درگئی ،ملاکنڈ تھری بجلی گھر کے ایمپلائز پر پابندی بلا جواز ہے ،مسعود الرحمان

درگئی ،ملاکنڈ تھری بجلی گھر کے ایمپلائز پر پابندی بلا جواز ہے ،مسعود الرحمان

درگئی ( نمائندہ پاکستان )مالاکنڈ تھری بجلی گھر کے ایمپلائیز یونین دو سالہ CBA کے باوجود پابندی بلا جواز اور غیر قانونی ہے ۔ مالاکند تھری پاور ہاؤس میں لیبر حقوق اور کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں منیجمنٹ کی ملی بھت سے یونین کو کل عدم قرار دینا قابل افسوس ہے ۔ متعلقہ حکومتی افسران نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے مالاکند تھری ایمپلائیز یونین چی بی اے پر پابندی لگانے کے لئے متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالا۔ گورنر خیبر پختون خوا، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا ، صوبائی وزیر قانون ، لیبر کورٹ ، پشاور ہائی کورٹ ، انسانی حقوق کمیشن اور دیگر متعلقہ حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل ۔ تفصیلات کے مطابق: مالاکنڈ تھری پاور ہاؤس ایمپلائیز یونین درگئی کے صدر مسعود الرحمان ، جنرل سکرٹری مصنف شاہ ، سینئر نائب صدر لعل محمد اور نائب صدر محمد اسلام نے یہاں درگئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختون خوا، وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا ، صوبائی وزیر قانون ، لیبر کورٹ ، پشاور ہائی کورٹ ، انسانی حقوق کمیشن اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ مالاکنڈ تھری ایچ پی سی کے منیجمنٹ کی ملی بھگت سے ان کے ایمپلائیز یونین جو گذشتہ دو سال سے سی بی اے کی حیثیت ھاصل کرچکی ہے پر غیر قانونی اور بلا جواز پابندی کا فوری نوٹس لیں اور کہا ہے کہ مالاکند تھری پاور ہاؤس میں لیبر حقوق اور مالاکنڈ تھری بجلی گھر میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں منیجمنٹ نے ملی بھگت سے یونین کو کل عدم قرار دلایا ہے اور متعلقہ حکام پر حکومتی دباؤ کے تحت ان کی سی بی اے حیثیت واپس لے لی گئی ہے جس کے خلاف مالاکند تھری بجلی گھر کے ملازمین نہ صرف عدالتی چارہ جوئی بلکہ احتجاجی تھریک سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ انہون نے کہا کہ متعلقہ حکومتی افسران نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے مالاکند تھری ایمپلائیز یونین سی بی اے کو کل عدم لگانے کے لئے متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالا جس کا صریحاً مطلت مزدوروں اور لیبر کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا ہے ۔ انہون نے کہا کہ مالاکنڈ تھری پاور ہاؤس کو حکومتی تحویل میں لے کر دیگر صوبائی حکومتوں کی طرح پیڈو خود اپریٹ کریں اور نہ صرف صوبائی وسائل میں اضافہ کریں بلکہ مزدوروں کو بھی ان کے تمام جائز حقوق اور مراعات دلائیں ۔ انہون نے کہا کہ مالاکنڈ تھری بجلی گھر کے ورکرز یونین نے 26مئی 2014کو سی بی اے کی حیثیت حاصل کرلی اور دو سال کے بعد جب یونین نے مالاکند تھری میں منیجمنٹ کے کرپشن بے نقاب کرنا شروع کردئے اور اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھائی تو اس کی پاداش میں ان کی سی بی اے حیثیت بلا جواز اور غیر قانونی طور پر واپس لے لی گئی ہے جو انہیں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر