گورنر سندھ کے انتقال پر صوبے بھر میں سوگ،پرچم سر نگوں

گورنر سندھ کے انتقال پر صوبے بھر میں سوگ،پرچم سر نگوں

کراچی(اسٹاف رپورٹر) گورنر سندھ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کے انتقال پر سندھ بھر میں یوم سوگ منایاجا رہا ہے۔سندھ کے 31ویں گورنر سندھ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کے انتقال پر سندھ حکومت کے اعلان کے تحت سندھ بھر میں یوم سوگ منایا گیا، صوبائی حکومت کی جانب سے یوم سوگ کے اعلان پر سرکاری اور نیم سرکاری دفاتر پر قومی پرچم سرنگوں رہے۔گورنر ہاؤس ، وزیراعلی ہاؤس ، سندھ ہائیکورٹ ، سندھ اسمبلی ، سندھ سیکرٹریٹ سمیت تمام دفاتر پر قومی پرچم کو سر نگوں کیا گیا ہے ، جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کی خدمات کو ہر شہری سراہتا ہے۔گورنر سندھ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کی نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ گورنرہاؤس سے متصل پولوگراؤنڈ میں ادا کی جائے گی جبکہ گورنر سندھ کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کراچی کے گذری قبرستان میں کی جائے گی۔واضح رہے کہ گورنر سندھ اور جسٹس ر)سعید الزماں صدیقی انتقال یکم دسمبر1937 میں بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنو سے ہی حاصل کی۔ 1954 میں انہوں نے جامعہ ڈھاکہ سے انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔بعد ازاں وہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں فلسفے میں بی اے کے بعد کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ، انہوں نے 1960 میں قانون میں ڈاکٹریٹ کیا ۔سعید الزماں صدیقی 5نومبر 1990 کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مقررہوئے۔ 30 مئی1992 کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا۔ یکم جولائی 1999 سے 26 جنوری 2000 تک چیف جسٹس آف پاکستان رہے۔ وہ پاکستان کے 15ویں چیف جسٹس تھے۔ انہوں نے سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے ایل ایف او کو مسترد کیا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا۔الیکشن 2008 میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کے بعد پرویز مشرف کی جانب سے عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی نے جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کو آصف علی زرداری کے مقابلے میں صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا تاہم انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔سعید الزماں صدیقی نے11 نومبر 2016 کو سندھ کے گورنر کا حلف اٹھایا تاہم اسی روز ان کی طبیعت ناساز ہوگئی جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا تھا، انہوں نے اپنی ذمہ داریاں اسپتال سے ہی ادا کیں جبکہ انہیں 15 دسمبر کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا اور گورنر ہاؤس میں ان کیلئے عارضی آئی سی یو بنایا گیا تھا۔

مزید : کراچی صفحہ اول