نواز شریف کے اقتدار کی کشتی ڈوب رہی ہے : تحریک انصاف

نواز شریف کے اقتدار کی کشتی ڈوب رہی ہے : تحریک انصاف

 اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے اقتدار کی کشتی ڈوب رہی ہے ، اقتدار کی اس کشتی میں ایک سوراخ بند کرتے ہیں تو دوسرا ہوجاتا ہے ، حکومت بری طرح پھنس چکی ہے اور ان کو تیراکی بھی نہیں آتی ، وزیراعظم نے کہا کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم دودھ اور پانی کو الگ نہیں کرنا چاہتے آج حکومتی ٹیم نے زور لگایا کہ سپریم کورٹ یہ کیس نہ سنے ۔ جمعرات کے روز سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ آج نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل سے ثابت ہوگیا کہ نواز شریف کے پاس اپنے دفاع کیلئے کچھ نہیں وزیراعظم کے وکیل نے عدالت میں وزیراعظم کی تقریر پیش کی انہوں نے کہا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ نواز شریف کی تقریر سچ پر مبنی نہیں تھی نواز شریف تقریر لکھ کر لائے تھے اور سلمان بٹ نے کہا تھا کہ یہ تقریر سیاسی تھی آج وزیراعظم کے وکیل نے قومی اسمبلی کی تقریر سے نکلنے کی کوشش کی نواز شریف نے سیاست میں آنے کے بعد جائیداد باہر رکھی اور قطری شہزادے سے جعلی خط لکھوایا گیا ہے شریف خاندان کو حدیبیہ پیپرز ملز کے 34 ملین ڈالر کا بھی جواب دینا ہے انہوں نے مزید کہا کہ آج وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وکلاء کی قلعی کھل گئی ہہے نواز شریف کے اقتدار کی کشتی ڈوب رہی ہے اوران کے وکلاء اقتدار کی اس کشتی میں ایک سوراخ بند کرتے ہیں تو دوسرا ہوجاتا ہے وزیراعظم نے کہا تھا کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ نوازشریف دودھ کو پانی سے الگ نہیں کرنا چاہتے آج مخدوم علی خان سے عدالت کو قانونی معاملات میں الجھا کے حقائق سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے آج تین بنیادی الزامات پر دلائل دیئے انہوں نے کہا کہ کل بھی جھوٹ بولا جارہا تھا آج بھی جھوٹ بولا جارہا ہے وزیراعظم کے وکیل نے کہا ہے کہ وزیراعظم نہ والد کے پیسوں کے ذمہ دار ہیں اور نہ اپنے بچوں کے پاکستان کی عوام نواز شریف سے اربوں روپے کی کرپشن کا جواب چاہتی ہے میاں صاحب کو آگے چل کر ثابت کرنا ہوگا کہ جدہ فیکٹری کیلئے پیسے کہاں سے آئے ؟ اور اس فیکٹری کیلئے رقم بھیجنے والا کون تھا ؟ اور حکومت کے پاس جدہ فیکٹری لگانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور طارق شفیع کے بیان حلفی میں دستخط بھی جعلی تھے ۔ فواد چوہدری نے کہا کہ ہر سماعت پر پیش کی جانے والی دستاویزات بدل جاتی ہیں اب حکومت پھنس چکی ے اور ان کے پاس تیراکی کا فن بھی نہیں ہے آج وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ انہیں پیسوں کی منتقلی کا پتہ نہیں اور نہ ہی وزیراعظم کو اپنے بچوں کے کاروبار کا پتہ ہے اورنہ یہ پتہ تھا کہ والد کیا کاروبار کرتے تھے وزیراعظم کو والد اور بچوں کے پیسوں کا بھی پتہ نہیں ہے انہوں نے مزید لکھا ہے کہ حکومتی ٹیم جو سینہ تان کر کہتی تھی کہ کسی بھی فورم پر ہمارا احتساب کرلیں وہ آج یہ زور لگارہی ہے تھی کہ سپریم کورٹ یہ کیس نہ سنے عدالت حقائق مانگ رہی ہے مگر ان کے پاس دینے کیلئے کوئی کاغذ نہیں وزیراعظم نے کہا تھا کہ زندگی کھلی کتاب ہے مگر پانامہ سکینڈل میں نام آنے پر صادق اور آمین نہیں رہے ان سرکاری وکلاء کے پاس بتانے کیلئے کچھ نہیں بچا فواد چوہدری نے کہا کہ آج عدالت میں سرکاری وکیل نے کہا کہ جھوٹ وزیراعظم کے بچوں نے بولا تو اس میں وزیراعظم کا کیا قصور ہے وزیراعظم کے وکیل اس کیس سے جان بوجھ کر لٹکا رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ یہ کیس نہ سنے ۔

تحریک انصاف

مزید : صفحہ اول