ترک اسمبلی میں ایک ہفتے تک بحث کے بعد حکومت مضبوط بنانے کی آئینی ترامیم منظور

ترک اسمبلی میں ایک ہفتے تک بحث کے بعد حکومت مضبوط بنانے کی آئینی ترامیم منظور

 انقرہ(آئی این پی) ترکی کی قومی اسمبلی نے ایک ہفتے تک شدید بحث کا موضوع بننے والی آئین کی تین ترامیم باالاآخر منظور کرلیں، ترامیم کی منظوری کے بعد صدارتی انتخابات 4 کے بجائے 5 سال بعد جبکہ رکن پارلیمنٹ کی کم سے کم عمر 25 کے بجائے 18سال ہوجائے گی،آئینی ترامیم کی منظوری کے وقت ترکی کی اسمبلی مچھلی بازار کا منظر پیش کررہی تھی ، جبکہ حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین کے درمیان ہاتھاپائی بھی ہوئی۔ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ’’ٹی آر ٹی ‘‘کے مطابق قومی اسمبلی نے ایک ہفتے تک شدید بحث کا موضوع بننے والی آئین کی تین ترامیم باالاآخر منظور کرلی ہیں۔ آئین میں ترامیم کی منظوری کے بعد نئے آئین کی منظوری کے لیے عوامی ریفرنڈم کی راہ بھی ہموار ہوگئی، اب رواں برس اپریل میں ریفرنڈم منعقد کیے جانے کی امید ہے۔منظور کی گئی آئینی ترامیم کے تحت اب پارلیمنٹ کے ممبر بننے کے لیے عمر کی کم سے کم حد 18 برس ہوگی، جبکہ پہلے قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لیے کم سے کم عمر 25 سال مقرر تھی۔ منظور کی گئی آئین کی تیسری شق کے تحت کوئی بھی فوجی پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکے گا، اس ترمیم کے حق میں 341ووٹ پڑے جب کہ منظور کی گئی چوتھی شق کے حق میں بھی 343 امیدواروں نے ووٹ دیئے۔

منظور کی گئی چوتھی شق کے تحت قومی اسمبلی کے انتخابات سمیت صدارتی انتخابات بھی اب 4 کے بجائے 5 سال کے عرصے میں ہوں گے۔قومی اسمبلی سے اکثریت سے پاس کی گئی آئین کی شق نمبر 5 کے حق میں 343 جب کہ مخالفت میں صرف 7 ممبرز نے ووٹ ڈالے، اس ترمیم کے تحت قومی اسمبلی کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے۔منظور کی گئی شق نمبر 5 کے مطابق قومی اسمبلی اب قانون پیش کرنے، تبدیل یا معطل کرنے سمیت بجٹ پر بحث کرنے، نوٹ چھاپنے اور جنگ کے فیصلوں،عالمی معاہدوں سے متعلق فیصلوں کی منظوری دینے سمیت دیگر اہم فیصلوں کی منظوری دے سکے گی۔آئین میں ترامیم کی منظوری کے وقت حزب اختلاف کے اراکین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، مقامی ٹی وی پر دکھائے جانے والی تصاویر میں ممبران کو ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔حزب اختلاف کے ارکان نے آئینی ترامیم کو صدر رجب طیب اردگان کی خواہشات قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم سے وہ ملک کے اکیلے حکمران بننا چاہتے ہیں، جب کہ حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ ان ترامیم سے ترکی کی حکومت فرانس اور امریکا کی حکومت کی طرح زیادہ مضبوط اور مؤثر ہوگی۔خیال رہے کہ اس سے پہلی بھی ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو اختیارات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، رجب طیب اردگان پہلے 10 سالوں تک ملک کے وزیر اعظم اور اب صدارتی عہدے پر براجمان ہیں۔گزشتہ برس جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد ان کے اختیارات میں اضافے سے متعلق پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے ترمیمی بل پر ترکی میں مسلسل بحث جاری ہے۔نئے آئین کی تین شقوں کی منظوری کے بعد رواں برس اپریل تک ریفرنڈم کی راہ ہموار ہوگئی ہے، نیا آئین 1980 میں ترک فوجی بغاوت کے بعد ختم کیے گئے تمام قوانین کو تبدیل کردے گا جبکہ یہ آئین پہلی بار عثمانی دور حکومت کے خاتمے کے بعد جدید جمہوریت پر حکمرانی کیلئے صدارتی نظام تشکیل دینے کی کوشش ہوگا۔

ترک اسمبلی

مزید : علاقائی