تعلیم ہی تبدیلی کا زینہ ہے اس شعبہ کو ترجیح حاصل ہے: عاطف خان

تعلیم ہی تبدیلی کا زینہ ہے اس شعبہ کو ترجیح حاصل ہے: عاطف خان

مردان(بیورورپورٹ )صوبائی وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم وبرقیات محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ تعلیم ہی تبدیلی کا زینہ ہے ہماری حکومت تعلیم کے شعبے کو اولیت دے رہی ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ صوبائی بجٹ کا 28فی صد تعلیم پر خرچ کیا جارہا ہے ،گذشتہ حکومت سے موازنہ کیا جائے تو انہوں نے پانچ سال کے دوران صرف تین ہزار اضافی کمرے بنائے جبکہ ہماری حکومت نے صرف تین سال میں بارہ ہزار نئے کمرے تعمیر کرائے ہیں۔اسی طرح سابقہ حکومت نے پانچ سال میں صرف 234سکولوں کے باؤنڈری وال بنائے جبکہ ہم نے صرف تین سال میں 12000سکولوں کے باؤنڈری وال بنائے ہیں یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے تاہم ستر سال کا گند صاف کرنے کے لیے وقت تو درکار ہوگا ۔وہ ایگزیکٹیو کلب مردان میں ہیومن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ریڈنگ کمیونٹیز پراجیکٹ کے اختتامی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر ایچ ڈی ایف کے چیف ایگزیکٹو کرنل (ر)اظہر ، آئی آر سی کے خالدمحمود، ای ڈی او مردان ضیاء الدین اور ایچ ڈی ایف کے ریجنل پروگرام آفیسر محمد اسحاق نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتایا گیا جوکہ پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ کے تحت مردان میں 20 سرکاری مردانہ و زنانہ پرائمری سکولوں میں گریڈ ایک اور دو کے بچوں اور بچیوں میں ریڈنگ سکلز کو اُجاگر کرنے پر کام کیا گیا ہے جس کے دوران بچوں میں کتاب بینی کا ذوق اجاگر کرنے پر بھی توجہ دی گئی اور بچوں کی سنائی گئی کہانیوں اور داستانوں کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے ۔صوبائی وزیر تعلیم محمد عاطف خان نے ایچ ڈی ایف کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے خصوصی طور پر پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ کے بنیادی مرکزی خیال کی تعریف کی اور بچوں میں مطالعے کے ذوق کو بڑھانے میں ادارے کی کاوشوں کو حوصلہ افزا قراردیا ۔اُنہوں نے کہا کہ نئے دور میں آئی ٹی اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باوجود کتاب کی اہمیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جاسکتا اس لیے کتاب بینی کے کلچر کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اُنہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان کا حوالی دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی مصروف شیڈول کے باوجود عمران خان کتب بینی کے ذوق کی تسکین کے لیے وقت نکالتے ہیں جو کتب بینی کی اہمیت کا ظاہر کرتا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ سرکاری سکول جہاں غریب ترین لوگوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ہماری حکومت نے گیارہ سو سرکاری سکولوں میں انٹرایکٹیو بورڈ نصب کیے ہیں جو فی الوقت صوبے کے بڑے بڑے نجی سکولوں میں بھی میسر نہیں ۔اسی طرح ہم نے کئی دہایؤں سے دو ارو تین کمروں کے سکولوں ا ور تین اساتذہ کی پالیسی کو تبدیل کرتے ہوئے چھ کمروں اور چھ اساتذہ کی پالیسی اپنا لی ہے جس سے ایک کمرے میں دودو کلاسوں کا مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ہم پر تنقید کرنے والے سابقہ حکمرانوں سے یہ پوچھنا تک گوارہ نہیں کرتے کہ انہوں نے تعلیم جیسے اہم شعبے کے یہ کھلواڑ کیوں کی ۔محمد عاطف خان نے کہا کہ ہم تنقید کا خیر مقدم کرتے ہیں اور تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اُنہوں نے ریڈنگ پراجیکٹ میں بہتر کارکردگی پر گورنمنٹ سکول منگا ہ اور گورنمنٹ گرلزپرائمری سکول بکٹ گنج کے ہیڈ ٹیچرز کو ایچ ڈی ایف کی طرف سے شیلڈز بھی دیئے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول