ریسٹورنٹ پر حملہ، مسلم لڑکے کو حملہ آوروں نے جانے کی اجازت دیدی لیکن اس نے اپنی 2 غیر مسلم دوستوں کے بغیر جانے سے انکار کر دیا، پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی بے مثال بہادری پر دنگ رہ جائیں گے

ریسٹورنٹ پر حملہ، مسلم لڑکے کو حملہ آوروں نے جانے کی اجازت دیدی لیکن اس نے ...
ریسٹورنٹ پر حملہ، مسلم لڑکے کو حملہ آوروں نے جانے کی اجازت دیدی لیکن اس نے اپنی 2 غیر مسلم دوستوں کے بغیر جانے سے انکار کر دیا، پھر کیا ہوا؟ جان کر آپ بھی بے مثال بہادری پر دنگ رہ جائیں گے

  

ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) یکم جولائی 2016ءکو ڈھاکہ میں پانچ مسلح اسلامی جنگجوو¿ں کے ایک ریسٹورنٹ پر حملہ میں 29 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن قتل و غارت کے اس موقع پر ہمت اور حوصلے کی کچھ ایسی لازوال داستانیں بھی سامنے آئیں جنہوں نے انسانیت کا سینہ فخر سے چوڑا کر دیا۔

آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے چینی سفیر کی ملاقات،دہشتگردی کیخلاف پاک فوج کی کوششوں کو سراہا

جب ریسٹورنٹ پر حملہ ہوا تو ایک 20 سالہ نوجوان فراز ایاز بھی وہاں کھانا کھانے کیلئے موجود تھا۔ امریکہ میں زیر تعلیم فرازڈھاکہ میں چھٹیاں منانے آیا تھا اور اس ریسٹورنٹ میں وہ اکیلا نہیں بلکہ اپنی دو سکول کی دوستوں، بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری ابنتا کبیر اور کیلیفورنیا میں زیر تعلیم ہندو طالبہ کیساتھ تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق فراز ابھی ریسٹورنٹ میں پہنچا ہی تھا کہ حملہ ہو گیا جس پر ڈرائیور نے ان کی والدہ کو فون کر کے حالات سے آگاہ کیا۔ فراز کے بھائی ظریف کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کا فون سننے پر میری والدہ فوراً میرے کمرے میں آئیں اور کہا کہ ”میں جا رہی ہوں۔“ اتنا کہنے کے بعد انہوں نے اپنی ”چادر لی، فون اٹھایا اور دوڑ پڑیں، میں ان کے پیچھے دوڑا۔“

ظریف کے مطابق جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو لوگوں نے بتایا کہ حملہ آور اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتے ہوئے اندر گئے ہیں جس پر ہمیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی مسلح ڈکیتی کی واردات یا کچھ اور نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات ہے۔ ظریف اور ان کی والدہ نے ایک ویٹر سے پوچھا فراز اور اس کی دوستوں سے متعلق پوچھا اور انہیں ان کی تصاویر دکھائیں جس پر ویٹر نے کہا کہ یہ تینوں ایک ٹیبل کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔

ویٹر نے مزید بتایا کہ حملہ آور غیر ملکیوں کو الگ رکھ رہے ہیں جبکہ بنگالی اور مسلمان سمجھے جانے والوں کو الگ رکھ رہے ہیں۔ ایسا سننا تھا کہ میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ ”فراز کی دوستوں تریشی اور ابنیتا کو جانے نہیں دیا جائے گا میں بہت خوفزدہ ہوں کیونکہ میں اپنے بیٹے کو جانتی ہوں اور وہ اپنے دوستوں کو چھوڑ کر نہیں جائے گا۔“

کھاد پر سبسڈی کا خاتمہ، تحریک انصاف نے حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیدیا

سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد فراز اور اس کی دونوں دوستوں کی لاشیں ملیں اور وہ سچ ہو گیا جو فراز کی والدہ نے کہا تھا۔فراز کے بھائی نے بتایا کہ بنگالی اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے فراز کو جانے کی اجازت مل گئی تھی لیکن شدت پسندوں نے اس کی دوستوں کو جانے کی اجازت نہیں دی جس پر فراز نے کہا ”میں انہیں چھوڑ کر نہیں جا رہا۔“

فراز کی اس بے مثال بہادری پر انہیں دنیا بھر میں خوب پذیرائی ملی اور انہیں سماجی انصاف کیلئے مدر ٹریسا میموریل ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔فراز کے دادا لطیف الرحمن کہتے ہیں کہ ”فراز بنگلہ دیش ہے، یہ ہے وہ جو ہم ہیں ہم دہشت گرد نہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس