رابطہ عوام مہم یا حکومت مخالف تحریک ۔ یہ کنفیوژن پیدا کر دیا گیا

رابطہ عوام مہم یا حکومت مخالف تحریک ۔ یہ کنفیوژن پیدا کر دیا گیا

تجزیہ: چودھری خادم حسین

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پیپلزپارٹی جس تحریک کا نام لے رہی ہے وہ کیا اور کس مقصد کے لئے ہے کیونکہ پارٹی کے سربراہوں کے درمیان بھی کچھ کنفیوژن ہے۔ بہرحال بلاول بھٹو زرداری اپنے چار مطالبات پر مصر ہیں اور ان کے والد پارلیمینٹرین کے صدر پارلیمانی عمل پر یقین رکھتے اور انہوں نے ہی اپنے اور بلاول کے لئے ضمنی انتخابات کے ذریعے اسمبلی جانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ذرا غور کریں تو جمہوریت اور جمہوری نظام کو بحال رکھنے کی بات کی جاتی ہے چنانچہ نتیجہ یہی اخذ کیا جائے گا کہ پیپلزپارٹی جس تحریک کا نام لے رہی ہے وہ پارٹی کو متحرک اور رابطہ عوام کے لئے ہے چنانچہ19جنوری کی ریلی کو بھی اسی روشنی میں دیکھنا چاہئے بلاول بھٹو زرداری نے لاہور سے فیصل آباد تک ریلی کا جو اعلان کیا وہ کوئی لانگ مارچ کی طرز پر نہیں ہو گی بلکہ ایک ایسا جلوس ہو گا جو لاہور سے چلتے ہوئے فیصل آباد تک راستے میں استقبال کرائے گا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی مختصر خطاب بھی کریں گے اور پھر فیصل آباد میں جلسہ ہو گا۔ اسی طرح ممکنہ طور پر فیصل آباد سے ملتان اور پھر ملتان سے لاہور کا پروگرام بن سکتا ہے۔ چنانچہ یہ سب عوامی رابطہ مہم ہو گی اور کوئی گڑ بڑ یا ’’پولیس مقابلہ‘‘ نہیں ہو گا۔ بلکہ ایک طرف پیپلزپارٹی کو خود حفاظتی انتظامات کرنا ہوں گے تو دوسری طرف پنجاب حکومت کو بھی ’’ہائی الرٹ ‘‘ رہنا اور سکیورٹی مہیا کرنا ہو گی۔ اس سلسلے میں منتظمین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امور بھی طے پا سکتے ہیں۔

ابتدا میں یہ کہا گیا تھا کہ بلاول لاہور کے بلاول ہاؤس میں ایک ہفتہ قیام کریں گے اور یہاں تنظیم نو کے لئے انٹرویو کریں گے تاہم وہ اچانک کراچی سے اسلام آباد پہنچ کر زرداری ہاؤس میں رک گئے اور سنٹرل پنجاب کے ڈویژن اور اضلاع کے لئے یہیں انٹرویو کئے، شہر اقتدار میں وہ مزید ایک ہفتہ کے قریب گذاریں گے اور پھر لاہور آئیں گے اور یہاں سے فیصل آباد روانہ ہوں گے۔ عرض کیا تھا کہ پاناما کیس جاری ہے اور تحریک انصاف نے بہاول پور سے عوامی رابطہ مہم شروع کی ہے۔ ادھر خیبر پختون خوا میں عوامی نیشنل پارٹی نے بھی پارٹی کنونشنوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (ف) پہلے ہی جلسے کر رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) جماعتی پلیٹ فارم سے تو جلسے نہیں کر رہی لیکن وزیر اعظم محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف ترقیاتی کاموں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں اور افتتاح وغیرہ کی تقریبات سے مسلسل خطاب کر رہے ہیں یوں اسے اگر انتخابی ماحول کہا جائے تو کچھ غلط بھی نہیں ہو گا۔ چنانچہ اب عوام کو اپنی اپنی پسند کی جماعت کے لئے متحرک ہونا ہو گا۔

جہاں تک کسی تحریک کا تعلق ہے تو بظاہر اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا اس لئے یہ بھی بہتر ہی ہے کہ حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے طور پر متحرک ہیں تاہم جو بات کھٹکتی ہے وہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور اس میں کچھ اخلاقی حدود سے تجاوز ہے جو نہیں ہونا چاہئے کہ سیاست میں بھی مہذب پن کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ایسا ہمارے ملک میں تھا کہ مخالفوں کے نام بھی ادب ہی سے لئے جاتے تھے۔

سندھ کے کم تر مدت کے گورنر جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی انتقال کر گئے۔ یقیناًبا اصول انسان تھے۔ ان کے بارے میں ہر کسی نے نیک اور اچھے خیالات کا اظہار کیا ہے یوں بھی جو اللہ کے حضور حاضر ہونے چلا جائے اس کے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں لیکن گورنر شپ کی نامزدگی سے وفات تک انہوں نے زیادہ وقت ہسپتال میں گذارا جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ بہتر ہوتا کہ ان کی خراب صحت کی وجہ سے ان کو نامزد نہ کیا جاتا یا پھر نامزدگی کے بعد وہ خود معذرت کر لیتے۔

گورنر سعید الزمان صدیقی کی وفات ہی سے یاد آیا کہ ان کی وفات کے بعد عہدہ تو خالی نہیں رہ سکتا، سندھ اسمبلی کے سپیکر قائم مقام گورنر ہو گئے ہیں، ہمیں دکھ ہوا جب الیکٹرانک میڈیا پر پٹی دیکھی کہ سپیکر آغاسراج درانی قائم مقام گورنر مقرر، وہ نئے گورنر کے حلف اٹھانے تک فرائض انجام دیں گے، حیرت ہوئی اور ہم نے پریس کلب میں موجود ایک عہدیدار کی توجہ مبذول کرائی جو اس چینل سے متعلق ہیں انہوں نے فون کر کے نیوز روم کو غلطی کی نشان دہی کی تو مقرر کی جگہ قائم مقام بن گئے کر دیا گیا لیکن دوسرے چینلز اور آج کے اکثر اخبارات میں ایک نیوز ایجنسی کے حوالے سے یہی چھپا اور نشر ہوا کہ آغا سراج درانی قائم مقام گورنر مقرر حالانکہ مقرر، تقرر سے ہے اور سپیکر کا تقرر نہیں ہوا وہ آئینی طور پر خود کار طریقے سے قائم مقام گورنر بن گئے ہیں کہ صدر مملکت کی عدم موجودگی میں سینٹ کے چیئرمین اور ہر دو کی عدم موجودگی میں قومی اسمبلی کے سپیکر قا ئم مقام صدر اور اسی طرح کسی صوبائی گورنر کی عدم موجودگی میں صوبائی اسمبلی کے سپیکر قائم مقام گورنر ہو جاتے ہیں ان کو حلف لینے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی کہ یہ متعین طریق کار ہے تاکہ کوئی خلاء پیدا نہ ہو۔ اس لئے مقرر درست نہیں۔ معلوم نہیں کسی پارلیمانی رپورٹر نے بھی نشان دہی کی یا نہیں۔

مزید : تجزیہ