سانحہ کو 3روز گذر گئے ، مخدوش عمارتوں اور پلازوں کی تفصیلات سامنے نہ آسکیں

سانحہ کو 3روز گذر گئے ، مخدوش عمارتوں اور پلازوں کی تفصیلات سامنے نہ آسکیں

 ملتان(نمائندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ کلکٹر ملتان کے احکامات کے باوجود ایم ڈی اے کے افسران نے غیرقانونی پلازوں کا ریکارڈ ڈسٹرکٹ کلکٹر آفس میں جمع کرانے سے انکار کردیا۔سانحہ کو تین روز گزرنے کے باوجود ایم ڈی اے کی (بقیہ نمبر56صفحہ12پر )

(بقیہ نمبر1صفحہ12پر )حدود میں قائم مخدوش عمارتوں،پلازوں کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں،ایم ڈی اے کی مجرمانہ غفلت نے ایک اور حادثہ کی بنیاد رکھ دی جبکہ گزشتہ روز ایم ڈی اے کی پریس ریلیز میں زکریا شاپنگ سنٹر کے نقشہ کو غیرقانونی قرار دیا جانے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی کہ ایم ڈی اے کی تمام تر کارروائیوں کا مرکز صرف اور صرف کاغذی حد تک محدود ہے۔معلوم ہوا ہے ایم ڈی اے کی حدود میں سینکڑوں غیرقانونی پلازے قائم ہیں۔ان پلازہ مافیا کو ایم ڈی اے کی آشیر باد حاصل ہوتی ہے غیررجسٹرڈ آرکیٹکٹ سے نقشہ جات تیار کرائے جاتے ہیں۔نقشہ نویس انتہائی نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بائی لاز کو نظر انداز کرتے ہیں اس وقت ایم ڈی اے کے اربن ٹاؤن پلاننگ میں بعض اہل کار ایسے بھی موجود ہیں جو بلڈرز کے لیے رول پر کام کررہے ہیں یہ اہل کار منہ مانگے داموں پر نقشہ تیار کرتے ہیں۔معلوم ہوا ہے ملتان ترقیاتی ادارے کی جانب سے گزشتہ2سال کے دوران پلازہ مافیا کے غیرقانونی کاموں سے آنکھ بند رکھی گئی جس کیوجہ سے بوسن روڈ ملتان اس وقت شہریوں کیلئے مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔رہی سہی کسر میٹرو بس پروجیکٹ نے پوری کردی۔9نمبر چونگی پر موجود پلازہ کو بھی اندر خانہ مک مکا کے بعد منظوری دی گئی بعدازاں ایک سابق ڈائریکٹر جنرل کے خلاف انکوائری شروع کی گئی جس کا آج تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔زکریا شاپنگ سنٹر حادثہ کے بعد ڈی سی او ملتان نے ایم ڈی اے سے فوری طور پر غیرقانونی پلازوں کی فہرست طلب کی۔ابھی یہ فہرست تیاری کے مراحل میں تھی کہ ایک اعلی افسر کے احکامات پر ڈسٹرکٹ کلکٹر ملتان کو فہرست فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا ایم ڈی اے کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ ایم ڈی اے بذات خود غیرقانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوث ہے لیکن سانحات ہونے پر خود کو بری الزم قرار دیتا ہے۔ایم ڈی اے کی پریس ریلیز کے مطابق پلازہ مالک کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا ہے جوسراسر غلط ہے یہ مقدمہ ڈی سی ملتان کے حکم پر ایک ریونیو آفیسر کی مدعیت میں بی زیڈ میں درج ہوا ہے ملتان میں اتنا بڑا سانحہ ہوگیا2افراد کی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اس پر ایم ڈی اے کا اجلاس ہوا لیکن ڈی جی ایم ڈی اے نے اس اجلاس میں شرکت کرنا گوارہ نہیں جو ان کی اس سانحہ سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر