پانامہ کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہئے، آرٹیکل 62,63 پر عمل نہ ہو اتو ملک کرپشن سے پاک نہیں ہو سکتا: سراج الحق

پانامہ کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہئے، آرٹیکل 62,63 پر عمل نہ ہو اتو ملک کرپشن سے ...
پانامہ کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہئے، آرٹیکل 62,63 پر عمل نہ ہو اتو ملک کرپشن سے پاک نہیں ہو سکتا: سراج الحق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہئے اور اگر اس کیلئے مزید الٹراساﺅنڈ، سی ٹی سکین اور لیبارٹریوں سے تعاون لینے کی ضرورت ہے تو ضرور لیں۔ 20 کروڑ عوام کیلئے آرٹیکل 62,63 پر عمل نہ ہوا تو ملک کرپشن سے پاک نہیں ہو سکتا۔

نیب مجھے دیں 3 ماہ میں بڑے بڑے چوروں کو پکڑ کر دکھائوں گا،عمران خان

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ہماری کوش ہے کہ پانامہ لیکس میں جتنے بھی لوگ ملوث ہیں ان سب کا احتساب ہو اور سب سے پہلے نواز شریف اور ان کے خاندان کا احتساب ہو اور اس کیلئے اداروں کو بلا کر ان کے ذریعے تمام دستاویزات کی تحقیقات کر کے حقائق تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکار بہت سارے وکلاءیہاں پر لائی ہے جس کا مطلب ہے کہ کافی ٹینشن موجود ہے اور میں سمجھتا ہوں حکومت مزید دلدل میں پھنستی جا رہی ہے۔

میاں صاحب میری تعریف کریں گے تو گبھرا جاﺅں گا،عمران خان

اس موقع پر انہوں نے طلباءتنظیموں کی بحالی کیلئے چیئرمین سینیٹ کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں کے ذریعے صاف ستھری قیادت ملتی تھی لیکن جب سے ان پر پابندی لگی تو بڑے بڑے جاگیردار اور جرنیل ہی سیاست میں آتے ہیں۔ یونین کا الیکشن پاکستان میں دوبارہ ہونا چاہئے اور سینیٹ نے اس پر زبردست موقف اختیار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی نے یونین کو بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ بحال نہیںکر سکے اور اب نواز شریف کی حکومت کا امتحان ہے کہ وہ اپنے دور میں کالجز اور یونیورسٹی میں یونین کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید : قومی /اہم خبریں