حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ چھٹی قسط

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ چھٹی قسط
حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ چھٹی قسط

  

شاہدنذیر چودھری

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂنوشاہیہ کی خدمات

اس زمانے میں یہ خطہ کئی اولیائے کرام کی تعلیمات کا مرکز تھا اور ان کے آستانوں پر مخلوق خدا راہ ہدایت اور سلوک کی منازل طے کرنے کے لئے اکٹھی ہوا کرتی تھی۔ مثلاً گجرات میں مرد قلندر حضرت شاہ دولا دریائی اور شاہ حسینؒ ، مگھووال میں میاں حسو تارڑ اور میراں سیّد شریف خوارزمی، جاگو تارڑ میں میاں طاہر اور میاں مانا، تخت ہزارہ میں شاہ حسام الدین، کھارا مانگٹاں میں حضرت سلیمان چدھڑ، کیلانوالہ میں شاہ عبدالسلام، چک گھوگہ میں شاہ عبدالرحمن بخاری ؒ ، دریال میں شاہ مسکین قلندر وغیرہ۔ ان بزرگان دین کا روحانی فیض عام تھا۔

حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ نے حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کو نوشہرہ تارڑاں میں دین کی تبلیغ کرنے کی ہدایت کر دی اور آپؒ مرشد و مربّی کے حکم پر رشد و ہدایت کے فرائض ادا کرنے لگے۔ لوگ دور دراز سے آپؒ کی تعلیمات اورکرامات کا ذکرسن کر آنے لگے۔ آپؒ روحانی تربیت کے ساتھ مریدین اور عوام کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے جس کی وجہ سے آپؒ کی تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ پھیلنے لگا۔

ایک روز حسب معمول آپ مرشد و مربّی کی زیارت کے لئے گئے اور عرض کی ’’حضرت جی آپؒ کے حکم پر خاکسار نوشہرہ تارڑاں میں دین کی خدمت کا فرض ادا کر رہا ہے۔ میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا ہے۔ اگر اجازت ہو تو عرض کروں‘‘۔

حضرت سخی سلمان نوریؒ دھیرے سے مسکرائے۔ ’’حاجی محمد۔ ہم سے بات کرنے سے پہلے آپ کو اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘

’’حضرت جی میں اب نوشہرہ تارڑاں کو تبلیغی مرکز تو بنا رہا ہوں۔ کیا کسی اور جگہ یہ مرکز منتقل نہ کر دیا جائے‘‘۔ یہ کہہ کر آپؒ نے سر جھکا دیا۔ حضرت سخی سلمان نوریؒ دھیرے سے مسکرائے اور آپ کی کمر سہلاتے ہوئے فرمانے لگے ’’کوئی بات نہیں ہے۔ تمہیں جس بات کا دھڑکا ہے، خطرہ ہے، بے ادبی کا خیال ہے۔ تو یہ فیصلہ ہم آقائے دو عالم ﷺکے وسیلہ سے بارگاہ الٰہی میں پیش کریں گے‘‘۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

دراصل حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے ذہن میں خدشہ پیدا ہوا کہ ان کی بڑھتی ہوئی تبلیغی سرگرمیوں کی وجہ سے کہیں دوسرے بزرگان دین کے سجادہ نشینوں کو ناگواری محسوس نہ ہو۔ حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ آپؒ کا مدعا جان گئے اور کہا۔ ’’اچھا یہ معاملہ اب کل دیکھیں گے‘‘۔ اگلے روز نماز فجر کے بعد آپؒ نے حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کو اپنے حجرے میں بلایا اور نہایت پُرجوش انداز میں ان کا استقبال کیا پھر اپنے پہلو میں اپنی مسند پر بٹھا کر کہا ’’حاجی محمد آپ ساری فکریں چھوڑ دیں اور دین کی خدمت کے لئے خود کو وقف کر دیں۔ دربار رسالتؐ سے آپؒ کی منظوری مل گئی ہے‘‘۔ حضرت سیّد نوشہ گنج بخش ؒ نے عقیدت و احترام سے مرشد کے ہاتھوں کو بوسہ دیا تو حضرت سخی سرکارؒ بولے’’ حاجی محمد۔ آپؒ کے جانے کے بعد ہم رات بھر اللہ کے حضور آپؒ کے لئے دعا کرتے رہے۔ تہجد کے بعد آنکھ لگ گئی تو ہم نے خواب میں کیا دیکھا کہ تمہارے اور ان تمام بزرگوں کے درمیان چوگان کے کھیل کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ اللہ کے کرم سے تم گیند کو جو ضرب لگاتے ہو تو وہ سرزمین ہند سے باہر تک نکل جاتی ہے۔ اس کے بعد دوبارہ ضرب لگاتے ہو تو بخدا کیا دیکھتا ہوں گیند قندھار اور خراسان کی فضاؤں کو چیرتی ہوئی آگے ہی آگے نکل جاتی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کھیل میں شریک اس خطے کے تمام ولیوں کے چہروں پر مسکراہٹ کھل اٹھی ہے اور سب تمہیں ایسی زوردار ضربیں لگانے پر مبارکباد دے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس خواب کی جو تعبیر کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ ان بزرگوں کو تمہارے سلسلے کی تبلیغ پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا بلکہ وہ بصد احترام کہتے ہیں کہ شریعت و طریقت کی تبلیغ کرنے کے لئے تم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ لہٰذا اب تم چنداں پریشان نہ ہونا۔ یہی علاقہ تمہاری سرگرمیوں کا مرکز ہو گا اور یہ سلسلہ اب تمہاری اولاد تک جاری و ساری رہے گا۔ آج سے ہم آپؒ کو نوشہ کے نام سے بھی پکارا کریں گے‘‘۔ مرشد کی زبان سے نکلا یہ لفظ زبان زدعام ہو گیا۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ ۔۔۔ پانچویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

حضرت سخی شاہ سلمان نوریؒ قادریہ سلسلے کے ایک بااثر بزرگ تھے۔ قاعدے کے مطابق تو حضرت سیّد نوشہ گنج بخش ؒ خلافت حاصل کرنے کے بعد قادریہ سلسلے کو آگے بڑھانے کے نصب العین پر گامزن ہو گئے تھے لیکن مرشد کی ہدایت اور عام اجازت ملنے کے بعد ان کا سلسلہ طریقت قادریہ نوشاہیہ کہلانے لگا ۔آپؒ کا سلسلہ قندھار و خراسان سے ہندوستان تک پھیل گیا۔ آپ کو شریعت و طریقت کے تمام علوم پر دسترس حاصل تھی لہٰذا آپ ان اولیائے اللہ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے صرف روحانیت ہی کو مرکز نہیں بنایا بلکہ دین الٰہی کی بھرپور تبلیغ کا فریضہ انجام دیا۔ آپؒ تبلیغ کیلئے جس گاؤں سے گزرتے وہاں مساجد اور مدرسے تعمیر کراتے۔ آپؒ کے حلقہ ارادت میں پنجاب کی مقبول مذہبی و روحانی شخصیت ملاّ عبدالحکیم سیالکوٹی بھی شامل تھے۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے حضرت شیخ محمد ہاشم دریا دلؒ حضرت ملاّ عبدالحکیم سیالکوٹی کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اس تعلق کے علاوہ ملّا صاحب کی حضرت سیّد نوشہؒ کے علاوہ گہرا روحانی و قلبی تعلق تھا۔ حضرت سیّد نوشہؒ سیالکوٹ جاتے تو جہاں جہاں پڑاؤ کرتے وہاں دین الٰہی کی تبلیغ کرتے۔ اس زمانے میں سیالکوٹ کے بہت سے دیہات ہندوؤں اور سکھوں کی ملکیت تھے۔ حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی آمد پر ہندو اور سکھ آپُ کا حسن سلوک دیکھ کر ازحد احترام کرتے۔ ایک بار آپؒ سیالکوٹ جاتے ہوئے کالا گھمناں نامی گاؤں میں پہنچے۔ یہ چار ہندو بھائیوں کی جاگیر تھی۔ دوپہر کے وقت جب حضرت سید نوشہؒ کالا گھمناں پہنچے تو آپؒ نے گاؤں کے باہر ایک ڈیرے پر پڑاؤ ڈالا اور ڈیرے والوں سے پانی مانگا۔ یہ ڈیرہ اسی گاؤں کے زمیندار ہندو مالک کاتھا۔زمیندار خود پانی لانے لگا تو آپؒ نے کہا ’’بھئی دیکھو میں پہلی بار ادھر سے گزر رہا ہوں اور ابھی مجھے سل کوٹ جانا ہے۔ مسافت کافی ہے۔ نماز ظہر کا بھی وقت ہوا چاہتا ہے۔ مجھے پانی لا دو تاکہ میں وضو بھی کرنا چاہتا ہوں اور مجھے پیاس بھی لگی ہے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا میں پانی کسی مسلمان کے ہاتھ سے ہی پیؤں گا‘‘

زمیندار پریشان ہو گیا اور بولا’’بابا جی۔ میں تو ہندو ہوں۔ یہ گاؤں بھی ہندوؤں کا ہے‘‘۔ وہ لمحہ بھر کے لئے رکا اور اپنا تعارف کرانے کے بعد کہنے لگا’’ اس گاؤں کے مالک ہم چار بھائی ہیں۔ اس گاؤں میں صرف ایک ہی مسلمان گھرانہ ہے۔ میں ان سے پانی منگواتا ہوں‘‘ وہ ہندو نرم دل اور سمجھدار انسان تھا۔ اس نے مسلمان کو بلایا اور آپؒ کو پینے اور وضو کے لئے پانی مہیا کیا۔ آپؒ نے ہندو ڈیرے دار کی موجودگی میں ہی مسلمان سے کہا۔ ’’یارا، پانی تو ہم نے پی لیا اور وضو بھی کر لیا ہے۔ لیکن دیکھو اب ہم نے نماز بھی پڑھنی ہے اور تمہارے گاؤں میں کوئی مسجد بھی نہیں ہے۔ تم نماز کہاں پڑھتے ہو‘‘۔

’’حضرت جی یہاں سب اپنی اپنی نماز پڑھتے ہیں‘‘ مسلمان ملازم نے کہا۔

’’اچھا تو یہ بات ہے‘‘۔ آپ نے رنجیدہ ہو کر کہا’’ ٹھیک ہے بھئی۔ لیکن آج ہم جماعت کرائیں گے۔ مسلمان ہو تو رسول اللہ ﷺکی شریعت کے احکامات پر بھی عمل کرنا چاہئے۔ آؤ اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی بلا لاؤ۔ آج ہم یہاں نماز ادا کریں گے‘‘ ملازم نے جلدی سے باقی ماندہ دو تین مسلمان مردوں کو اکٹھا کیا اور آپؒ کے مریدین جو ہمہ وقت آپ کے ساتھ ہوتے تھے انہوں نے اذان بلند کی اور کالا گھمناں پہلی بار اللہ کے نام سے گونج اٹھا۔ اس دوران ہندو زمیندار نہایت تجسس و حیرت کی ملی جلی کیفیات سے آپ کو دیکھتا رہا۔ نماز کے بعد آپؒ نے محسوس کیا کہ کالا گھمناں کے ان معدودے چند مسلمانوں کو وضو کی تیاری اور نماز کی ادائیگی کا صحیح طریقہ بھی نہیں آتا لہٰذا آپؒ نے نماز کے بعد انہیں شعائر اسلامی سے آگاہ کیا۔ پھر زمیندار کو اپنے پاس بلا کر کہا’’ آپ بہت بھلے انسان ہو۔ بہتر ہو گا کہ آپ بھلائی اور خیر کے مذہب کی طرف آ جاؤ۔ اب ہمارا یہاں آنا جانا لگا رہے گا۔اب یا تو تم سب لوگ مسلمان ہو جاؤ تاکہ ہمیں یہاں قیام طعام اور معمول کی عبادات میں آسانی ہو سکے یا پھر ہمارے لئے ان مسلمانوں کوکوئی بندوبست کر نے دو‘‘۔ آپؒ کے پُراثر،پدرانہ اور شفیقانہ انداز کا ہندو زمیندار پر اثر ہوا اور اس نے اپنے باقی دو بھائیوں کو بھی بلایا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ تینوں بھائیوں نے اسلام قبول کر لیا تاہم انہوں نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا ’’سرکار۔ ہمارا چوتھا بھائی چونکہ ہماری برادری کے معاملات دیکھتا ہے۔ اس لئے ہم اسے اسلام قبول کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے ورنہ ہماری ساری برادری ناراض ہو جائے‘‘۔

’’اللہ والیو‘‘ آپ نے ازحد شفقت سے کہا ’’مسلمان ہو جانے کے بعد تم سب کی برادری ایک ہے۔ اسلام میں رنگ و نسل اور برادریوں کی وجہ سے امتیاز نہیں برتا جاتا۔ اگر آج تمہارا بھائی صرف تمہاری برادری کو یکجا رکھنے کی خاطر مسلمان نہیں ہونا چاہتا تو اس کا معاملہ اللہ پر ہے۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہ اکیلا ہی نہ رہ جائے‘‘۔ ہندو زمیندار اس وقت تو حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ کی اس حقیقت اور معرفت کی رمز کو نہ جان سکے لیکن ان کا بھائی جو مسلمان ہونے سے رہ گیا تھا اس کی نسل ہمیشہ ایک مرد تک محدود رہی۔ حتیٰ کہ پاکستان بننے کے بعد اس بھائی کی نسل بھارت چلی گئی۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ نے کالا گھمناں میں ایک مسجد تعمیر کی جو آج بھی موجود ہے۔ سارا گاؤں اسلام قبول کرنے کے بعد حلقہ ارادت میں آ گیا۔ سیالکوٹ کا یہ نواحی اور گھمن ذات کا ایک معروف گاؤں اب ایک بڑے قصبہ کی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔سیالکوٹ کا ائرپورٹ اس سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ حضرت سیّد نوشہ کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد نسل در نسل سے یہاں آبادہے۔

