پانامہ لیکس پر اعدالت کافیصلہ من و عن تسلیم کرینگے:میاں ا فتخار حسین

پانامہ لیکس پر اعدالت کافیصلہ من و عن تسلیم کرینگے:میاں ا فتخار حسین

نوشہرہ(بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کیس عدالت میں ہے عدالت کا فیصلہ من وعن تسلیم کریں گے اور امید ہے کہ عدلیہ بھی شواہد اور دلائل پر انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فیصلہ کرے گی مردم شماری میں کوئی رکاؤٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور مردم شماری اور قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سے خیبرپختونخوا کی قومی وصوبائی اسملبیوں میں اضافے سے خیبرپختونخوا ایک مضبوط قوت بنے گی اور این ایف سی کے ایوارڈ میں زیادہ حصہ ملے گا مردم شمار ی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے نشستوں میں بھی اضافہ ہوگا اور حلقہ بندیاں انصاف کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور من پسند حلقہ بندیاں کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے اے این پی کا گراف انتہائی مضبوط ہوتا جارہا ہے اور آئندہ حکومت اے این پی کی ہوگی اے این پی کے صوبائی رہنما جہانزیب خٹک کا پورا خاندان ہمارے ساتھ ہے 22جنوری کو باچا اور ولی خان کی برسی کے موقع پر نوشہرہ سے ایک تاریخی جلوس اے این پی کے بڑے جلسہ عام میں شمولیت کرے گی ان خیالات کااظہار انہوں نے نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سابق وفاقی وزیر مسعود عباس خٹک، ضلعی صدر ملک جمعہ خان، سابق ایم پی اے خلیل عباس، اے این پی کے رہنما ملک عباس خان، جنرل سیکرٹری خوشحال خان، اے این پی کے صوبائی رہنما جہانزیب خان خٹک، عالمزیب ایڈوکیٹ، ذاکر خان خٹک، شاہد برکی ایڈوکیٹ، سیف اللہ خٹک اور یوتھ ضلعی کونسلر ملک جلال ، تحصیل پبی کے صدر حاجی زرعلی خان بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کے بعد فخر افغان باچا خان اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کی برسی پہلی مرتبہ جلسہ عام کی صورت میں چارسدہ میں منعقد کی جارہی ہے۔اس مرتبہ اے این پی کے کارکن پورے جو ش وجذبے کے ساتھ برسی کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ اور قوت کابھر پور مظاہرہ کریں گے۔ پاکستان اور پوری دینا کو در پیش سخت حالات میں باچا خان اور ولی خان کے عدم تشدد کے فلسفے اور سوچ کی ضرورت بڑھ چکی ہے ۔ اور اسی صورت حال کے پس منظر میں قائدین پختون قوم کو حالات سے اگاہ کرنے کے لیے خصوصی پیغام دیں گے۔ باچاخان اور ولی خان کی برسی کے حوالے سے اخری شکل دی گئی۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ صوبائی خود مختیاری کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔ اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے این ایف سی میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے وہ بھر پور کردار ادا نہ کرسکی۔ جس کی وجہ سے صوبہ مالی بحران کا شکار ہے اور صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کے لیے جی پی فنڈ سے قرضے لیے گئے اور ترقیاتی منصوبوں کی تو بات ہی نہ کرو۔ سی پیک کے حوالے سے دورہ چین ناکام رہا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اپنے مقدمہ صحیح طریقے سے پیش نہ سکے جس کا سارا نقصان خیبرپختونخوا کو ہوا۔ انھوں نے کہا کہ سی پیک میں وزیر اعظم نوازشریف نے ال پارتی کانفرنس اور خیبرپختونخوا کے ساتھ جو وعدے کیے اس میں صوبے کو کچھ نہ مل سکا۔ جو صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی کی واضح مثال ہے۔ باچا خان اور ولی خان کی برسی آئندہ 2018 کے انتخابات میں پختونوں کی کامیابی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ میاں افتخار حسین نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بائیس جنوری کوچارسدہ میں برسی میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں اور پوری پختون قوم سرخ جھنڈے تلے متحد ہوجائیں کیونکہ اے این پی ہی پختونوں کے حقوق کی ضامن ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان کی قیادت میں پارٹی ایک مضبوط قوت بن چکی ہے اور پختون قوم اب کہرے اور کوٹے کی تمیز کرسکتی ہے وہ کسی کے بلند و باگ دعووں اور تبدیلی کے نعروں سے مزید دھوکے میں نہیں ائے گی۔ پختون قوم تبدیلی کااصل چہرہ جان چکی ہے وقت کاتقاضا ہے ۔ کہ پختون قوم اب اپنی ہی جماعت کاساتھ دیں ۔اس موقع پر اہم تنظیمی امور کے بھی فیصلے کئے گئے۔ اور برسی میں ہر تپہ شرکت کویقینی بنائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر