناونے جرم و فعل کا ارتکاب کربیٹھتا ہے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ اور پیارے نبیؐ سے حقیقی محبت و مروت کرتے ہوئے اسلامی اصولوں پر کار بند رہے اور عبادت و ریاضت کرتا رہے تو کوئی بھی انسا ن جرم کے قریب اور شیطان انسان کے قریب نہیں آسکتا۔

سچی عقیدت، محبت و مروت بندے کو انسانیت کی معراج تک لے جاتی ہے۔ انسان عاجز بن جاتا ہے۔ لاکھوں جرائم پیشہ افراد قانون کی گرفت میں آنے کے بعد جیلوں میں سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں کرسکتے۔جیلوں میں سزا پانے والے لوگوں میں معصوم بچے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی گناہ نہیں کیا ہوتا۔اچانک حالات کا بھنور انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے پھروہ ایسے ایسے جرم کر بیٹھتے ہیں جن کا نہ تو گردو پیش کے لوگوں نے کبھی نہ سوچا ہوگانہ ہی انہوں نے کیا ہوگا۔دنیا دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کا صدمہ سہ چکی ہے لیکن آج بھی دنیا بھر کے انسانوں کی سلامتی کو شدید خطرات درپیش ہیں۔عالمی امن کے قیام کے لئے مثبت کوششوں کا آغاز نہ ہو سکا توکچھ نہیں کہا جاسکتا کہ نوع انسانی کا مستقبل کیا ہوگا؟

آج دنیا کو تباہی و بربادی سے محفوظ رکھنے کے لئے ایسے نظام کی شدید اور فوری ضرورت ہے جس پر عمل کرنے سے نوعِ انسانی کے اب تک کے حالات سمیت انفرادی اور اجتماعی طور پر افراد اور تمام معاشرے کے تحفظ اور ترقی کا اہتمام کیا جاسکے۔اللہ تعالیٰ کے آخری رسولؐ نے دنیا کو عالمی امن کا بہترین قابل عمل نظام دیا ہے۔ آپ ؐ کی تعلیمات دنیا کے جس معاشرے میں رچ بس جائیں وہاں مایوسی ، غربت، بے یقینی اور انتشار کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔بلاشبہ یہ تعلیمات آج بھی قابل عمل ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔قرآن پاک چودہ سو سال گزرنے کے باوجود محفوظ ہے اور آج دنیا میں جتنی بھی تحقیق، ایجادات و اختراعات ہوئی ہیں وہ قرآن پاک کی مرہون منت ہیں۔ قرآن پاک ایک ایسی عظیم اور متبرک کتاب ہے جو پوری دنیا کے لئے رُشدو ہدایت کا لازوال سرچشمہ ہے اورغیر مسلم بھی اس واحد آسمانی کتاب کی ہیئت اور صلاحیت پر اعتراض نہیں کرسکتے یہ امرباعث افسوس ہے کہ امت مسلمہ خوابِ غفلت میں ہے اور ہم ذاتی مفادکو اجتماعی مفادات ترجیح دے رہے ہیں۔

قرآن پاک کی تعلیم پر عمل کر کے انسان دنیا اور آخرت میں سرخرو ہو سکتا ہے۔ باقی تمام کتابیں اس وقت اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہیں اور۔۔۔ تحریف شدہ ہو چکی ہیں۔ جس کا اعتراف دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی کوئی بھی ایک آیت ایسی نہیں جو تاریخ، سائنس اور مفہوم کے اعتبار سے کسی دوسری آیت سے ٹکراتی ہو اور آج تک کوئی بھی ایسی کاوش نہیں کرسکا جو قرآن جیسی تین آیات بھی سامنے لاسکے کیونکہ یہ کسی انسان کا کام نہیں۔قرآن مجید سے ہمیں یہ درس بھی ملتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے وہی طریقے اختیار کریں جس کی نشاندہی آقائے دو جہاں حضرت محمد ؐ نے کی۔ آج ہم مسلمان ہو کر پستیوں میں گرے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے قرآنی تعلیمات سے رو گردانی کر رکھی ہے۔ ہمیں قرآن کے قوانین کو اپنی زندگیوں پر نافذ کرنا ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1