’’صاف پانی پروگرام ‘‘ کے غلط تخمینہ جات کے ذمہ داروں کوسزا ملے گی: شہبا شریف

’’صاف پانی پروگرام ‘‘ کے غلط تخمینہ جات کے ذمہ داروں کوسزا ملے گی: شہبا ...

 لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ صوبے کی ساڑھے پانچ کروڑ دیہی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے اورہمیں اس چیلنج سے بطریق احسن عہدہ برآ ہونا ہے ۔شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق دینے میں ہی کسی ریاست کی بقاء مضمر ہے ۔ پنجاب حکومت صوبے کے 10کروڑ عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اوراس مقصد کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے خادم پنجاب صاف پانی پروگرام مرتب کیا گیا ہے اوراس کاآغاز جنوبی پنجاب کی ڈویژن بہاولپور سے کیاگیا ہے ۔مرحلہ وار پروگرام کے تحت وسطی اورشمالی پنجاب تک اس پروگرام کا دائرہ کار بڑھایا جائے گااور صوبے کے ہر گھرتک پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔2013ء کے انتخابات میں عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کواقتداردیااوروزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے عوام کی خدمت کے سفر کا آغاز کیااورگزشتہ ساڑھے تین برس کے دوران توانائی بحران اوردہشت گردی کے خاتمے اورعوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کیے گئے ہیں اوران پروگراموں میں شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی شامل تھے ۔وزیراعظم کی قیادت میں عوامی خدمت کے ایجنڈے کو کامیابی سے آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج مقامی ہوٹل میں پنجاب صاف پانی کمپنی کے زیر اہتمام صوبے کی دیہی آباد ی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ مشاورتی سیمینار کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار میں چین،ترکی،فرانس،یورپ اورمشرق وسطی سے واٹر سیکٹر سے تعلق رکھنے والے مندوبین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔صوبائی وزراء ،اراکین اسمبلی،چیف سیکرٹری،متعلقہ اعلی حکام اورواٹر سیکٹر سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کے سربراہان بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ سیمینار میں غیرملکی مندوبین کی شرکت پرانہیں خوش آمدید کہتے ہیں اوران کی سودمند تجاویز اور آرا ء کی روشنی میں پنجاب صاف پانی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے کیلئے لائحہ عمل طے کیا جائے گاکیونکہ سیمینار کے انعقاد کا مقصدصاف پانی پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے بین الاقوامی ماہرین کیساتھ مشاورت کے بعد پروگرام کا ازسرنو جائزہ لے کراسے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین سال قبل پنجاب حکومت نے صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے ایک جامع اوربڑا پروگرام مرتب کیا ۔بدقسمتی سے2017ء کے آغاز پر بھی متعلقہ اداروں نے مفادعامہ کے اس بڑے پروگرام کو نااہلی،اقرباء پروری،عزم کی کمی اوراسے غیر پیشہ ورانہ انداز سے آگے بڑھانے کی کوشش کی جس کے باعث اس پروگرام میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔صرف جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور میں 80واٹر فلٹریشن پلانٹس لگائے گئے ہیں جو کہ بہت کم ہیں۔اس پروگرام کے تحت پہلے مرحلے میں جنوبی پنجاب کی آبادی کو پینے کے صاف پانی فراہم کیا جائے گا جبکہ بتدریج اس کا دائرہ کار پنجاب کے دیگراضلاع تک بڑھایا جائے گا۔شروع میں نیسپاک کو کنسلٹنٹ رکھا گیا لیکن نیسپاک نے بہت غلطیاں کیں جس پر اسے ہٹایا گیا اس کے بعد ای سی ایس پی کوکنسٹلٹنٹ بنایاگیا اوراب انٹرنیشنل کنسلٹنٹ لئے گئے ہیں۔بدقسمتی سے پنجاب صاف پانی کمپنی کے دو چیف ایگزیکٹو آفیسر تبدیل ہوئے جن میں سے ایک چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے ہٹایاگیا ہے ۔پنجاب حکومت نے اس پروگرام کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 30ارب روپے کی خطیر رقم مختص کررکھی ہے لیکن افسوس کہ کنسلٹنٹ رکھے گئے جس افسرنے اس پروگرام کو آگے بڑھانے میں نااہلی ، غفلت ،کوتاہی اوربدانتظامی کا مظاہرہ کیا ہے اسے برطرف کردیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں مختلف وجوہات کی بنا پر 1400واٹر سپلائی کی سکیمیں غیر فعال ہے اوران سکیموں کو عزم،جذبے اورنگرانی کی کمی کے باعث فعال نہیں کیا جاسکا۔انہوں نے کہا کہ پروگرام کیلئے ابتدائی طورپر 121ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا جوان عناصر کی نااہلی،غیر پیشہ ورانہ انداز،کوتاہی اورلالچ کی وجہ سے 191 ارب روپے تک پہنچ گیاجس پرذمہ داران کیخلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ہم ایک غریب قوم ہے اور ہم نے اس قوم کے وسائل شفاف طریقے سے خرچ کرنے ہیں۔ہم نے اس پروگرام کو آگے بڑھانے کیلئے انتہائی آسان، مستقبل اورانفرادیت کے ساتھ ایسے قابل عمل اقدامات کرنے ہیں جو کہ کم خرچ اورپائیدار ہوں لیکن یہاں ایسی بے پناہ غلطیاں کی گئیں جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔اگر میں یہ موجودہ عمل نہ روکتا تو ایک سیکنڈل بننا تھا اور ہم پر انگلیاں اٹھنی تھیں لیکن اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ بروقت نااہلی ،غفلت ،کوتاہی ا ورغیر پیشہ ورانہ انداز سے منصوبے کو آگے بڑھانے کا علم ہوا۔میں نے واضح ہدایت کی تھی کہ پروگرام کیلئے غیر ملکی کنسلٹنٹس کا انتخاب کیا جائے کیونکہ پاکستانی کمپنیوں کے پاس ایسے پروگرام کیلئے استعدادکار موجود نہیں لیکن افسوس کی بات کہ پاکستانی کمپنیوں کو چنا گیااوران کمپنیوں کے غلط اعداد وشمار کے باعث پروگرام کی لاگت کا تخمینہ کئی ارب روپے بڑھااور پروگرام پر عملدر آمدکاموڑ بھی بی او کیو سے بدل کرای سی پی کردیاگیا،مزید برآں یہ کہ تخمینہ جات میں اضافے کی ایک وجہ کنٹری رسک کو شامل کرنا تھا جسے 9فیصد رکھا گیاحالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور191ارب روپے کے پروگرام میں9فیصد کنٹری رسک کو شامل کیا جائے تو یہ ساڑھے 18ارب روپے کی رقم بنتی ہے حالانکہ اس منصوبے کیلئے تمام تر وسائل پنجاب حکومت نے دینے تھے ،لہذاکنٹری رسک کی کوئی گنجائش نہیں بنتی کیونکہ اس پروگرام کیلئے نہ قرضہ لیا جارہا تھا نہ کسی سے فنڈزتمام تر سرمایہ کاری پنجاب حکومت کررہی ہے ۔قوم کے خون پسینے کی کمائی کو 70برس کے دوران کئی باربے دردی سے لوٹا گیا ہے اورپاکستان اپنی منزل سے ہٹا ہے۔9فیصد کنٹری رسک شامل کرنے کا اقدام انتہائی شرمناک بات تھی اوریہ نااہلیت ،غفلت،کوتاہی اورلالچ کیساتھ کرپشن کی کہانی بھی سنارہی تھی ۔میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کا غیر پیشہ ورانہ انداز میں کسی پروگرام پر عملدر آمد ہوتے ہوئے نہیں دیکھااورپھرسکیڈاکو بغیر تصدیق اور سروے کیے پورے پروگرام کیلئے رکھا گیاا وراس کیلئے 27ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیاحالانکہ جنوبی پنجاب میں قابل اعتماد توانائی اورانٹرنیٹ کنکشن کا فقدان ہے جبکہ واٹر فلٹریشن پلانٹ چلانے کیلئے سولرپینلز کاآپشن بھی رکھا گیا حالانکہ اس بارے فیصلہ کیا جاچکا تھا کہ رواں برس بجلی کے کئی منصوبے مکمل ہوں گے اورپلانٹس کیلئے سولرپینلز کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اس کے باوجود اسے آپشنل حصہ بنایا گیااوراس طرح یہ منصوبہ انتہائی نااہلیت،بے پناہ کوتاہی،ڈھیروں غفلت،کرپشن اوربے حساب غیر پیشہ ورانہ انداز میں چھلانگیں لگاتا ہوا121ارب روپے سے 191ارب روپے تک پہنچ گیا۔ ہمیں اپنے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کر کے بیماریوں سے بچانا ہے اسی مقصد کے پیش نظر صاف پانی پروگرام کے بڑے منصوبے کا آغاز کیاگیا ہے جس کے تحت بہاولپور ڈویژن میں 80فلٹریشن پلانٹس کام کررہے ہیں اوراس پروگرام کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 1400رورل واٹر سپلائی سکیمیں غیر فعال ہے انہیں بھی پوری طرح فعال کیا جائے گا۔ماضی کی کوتاہیوں پر رونے دھونے کی بجائے ہمیں ان سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے اوراپنے عوام کی خدمت کرنا ہے ۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہے جومحنت،عزم،دیانت اورامانت کو اپنا شعار بناتی ہیں۔ چےئرمین منصوبہ بندی وترقیات جہانزیب خان نے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ سی ای او اربن یونٹ ڈاکٹر ناصر جاوید نے پنجاب میں پینے کے صاف پانی کی صورتحال اور مسائل کے بارے میں بریفنگ دی۔پنجاب صاف پانی کمپنی کے قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسرخالدشیر دل نے پنجاب صاف پانی کمپنی کے امور اور طریقہ کار کے بارے میں آگاہ کیا ۔وائس نائب صدر کانٹل ٹیکنالوجیز شکیل ہاشمی،حاجی محمد فاروق اورواٹر سیکٹر کے عاصم قادری نے بھی تقریب سے خطاب کیا ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کے حوالے سے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں مریضوں کی سہولت اور انہیں بروقت طبی امداد کی فراہمی کیلئے ہسپتالوں کی ایمبولینسز کو ریسکیو1122 کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحت عامہ کی معیاری سہولتیں عوام کا بنیادی حق ہے اور پنجاب حکومت عوام کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گی۔ صوبائی وزراء صحت صوبے کے ہسپتالوں اور صحت کی دیگر سہولتوں کا جائزہ لینے کیلئے خود دورے کریں۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی جوہانس تھیوڈورس کڈزیرسکی نے کہا کہ پنجاب حکومت کے ساتھ ہیلتھ کیئر سسٹم کی بہتری کیلئے تعاون کر کے خوشی ہو گی۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی، صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق ، خواجہ عمران نذیر ،سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ و میڈیکل ایجوکیشن،سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ، ڈی جی ریسکیو1122، طبی ماہرین اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ہونہار طلبا و طالبات کیلئے لیپ ٹاپ خریدنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے لیپ ٹاپ کی خریداری کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس پنجاب حکومت جدید ترین لیپ ٹاپ خرید کر ذہین طلبا و طالبات میں تقسیم کرے گی۔پنجاب حکومت نے لیپ ٹاپ دے کرہونہار طلباء و طالبات کو ان کا حق دیا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید علوم سے آراستہ کرکے بااختیار بناناپنجاب حکومت کا مشن ہے اور قوم کے ہونہار بچے و بچیوں کو لیپ ٹاپ کی فراہمی کا پروگرام اس جانب اہم قدم ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اربوں روپے کی لاگت سے میرٹ کی بنیاد پر ہونہار طلبا و طالبات میں لاکھوں لیپ ٹاپ تقسیم کئے جاچکے ہیں ۔قوم کے بچے اوربچیوں کو جدید علوم سے آگاہی دینے کیلئے وسائل کی فراہمی سود مند سرمایہ کاری ہے اور ہمارا ہر قدم نوجوان نسل کو جدید علوم سے آشنا کرنے کی جانب بڑھ ر ہا ہے ۔

مزید : صفحہ اول