پشاور ہائیکورٹ نے انسداد کرپشن سیل قائم کردیا

پشاور ہائیکورٹ نے انسداد کرپشن سیل قائم کردیا

پشاور( ملک حشمت ) پشاور ہائیکورٹ نے ماتحت عدالتوں سے کرپشن کے خاتمے کیلئے کرپشن خاتمہ سیل قائم کردیا ہے عوامی آگاہی کیلئے پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ سیل کے قیام کے بارے معلومات انٹر نیٹ پر فراہم کردیئے ہیں پشاور ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس سیٹھ وقار اس کے سربراہ مقرر کئے گئے ہیں پشاور ہائیکورٹ نے عوام الناس اور عدلیہ کے لوگوں اور مقدمہ بازوں سے ایک پیغام میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ماتحت عدالتوں سے کرپشن کی برائی کو ختم کرنے کیلئے کہ اگر ماتحت عدالتوں کے افسران بالا سے متعلق ان کے کوئی شکایت ہو تو وہ اپنی شکایات سیل کو بذریعہ ڈاک / رجسٹری بھیج سکتے ہیں پشاور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکایات متعلقہ افسر کا پورا نام ،عہدہ ،کرپشن کی نوعیت لکیھ ہوئی چاہئے پشاور ہائیکورٹ کے پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ گان بھی اپناپورا نام ،ولدین ،کمپیوٹر ائزڈ شناختی کارڈ کا نقل موبائل یا ٹیلیفون نمبر اور کیس کی نوعیت شکایات میں درج کرکے لکھے شکایت کنندہ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا بحرکیف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کرپشن خاتمہ سیل نے پہلے سے ڈسٹرکٹ عدالتی نظام میں کرپشن سے متعلق انکوائری مکمل کرلی ہے جسکے نتیجے میں پورے خیبر پختونخوا میں ماتحت عدالتوں کے 64 ججوں پر کرپشن،اتھارٹی کے ناجائز استعمال کی چارجز لگ سکتے ہیں خیبر پختونخوا بار کونسل کے ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین محمد اعجاز خان نے پشاور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے اس کوشش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کردار شخصیت ہے وہ اپنی ایمانداری کیلئے مشہور ہے ان کے حلف اٹھانے کے بعد ہم نے ماتحت عدالتوں میں فرق محسوس کی انہوں نے مزید کہا کہ 80 فیصد کرپشن ضلعی عدالتوں میں ہوتی ہے اس سے پہلے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اعجاز افضل خان سپریم کورٹ کے جج ہیں نے ماتحت عدالتوں میں بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال پر ایکشن لیا تھا انہوں نے ضلعی عدالتوں میں اختیارات کے غلط استعمال پر بد عنوانی پر سیشن ججوں ،ایڈیشنل سیشن ججوں اور ضلعی ججوں اور ضلعی عدالتوں کے اہلکاروں کو برطرف کیا تھا 29 اکتوبر 2010ء کو پشاور ہائیکورٹ بدعنوانی کے جرم میں پانچ عدالتی افسران کو جبری ریٹائرڈ کیا تھا جس میں تین ضلعی اور سیشن جج اور دو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج شامل تھے بعد میں پانچوں ججوں نے جبراً ریٹائرمنٹ کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کیا تھا ۔

مزید : کراچی صفحہ اول