گھروں میں گیس آئے گی تو بچت کریں گے؟

گھروں میں گیس آئے گی تو بچت کریں گے؟
گھروں میں گیس آئے گی تو بچت کریں گے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور کی سڑکوں اور چوکوں میں سوئی گیس کی بچت کے لئے مسلسل تشہری مہم جاری ہے ایس این ایل جی کا چرچا ہے۔ گیس کی لیکج کی روک تھام گیس چوری پر 1199پر اطلاع دینے سولر سسٹم کو گیس کی بچت کا ذریعہ قرر دیا گیا ہے دلچسپ امر یہ ہے لاہور سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں سوئی گیس نے عوام الناس کے لئے آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے۔ گیس بچائیں ترقی پائیں۔ گیس ہے نہیں چولہے جل نہیں رہے۔ سوئی گیس کی بجائے لکڑی جلا کر روٹیاں فروخت کرنے والے تنوروں پر روٹیاں لینے والوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ گھروں میں کھانا نہیں پک رہا بچے آٹھ آٹھ دن نہا نہیں پا رہے کہ گیزر بند ہیں چھوٹے بڑے مرد خواتین سوئی گیس نہ آنے پر سراپا احتجاج ہیں۔مجھے ایک نمازی نے فجر کی نماز کے وقت پکڑ لیا اور کہا، میاں اشفاق انجم! ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے صبح کا ناشتہ دوپہر اور شام کا کھانا بازار سے لا رہے ہیں۔ کوئی بڑی خبر لگائیں تاکہ حکومت کو پتہ چلے کہ عوام کتنے پریشان ہیں کس کرب سے گزر رہے ہیں۔ ہیٹر جلانا تو دور کی بات پانی کے گیزر بھی بند ہو چکے ہیں۔ چائے تک نہیں بن رہی۔ ہمارے ایک دوست حاجی بشیرصاحب مجھے تنور پر ملے جو میری طرح روٹیاں لینے آئے ہوئے تھے۔ فرمانے لگے میاں صاحب صبح 12بجے آلو گاجر چولہے پر چڑھائے تھے، 6بج گئے ہیں ویسے ہی پڑے ہیں اب مجبوراً ہوٹل سے سالن اور روٹیاں خرید رہا ہوں۔ ہمارے ہمسائے ہیں ان کی خاتون ہمارے گھر آئی تو بتا رہی تھیں ہم نے نہانے کے لئے باریاں لگا رکھی ہیں 24گھنٹے گیزر چلتا ہے ہفتے میں دو دن اتنا پانی گرم ہو جاتا ہے کہ باری باری نہالیں گھروں میں یہ صورت حال ہو تو بازار میں نکلیں حکومت کی طرف سے گیس بچاؤ گیزر بند کرنے ہیٹر نہ چلانے کا درس ملے تو غریب آدمی پر کیا گزرتی ہوگی۔ ایمانداری کی بات ہے حکومتی اہلکاروں کی دوعملی پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یقین کریں گے ہمارے گھر کام کرنے والی بتا رہی تھی کہ ہمارے پورے محلے کی گیس نہیں آ رہی تھی، سوئی گیس کے اہلکاروں سے شکایت کی تو انہوں نے کہا 500روپے فی گھر اکٹھا کریں اور ہر ماہ دینے کا انتظام کریں تو آپ کی گیس نہیں جائے گی کام والی بتاتی ہے ہم نے ایسا ہی کیا ہمارے محلے میں گیس پوری آ رہی ہے۔ گیس چوری سے بچاؤ کا حکومتی درس لمح�ۂ فکریہ نہیں ہے تو اور کیا ہے این ایل جی کا بڑا چرچا تھا قطر سے معاملات طے پا گئے ہیں جہاز لنگر انداز ہو گیا ہے گیس وافر موجود ہوگی گیس سستی ہوگی۔ سی این جی کو 24گھنٹے گیس ملے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سی این جی اسٹیشن واقعی کھلے ہیں گاڑیوں کے منتظر رہتے ہیں تاکہ سی این جی کی جگہ ہوا بھر سکیں۔

