فوجی عدالتیں فوج کی خواہش نہیں نظام کی ناکامی کے پیش نظر وقت کی ضرورت تھیں

فوجی عدالتیں فوج کی خواہش نہیں نظام کی ناکامی کے پیش نظر وقت کی ضرورت تھیں

لاہور(محمد نواز سنگرا)آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے دورہ کھاریاں میں فوجی افسران کی طرف سے کیے جانے والے سوالات جس میں پوچھا گیا ہے کہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کہ رہے ہیں کہ فوجی عدالتوں نے پہلے بھی ٹھیک کام نہیں کیا مزید توسیع نہیں ملنی چاہیے جبکہ دوسرا سوال ڈان لیکس معاملے کے دب جانے کے حوالے سے کیا گیا جس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ائیر مارشل(ر)شاہد ذوالفقار نے کہا کہ فوج کے اندر بے چینی ضرور موجود ہے کہ قربانیاں دینے کے باوجود بھی سیاسی رہنما تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ فوجی عدالتیں فوج کی خواہش نہیں بلکہ نظام کی ناکامی کے پیش نظر وقت کی ضرورت تھی۔فوج سیاست سے الگ رہنا چاہتی ہے۔فوجی افسران پوچھتے ہیں کہ ہم جانیں دے رہے ہیں اور وزیر داخلہ اور صوبائی وزیر قانون عجیب قسم کے بیانات دے رہے ہیں ۔جنرل جمشید ایاز نے کہا کہ فوج میں سوالات ہوتے رہتے ہیں میں ان سوالات کے حوالے سے کوئی رائے قائم نہیں کرنا چاہتا۔برگیڈئیر (ر)اسلم گھمن نے کہا کہ جہاں آرمی چیف گفتگو کرتے ہیں وہاں آئی ایس پی آر کے علاوہ میڈیا کو اجازت نہیں ہوتی ۔رانا ثناء اللہ نے فوجی عدالتوں کے حوالے سے بیان اگلے دن واپس لے لیا تھا۔ آرمی چیف پر کیے جانے والے سوالات کے حوالے سے میڈیا نے قیا س آرائی کی ہے۔برگیڈئیر(ر)نادر میر نے کہا فوج میں جمہوریت بہت مضبوط ہے اور جب تک آئی ایس پی آر کی طر ف بیان جاری نہیں ہوتا تب تک رائے دینا درست نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سسٹم ریفارمز مانگتا ہے ۔ امریکہ اور ترکی میں قومی جھنڈوں کے علاوہ کوئی جھنڈا نظر نہیں آتا پاکستان میں 337جھنڈیاں نظر آتی ہیں ،کراچی کو ٹھیک کرنا فوج نہیں انٹرنل فورسز کا کام ہے ۔پاکستان نیشنل ریفارمز موومنٹ سسٹم کی بہتری اور نظام میں موجود مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کر رہی ہے۔

عسکری ماہرین

مزید : صفحہ اول