حضرت سیّد نوشہؒ نے ہندوستان میں تبلیغ اسلام کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا تھا اور تلوار کی بجائے دلوں کو فتح کرتے رہے۔ اولیاء اللہ کا اخلاق، سخاوت، ہمدردی، مساوات اور ان کی تبلیغ و کرامات نے ہندوستان میں اسلام کا بول بالا کیاہے۔ حضرت سیّد نوشہؒ رسول کریمؐ کے نقش پا پر چلتے ۔آپؒ نے اپنے ہر عمل کو محبوب خداؐ کے سانچے میں ڈھال رکھا تھا۔ وہ شاہانہ کی بجائے سادہ فقیرانہ زندگی اختیار کرتے۔ سخاوت اور تبلیغ آپؒ کی زندگی کے معمولات میں شامل تھی۔ آپؒ کے اوصاف اور قول و فعل دیکھ کر غیر مسلم آپ کی جانب کھچے چلے آتے تھے۔اور گاؤں کے گاؤں آپ کا حُسن سلوک دیکھ کردائرہ اسلام میں آجاتے۔ آپؒ کے سلسلہ میں چونکہ فیض کا اثر بہت تیز تھا لہٰذا آپؒ کے مریدین آپؒ سے تربیت پا کر ملکوں ملکوں جاتے اور اللہ کے دین کی حقانیت کا پرچار کرتے۔ آپؒ اردو، فارسی، عربی اور پنجابی میں اشعار کہتے اور اشعار کی مدد سے معرفت کے جہتیں کھولتے تولوگوں کے دلوں پر بہت زیادہ اثر ہوتا۔ صوفیانہ کلام کے حوالے حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ بلند فکر ممتاز ترین اور قادر الکلام شخصیت تھے۔ آپؒ کے اشعار آپؒ کی سوچ کا محور ہیں اور آج بھی صوفیانہ شاعری سے عقیدت رکھنے والوں کے لئے کشش رکھتے ہیں۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ بااصول زندگی گزارنے کا درس دیتے تھے لہٰذا جھوٹ سے نفرت اور سچ کی برتری کا پرچار کرتے تھے۔ آپؒ کی محفل میں آنے والا ہر کوئی برابر سلوک کا مستحق سمجھا جاتا ۔ امیر ہو غریب، لاغر ہو یا صحت مند، چھوٹا بڑا۔ آپ کے لئے وہ قابل احترام ہوتا اور آپ انہیں بے تکلفی سے ’’اللہ والیو‘‘ اور ’’یار‘‘ کہہ کر پکارتے ۔ آپؒ مہمانوں کی فراخدلی سے مہمان نوازی کرتے اور اپنے ڈیرے پر لنگر ہمہ وقت جاری رکھتے۔ آپؒ اکثر اپنے ہاتھوں سے مہمانوں کو کھانا تقسیم کرتے اور کہا کرتے۔ ’’یارو، مجھے ثواب لینے دو‘‘۔ آپؒ نیاز مندوں حاجت مندوں کو کھلے دل سے تحائف بھی دیتے اور ان کی طلب پوری کرتے۔ آپؒ توکل پسند تھے لہٰذا جو بھی گھر میں ہوتا حاجت مندوں کو پیش کر دیا کرتے۔ آپؒ کی یہ فیاضی دیکھ کر لوگ آپ کو گنج بخشؒ کہنے لگے۔ آپؒ اپنی اولاد کو جاہ و حشم سے روکتے ۔اگر کوئی نواب، جاگیردار یا شہنشاہ آپؒ کی اولاد کو کسی عہدے پر متمکن کرنا چاہتا تو آپؒ منع کر دیتے۔

حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ پہلے شریعت پھر طریقت کی تبلیغ کرتے تھے۔ نماز پنجگانہ پر سختی سے عمل کراتے اور خود امامت کراتے۔ البتہ کبھی خود بھی مقتدی بن جاتے اور مریدوں سے امامت کراتے رہتے۔ آپؒ اکثر فرماتے کہ دین اور شریعت کی پابندی سے دین و دنیا کی نعمتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ نماز اور شرعی احکامات کے بغیر قرب الٰہی ملنا ناممکن ہے۔ آپ کا ایک پنجابی شعر ہے۔

(جاری ہے۔ ساتویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : ادب وثقافت