سعید الزماں صدیقی کی رحلت،گورنرہاؤس کانیامکین کون ہوگا ؟

سعید الزماں صدیقی کی رحلت،گورنرہاؤس کانیامکین کون ہوگا ؟

(تجزیہ:کامران چوہان)جسٹس(ر)سعید الزماں صدیقی رحلت کے بعدگورنرہاؤس ایک بار پھر ویران ہوگیا۔سعید الزماں صدیقی نرم گفتار اور شریف النفس انسان تھے انہوں نے 11نومبر2016ء کوسندھ کے 30ویں گورنر کا حلاف اٹھایا۔ آئینی اور قانونی حلقوں میں سعید الزماں صدیقی کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ جسٹس(ر)سعید الزماں صدیقی سابق صدر آصف علی زرداری کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے صدارتی اُمیدوار بھی رہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں افتخار چودھری کی بحالی سے قبل انتخابات کے موقع پر لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواران کے اجلاس میں سعید الزماں صدیقی نے افتخار چودھری کی بحالی کیلئے جدوجہد کرنے کا حلف بھی لیا۔ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سیّد سجاد علی شاہ کو ن لیگ کے دوسرے دور حکومت میں ایک آئینی بحران کا سامنا تھا اس دوران ججز کی بغاوت کے بعد سعید الزماں صدیقی سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس بنے تھے۔ جنرل (ر) مشرف نے 1999ء میں ایمرجنسی لگانے کے بعد جب PCO جاری کیا تو سعید الزماں صدیقی نے PCO کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا۔ جس کی وجہ سے کچھ وقت کیلئے انہیں نظربند رکھا گیا۔ جنرل (ر) مشرف کے دور میں PCO کے تحت حلف نہ اُٹھانے کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف انہیں انتہائی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اسی لئے علالت اور پیرانہ سالی کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ڈاکٹر عشرت العباد خان کے استعفیٰ کے بعد انہیں گورنر نامزد کیا۔ بدقسمتی سے صحت خرابی کی وجہ سے ان کازیادہ تروقت اسپتال اور علاج و معالجہ میں گزارا۔ ان کی بحیثیت گورنر تقرری پرایم کیو ایم پاکستان اورپیپلز پارٹی کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔ موحوم مرنجا مرنج شخصیت کے مالک تھے، ان کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ جب بھی پاکستان کی جمہوری تاریخ لکھی جائے گی توسعید الزماں صدیقی کا نام ضرور نمایاں ہوگا۔ سعید الزماں صدیقی کے سانحہ ارتحال کے بعد مسلم لیگی حلقوں میں گورنر شپ کیلئے دوڑ تیز ہوگئی ہے۔ ہر اُمیدوار اپنی اپنی لابی کے ذریعے ناصرف قیادت کو اپروچ کررہا ہے بلکہ اپنی وفاداری کا صلہ بھی مانگ رہا ہے۔ اس موقع پر MQM اور پیپلز پارٹی تمام تر پیش رفت کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے ۔کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ اور کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے کسی ریٹائرڈ فوجی جنرل کو تعینات کیا جائیگا۔ اس بات کا بھی گمان ہے کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اپنا آئینی حق استعمال کرنے سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری کو بھی ضرور اعتماد میں لیں گے۔ کوئی بھی ایسا جوشیلا کارکن بطورِ گورنر نہیں لایاجائیگا جو پیپلز پارٹی کیلئے مسائل پیدا کرے اسی لئے مشاہد اﷲ، نہال ہاشمی، اسماعیل راہو کے چانس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فریقین کیلئے ہی موزوں ہے کہ کوئی ہومیوپیتھک قسم کا شخص نامزد کیا جائے۔ میاں محمد نواز شریف کے پیش نظر یہ بات بھی یقیناًہوگی کہ گورنر اردو بولنے والے حلقے سے ہی ہو۔آئندہ سال انتخابات کاسال ہے اسی لئے میاں نواز شریف گورنر کی تعیناتی کے سلسلے میں ہر قسم کے تنازعات سے گریز کریں گے۔ن لیگ کے ذرائع کے مطابق جسٹس (ر)سعید الزماں صدیقی کی بطور گورنر نامزدگی میں صدر مملکت ممنون حسین نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کراچی سے تعلق رکھنے کے باعث وزیراعظم سندھ کے حوالے سے ان کی رائے کوبہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔نئے گورنر سندھ کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم صدر مملکت سے بھی مشاورت کریں گے اور صدر ممنون حسین کی جانب سے دیا جانے والا نام گورنر سندھ کے عہدے کے لیے فیورٹ ہوگا گورنر کی نامزدگی میں صدر ممنون اپنے دیریہ دوست قطب الدین کی نامزدگی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ نئے گورنرسندھ کی تقرری میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار بھی بھرپوردلچسپی لے رہے ہیں اورسی پیک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانے کیلئے وہ صنعتکارکو گورنرہاؤس کا مکین بنانے کے خواہشمندہیں اسی لئے سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین مفتاح اسماعیل اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر کا نام بھی زیرگردش ہے ہے ۔ ان کے خبروں کے بعد کاروباری حلقوں میں مفتاح اسماعیل کو بطور گورنر پسندیدہ شخصیت قرار دیا جارہا ہے۔نیا گورنوکون ہوگا اس پرقیاں آرائیاں اورسیاسی جمع تفریق توجاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق ’’خاتون‘‘ کی بطورگورنرتقرری کرکے میاں صاحب سرپرائزبھی دے سکتے ہیں۔ سندھ میں گورنر کوئی بھی بنے یہ بات واضح رہے کہ وہ پیپلز پارٹی کیلئے ہرگز کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر