سینئر صوبائی وزیر سکندر شیرپاؤ نے گمشدہ بچے کو والدین سے ملا دیا

سینئر صوبائی وزیر سکندر شیرپاؤ نے گمشدہ بچے کو والدین سے ملا دیا

پشاور( سٹاف رپورٹر )خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے سماجی بہبود و آبپاشی سکندر حیات خان شیر پاؤنے کہاہے کہ گمشدہ اور بچھڑے ہوئے بچوں کو اپنے خاندانوں سے ملانا ، ان کی ذہنی نشو نما پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں تحفظ دینا اور انہیں بہتر تعلیم فراہم کرنا حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ عمل نہ صرف ملک و قوم کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ انسانیت کی اولین ترجیح بھی ہے۔ انہوں نے جمعرات کے روز پشاور اپنے دفتر میں نو ماہ پہلے گمشدہ بچے کو اپنے والدین کے حوالے کرنے کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ بچہ عباس ولد امین جو غریب آباد ضلع مالاکنڈ کا رہائشی ہے اور جس کی عمر 12سال ہے کو والدین نے روات، راولپنڈی کے ایک مدرسے میں داخل کرایا تھا جہاں سے وہ گم ہو گیا اور 12دن پہلے حکومت پنجاب کے محکمہ چائلڈ پروٹیکشن نے بازیاب کر کے خیبر پختونخوا حکومت کی اطلاع دی۔ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کے سوات یونٹ نے بچے کے والدین ڈھونڈ نکالے اور چائلڈ پروٹیکشن کورٹ راولپنڈی کے روبرو معاملات نمٹا کر بچے کو آج میڈیا کے سامنے اپنے والدین کے حوالے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے صوبائی محکمے کو ہدایت کی کہ مالاکنڈ میں سردیوں کی چھٹیاں ختم ہونے پر بچے کو سکول میں داخل کرانے کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اسے نفسیاتی اور طبی امداد کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے تاکہ یہ بچہ معاشرے کا فعال رکن بن سکے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ تین ایسے مزید بچوں کے والدین کو ڈھونڈا جا رہا ہے جو کہ حکومت پنجاب کی نگرانی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ تقریباً دو ہزار بچے ہمارے صوبے میں گم ہونے کی شکایات مل رہی ہیں جنہیں ڈھونڈنے اور اپنے خاندانوں سے ملانے کیلئے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔کمیشن نے 2010ء میں معرض وجود میں آنے سے اب تک 27ہزار گمشدہ بچوں کا کھوج لگایا ہے جبکہ حکومت کمیشن کو مزید وسعت دینے کیلئے بھی اقدامات اٹھا رہا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بچوں کو اپنے خاندانوں سے جوڑنا اور ان کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی بین الاقوامی برادری کے ساتھ وعدہ ہے جس کیلئے موجودہ حکومت کا روز اول سے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر