صوبائی دارالحکومت ، 80لاکھ لٹر زہریلے دودھ کی یومیہ فروخت ، انتظامیہ فراہمی روکنے میں مکمل ناکام

صوبائی دارالحکومت ، 80لاکھ لٹر زہریلے دودھ کی یومیہ فروخت ، انتظامیہ فراہمی ...

 لاہور(رپورٹ،اسد اقبال)صو بائی دارالحکومت میں 80فیصد سے زائد شہری کیمیکل ملا زہریلا دودھ پینے یا بچوں کوپلانے پر مجبور ہیں۔ 50لاکھ لیٹر سے زائد پاؤڈر کیمیکل ملا دودھ روزانہ 40سے 200کلو میٹر کے فاصلے سے ٹینکرز میں لاد کر شہر میں لایا جاتا ہے اور یہ پاؤڈر ملک ہر طرح کے کیمیکل ٹیسٹ کے بعد مضر صحت اور غیر معیاری ثابت ہو چکا ہے ۔شہر میں سجی ہزاروں دودھ کی دکانوں میں شیر فروش موت فروخت کر رہے ہیں ۔ فو ڈاتھارٹیز ، مارکیٹ کمیٹیوں ، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیور فوڈ ایکٹ ادارہ بھی شہریوں کو خالص اور معیاری دودھ کی فراہمی میں ناکام ہو کر رہ گئے ہیں۔ عدالت عظمی کے احکامات کے باوجو د بھی ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی محض ہزاروں لیٹر دودھ قبضے میں لیے جانے اور ضائع کر نے پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صو بائی دارالحکو مت میں گھروں میں استعمال کے لئے اور مٹھائیاں وغیرہ تیا ر کرنے کے لئے 80لاکھ لیٹر دودھ روزانہ لایا جاتا ہے جس میں کیمیکل ، سنگھاڑے کا پاؤ ڈر ،فارمالین اور دیگر کیمیکلز استعمال کیا جاتا ہے۔ دددھ کی کوالٹی یوں دکھائی دیتی ہے کہ وہ پتلا نہیں بلکہ جھاگ کے ساتھ گاڑھا ہوتا ہے ۔ کیمیکل ملے دددھ کی تیاری لاہور کے مضافاتی علاقوں میں قائم فیکٹریوں میں کی جاتی ہے جسے ہر روز مارکیٹ میں بکنے کے لئے لایا جاتا ہے۔اس کیمیکل ملے دودھ کی کوالٹی ہوتی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی خراب نہیں ہوتا اور اس کی رنگت میں بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ دودھ 50روپے میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ سستا ہونے کے باعث لوگ اسے وافر مقدار میں خرید کر لے جاتے ہیں جس کے باعث وہ دن بہ دن مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت اقدامات اٹھائے تاکہ صحت مند معاشرے کا وجود ممکن ہو سکے ۔ممتازغذائی ماہر ڈاکٹر سروش نے پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملاوٹ شدہ خوراک اور کیمیکل ملا دودھ کا استعمال انسانی زندگی کے لئے زہرقاتل ہے۔انھوں نے کہا کہ خالص دودھ بھی زہر کی مانند ہے کیو نکہ گوالے دودھ کی مقدار زیادہ لینے کے لیے آکسی ٹو سن ٹیکے کا استعمال کرتے ہیں ۔یہ انجکشن بھینس کی نسوں میں شامل ہو کر ہڈیوں میں موجود دودھ کے ریشوں کو بھی باہر نکا ل دیتا ہے اور یہ دودھ خالص ہونے کے باوجود زہر آلود ہو جاتا ہے جس کے استعمال سے خصو صا چھوٹے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمیکل ملے دودھ یا اس سے تیار کی جانے والی اشیاء کا استعمال انسان کے نظام انہضام کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے جس سے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر جلد موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سروش نے کہا کہ حکو مت وقت کو چاہئے کہ انسانی صحت کی بقا کے لئے دودھ سمیت بنیادی کھانے پینے کی اشیاء کے معیار میں سو فیصد تک بہتری لائی جائے ۔

مصنوعی دودھ

مزید : صفحہ اول