عوام گیس نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ان کی روح تک زخمی ہے۔ حکومتی بینر جگہ جگہ گیس چوری، گیس ہیٹر چلانے سے منع کرنے اور گیزر کے ساتھ بفل لگانے کی ترغیب کس کام کی، جب گیس ہی نہیں ہے چولہے ٹھنڈے ہیں۔ عوام ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں۔اندھیر نگری ہے وفاقی حکومت کے دعوے اپنی جگہ جی ایم سوئی گیس لاہور ریجن قیصر مسعود فرما رہے ہیں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں رواں سردیوں کے موسم میں 15ملین مکعب فٹ گیس زیادہ دستیاب ہے جس کی وجہ سے گیس پریشر میں کمی کی شکایات کم ہیں جن علاقوں میں گیس پریشر کم ہے وہاں اس کی بڑی وجہ کمپریسر کا استعمال ہے جس کے خلاف ہم کارروائی کر رہے ہیں۔ جی ایم لاہور نے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے ہمارے پاس لاہور شہر کے لئے 200سے 205ملین مکعب فٹ گیس روزانہ کے حساب سے موجود ہے جو ہم پورے شہرمیں مساوی تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ مقدار گزشتہ سال کے مقابلے میں 15ملین مکعب فت زائد ہے جبکہ پورے لاہور ریجن کے لئے 330ملین مکعب فٹ گیس کی ضرورت ہے۔ جی ایم قیصر فرماتے ہیں وسن پورہ، چراغ پارک، مکھن پورہ ،والٹن اور گرین ٹاؤن ایسے علاقے ہیں جہاں مین لائن دور ہونے کی وجہ سے شکایات آتی تھیں ان علاقوں میں نئی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں جو ایک ماہ میں مکمل بچھا دی جائیں گی قیصر صاحب نے مزید فرمایا جن علاقوں میں گیس کی کمی ہے وہاں کمپریسر موجود ہیں جو گیس کھینچ لیتے ہیں ہم نے 200کمپریسر اتارے ہیں جہاں کمپیرسر پکڑا جاتا ہے ان کا میٹر بھی اتار لیتے ہیں ان کے میٹر کا لیبارٹری معائنہ کرواتے ہیں۔ اس صارف کو جرمانہ کیاجاتا ہے ان سے حلف نامہ لے کر پندرہ دن بعد میٹر دوبارہ لگایا جاتا ہے۔ دوسری دفعہ کمپریسر پکڑے جانے کی صورت میں میٹر مکمل طور پر منقطع کر دیاجاتا ہے۔

جی ایم سوئی گیس لاہور ریجن کی باتیں بڑی اچھی اور پرکشش ہیں مگر ہمارے لاہور میں ان کے ناک کے نیچے گنگا الٹی بہہ رہی ہے ۔

ملتان روڈ ،علامہ اقبال ٹاؤن کے کریم بلاک، سکندر بلاک، مہران بلاک، کامران بلاک، مصطفی ٹاؤن،وارث کالونی اور ملحقہ آبادیاں آپ کی سلطنت میں آتی ہیں ہماری درخواست پر مانیٹرنگ کروائیں پورے اقبال ٹاؤن میں اکھاڑ پچھاڑ کے بعد لائنیں نئی بچھائی گئی ہیں۔ آپ کا دعویٰ بھی ہے لاہور میں گیس کی کمی نہیں ہے پھر کیوں نہیں آپ گھر گھر آپریشن شروع کراتے اور کیوں نہیں گیس چوری کرنے والوں کو پکڑتے، واپڈا والوں کی طرز پر گیس مافیا بھی موجود ہے جن کی ملی بھگت سے کمپریسرمافیا موجود ہے گرمیوں میں گیس پر جنریٹر دھڑلے سے چلتے رہے اب وہی مافیاہیڑ گیس پر چلا رہا ہے کون پکڑے گا ان کو چوکوں میں بینرز لگا کر درخواست کرنا گیس چوری جرم قرار دینا کافی نہیں ہے۔ ایک گھر کمپریسر چلا کر پورے محلے کی گیس لے رہا ہے تو پورے محلے کو سزا کس بات کی؟ بل تو سب دیتے ہیں سب پاکستانی ہیں حقوق سب کے برابر ہیں وفاقی حکومت نے نومبر میں لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کیا تھا آج تک گیس کی لوڈشیڈنگ شیڈول کے مطابق نہیں ہوئی۔ لوڈشیڈنگ کی نوبت بھی تب آئے گی اگر گیس آئے گی۔ اہل لاہور نے موجودہ حکومت کو سب سے زیادہ مینڈیٹ دے رکھا ہے۔ آئندہ بھی سب سے زیادہ امیدیں اہل لاہور سے ہیں۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو اہل لاہور کے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا۔ نعرے کھمبوں پر لکھنے کی بجائے گیس چوروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہوگا ،اور کئی کئی دن سے بند گیس کو شیڈول میں لا کر گھروں کے چولہے جلانے کا انتظام کرنا ہوگا تاکہ ہوٹلوں سے ناشتہ دوپہر کا کھانا شام کا کھانا لانے سے نجات مل سکے۔ آج کا کالم عوام کی حقیقی ترجمانی کے تناظر میں لیا جائے۔

مزید : کالم